جواب:
عام طور پر لوگ حجاب کو صرف عورت کے لیے سمجھ کر بحث کرتے ہیں لیکن قرآن کریم میں اللہ تعالی مردوں کے حجاب کو عورتوں کے حجاب سے پہلے بیان کیا ہے چنانچہ سورۂ نور آیت 30 میں مذکور ہے قل للمؤمنين يغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم .ذلك ازكى لهم. ان الله خبير بما يصنعون
ترجمہ: اور ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہوں کی کو نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے۔
لہذا ایک مرد کی نکاح جب کسی غیر محرم خاتون پر پڑے تو اسے اپنی نظر جھکا لینی چاہیے۔
اس کے بعد والی آیت میں عورتوں کو پردے کے کرنے کا حکم دیا گیا۔
سمجھنا چاہیے کہ قرآن و سنت کے مطابق پردے کے کچھ معیار (standards )ہیں جیسے جسم کا مکمل ڈھکنا ،کپڑے ڈھیلے پہننا اور کپڑے زیادہ باریک نہ ہونا جس سے جسم دکھائی دے۔
آخر عورت کے لیے پردے کا حکم کیوں دیا گیا؟
اس کا جواب سورۂ احزاب میں آیت نمبر 32 تا 59 میں بیان کیا گیا ہے يا ايها النبي قل لازواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن. ذلك ادني ان يعرفن فلا يؤذين .وكان الله غفورا رحيما
ترجمہ اے نبی اپنی بیویوں ،بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دیجئے وہ گھر سے باہر اپنے اوپر چادر ڈال لیں یہ بات ان کے لیے زیادہ قریب ہے کہ وہ حیا دار مومنات کے طور پر پہچانی جا سکیں اور انہیں تکلیف نہ دی جا سکے (کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کر سکے )اور اللہ بہت معاف کرنے والا ہے نہایت مہربان ہے۔
اب اگر دیکھا جائے مغربی دنیا (Western world)میں کس طرح عورت کی عزت لوٹی جاتی ہے بس اس کا تذکرہ کرنے کی ضرورت نہیں اس سے سب واقف ہیں۔
لہذا فطری( natural)طور پر اسلامی شریعت, معاشرے میں سکون کا ذریعہ ہے لہذا اسلام میں عورتوں کے لیے حجاب کا ہونا اور عورتوں کے مرتبہ کو کم نہیں کرتا بلکہ اونچا کرتا ہے اور اس کی حیا اور پاکدامنی کی حفاظت کرتا ہے اور اسے اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ وہ ایک قیمتی چیز ہے اور قیمتی چیز کو چھپا کر رکھا جاتا ہے نہ کہ ظاہر کیا جاتا ہے۔