جواب: 

اگر خدا ہر چیز پر قادر نہیں تو قادر مقید ہوگا(بعض پر قدرت ہے بعض پر قدرت نہیں)پھر اس کے اوپر ضرور قادر مطلق ہوگا کیونکہ عقلمندوں کا اتفاق ہے ہر مقید کے لیے ایک مطلق ضروری ہے لہذا اگر خدا قادر مقید ہے تو اس سے اوپر قادر مطلق ماننا پڑے گا اب چونکہ معترض کے اعتراض کی بنا پر قادر مطلق کے لئے ضروری ہے کہ خود کو بھی مارنے پر قادر ہو اور جب نعوذ باللہ خدا کا خود کو مارنے پر قدرت ہوئی جلانے پر بھی قادر ہوگا
بلکہ یوں کہئے خدا اسی کا پیدا کیا ہوا اور جلایا ہوا ہے
کیونکہ اپنی دی ہوئی صفت کوئی چھین سکتا ہے ،دوسری کی دی ہوئی صفت کو کون چھین سکے گا ؟
مثال۔۔ آفتاب اپنی حرکت سے نور کو زمین سے چھین سکتا ہے لیکن چاند سورج کی دی ہوئی روشنی کو نہیں چھین سکتا اور ظاہر ہے کہ وجود اور زندگی دونوں صفتیں ہیں جو ان کو کسی سے چھین لے یوں سمجھو کہ اسی نے دی ہوں گی۔ اس صورت میں خدائی کیا ٹھہری.
چوری کا جواب۔۔ چوری کے لئے مال غیر چاہیے اور پوری دنیا کا مالک خدا ہے دنیا میں کمایا ہوا مال برائے نام کمانے والے کا ہوتا ہے اصل خالق حقیقی خدا ہے لہذا چوری کی نسبت اور تصور اللہ تبارک و تعالی کی طرف غلط ہے۔