عیسائیوں کی طرف سے
اعتراض (objection) ہے کہ اللہ کو المتکبر (غرور اور تکبر کرنے والا) الجبار ( جبر کرنے والا) القهار ( قہر کرنے والا )الخافض (نیچا دکھانے والا) المذل ( ذلیل کرنے والا) المميت (مارنے والا ) المؤخر (دور رکھنے والا) الضار ( دکھ اور مصیبت برپا کرنے والا) کہا گیا ہے
یہ نام ظاہر کرتے ہیں اللہ کس طرح آسمانی خدا باپ سے مختلف ہے جو مسیح نے ظاہر کیا ہے۔
اور توریت میں خدا کو یوں ظاہر کیا گیا ہے کہ خداوند،خدائے رحیم، مہربان، قہر کرنے میں نرم ، شفقت اور وفا میں غنی ہزاروں پر فضل کرنے والا ،گناہ اور تقصیر اور خطا کا بخشنے والا لیکن وہ مجرم کو بری نہ کرے گا۔
جواب :
اس کے تین طریقے پر جواب دیے گئے ہیں
ہر ایک وضاحت کے ساتھ یہ ہے۔
نمبر1۔مولانا بشیر احمد حسینی لکھتے ہیں اللہ تعالی کے صفاتی نام (ATTRIBUTE NAMES OF GOD)کا صحیح مطلب و مفہوم(Correct meaning and concept) حضرت علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ نے یوں تحریر فرمائے ہیں سیرت النبی (جلد نمبر٤ .تحت توحید صفحہ ۔٥٠٩) المتکبر( بڑائی دکھانے والا) الجبار( جس کے سامنے دوسرا کوئی ٹک نہ سکے )(جس کے حکم کے خلاف کوئی نہ کر سکے ) القهار( اس کے حکم سے کوئی باہر نہ جا سکے) الخافض( کفر کو نیچا کرنے والا) المذل( ذلت دینے والا) المميت( مارنے والا) الضار( نقصان پہنچانے والا) المؤخر( سب سے پیچھے رہ جائے گا)
قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالی یہ ارشاد فرماتے ہیں وان الله لیس بظلام للعبيد اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے (آل عمران ۔١٨٢) اور ایک جگہ ان الله بالناس لرؤف الرحيم اللہ بندوں پر شفقت کرنے والا ہے (البقرہ .١٤٣)
جواب٢ . اب عیسائیوں کے الہامی کتاب بائبل میں بھی اللہ کو قہار کہا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے عیسائیوں کا اعتراض(OBJECTION )قرآن پاک پر نہیں بلکہ اپنی مذہبی کتاب پر ہے
ہر ایک کو مثال سے سمجھۓ
معترض (OBJECTER) نے جو اللہ تعالی کے صفات (attributes of God) کے بارے میں لکھا ہے مقصد اس سے چونکہ اس سے صفات باری تعالی کی طرف برائی منسوب ہوتی ہے اس لیے یہ صفات صحیح نہیں ہے
افسوس کی بات ہے معترض( OBJECTER ) بائبل سے بے خبر ہے کیونکہ بائبل میں بھی اللہ کی طرف یہ نسبتیں پائی جاتی ہیں
چند مثالیں یہاں پر ہیں
نمبر 1
(تب اللہ نے کہا آدمی کا منہ کس نے بنایا؟ اور کون گونگا بہرہ بینا یا اندھا کرنے والا ہے؟ کیا میں ہی جو خداوند ہوں یہ نہیں کرتا؟)( خروج ١١:٤)
نمبر ٢ ۔میں ہی روشنی ،تاریکی، سلامتی اور مصیبت کو پیدا کرنے والا ہوں ۔میں ہی خداوند یہ سب کچھ کرنے والا ہوں)۔(یسعیاہ ٧:٤٥)
نمبر ٣ (خداوند مارتا اور زندہ کرتا ہے وہی قبر میں اتارتا اور اس سے نکالتا ہے خداوند مسکین کر دیتا ہے اور دولت مند بنا دیتا ہے وہی پست اور سرفراز بھی کرتا ہے )(اسموئیل ٦٢:٧)
ان تینوں مثالوں میں انہی صفات کا تذکرہ ہے جن پر اعتراض کیے گئے ہیں المميت المذل الخافظ
آگے اور چند مثالیں ہیں
( اس نے عذاب کے فرشتوں کو بھیج کر اپنی قہر کی شدت غیض و غضب اور مصیبت کو ان پر نازل کیا(زبور٤٩:٧٨)
جواب3 الغرض اسلامی صفات الہیہ پر اعتراض کرنے کسی مسیحی (Christian)کو زیب نہیں دیتا
قرآن پاک میں اس بات کے متعلق یوں ارشاد ہے : حسنہ ؛ سیئہ ؛ دونوں من جانب اللہ ہیں جب انسان کو حسنہ ملے تو اسے باری تعالی کی طرف سے سمجھے اور جب اسے سیئہ ملے تو اسے اپنے نفس کی طرف سے جانے(النساء ۔٧٩)
سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بھی اسی بات کو یوں ظاہر فرمایا کھانے پینے اور شفا کی نسبت باری تعالی کی طرف اور بیماری کی نسبت اپنی طرف فرمائی
سوال میں جو توریت میں صفات الہیہ( ATTRIBUTES OF GOD)مذکور ہے وہ ہمارے قرآن میں شروع ہی میں بسم اللہ الرحمن الرحيم پر دونوں صفاتی نام رحمن اور رحیم مذکور ہیں اور قرآن پاک میں اپنی ذات پاک کو غفور الرحیم کہا اور عذاب کو اپنی ذات قرار نہیں دیا بلکہ اپنا فعل قرار دیا اس نرالے بیان سے ظاہر ہوا اللہ کی ذات غفور الرحیم ہے عذاب ذات نہیں بلکہ فعل ہے (الحجر ٤٩,٥٠)نیز باری تعالی کا ارشاد ہے کہ میں اپنی ذات پاک پر رحمت فرمانا فرض کر لیا ہے(الانعام٥٤,١٢) سارے قرآن مجید میں یہ کہیں نہیں فرمایا اللہ نے اپنے اوپر عذاب کرنا فرض کر لیا ہے۔