جواب:
بہت سارے ناقدین(critics) الزام لگاتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قرآن خود تصنیف کی ہے۔ بلکہ انہوں نے دوسرے انسانی ذرائع سے یہ یا سابقہ الہامی کتابوں سے حاصل کیا ہے بعض تو یہ کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی شخص سے قرآن کریم سیکھا ہے۔
اس کے متعلق نقلی و عقلی دونوں طرح کے جوابات دیکھیے انشاء اللہ سمجھ میں آجائے گا۔
اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے وما ينطق عن الهوى ۔ان هو الا وحي يوحى ۔علمه شديد القوى الى فاوحى الى عبده ما اوحى (سورۃ النجم آیت 3 تا 10) اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا گیا جو کچھ بات آپ کہتے ہیں سب اللہ کے جانب سے وحی ہوتا ہے جس کو جبرائیل امین لے کر اتتے ہیں۔
دوسری جگہ فرمایا گیا ولقد نعلم انهم يقولون انما يعلمه بشر لسان الذي يلحدون اليه اعجمي وهذا لسان عربي مبين (سورۃ النحل 103 )
ترجمہ۔ ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دیہاتی شخص قرآن سکھاتا ہے جبکہ اس کی زبان جس کی طرف یہ لوگ غلط نسبت کرتے ہیں عجمی ہے اور قرآن واضح فصیح عربی زبان میں ہے۔
ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ قرآن وحی الہی ہے۔
رہی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا بائبل سے نقل کیا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو عیسائی اور یہودی ایمان کیوں نہ لے اتے ؟ان کو اختلاف کرنے کی ضرورت نہیں تھی جبکہ تاریخ گواہ ہے یہودی اور عیسائیوں نے آپ کی مخالفت کی جو آج تک جاری ہے۔
جو چیزیں بائبل میں پائی جاتی ہیں اگر وہ چیز قرآن میں پائی جائے تو ضروری نہیں کہ دوسری کتاب پہلی سے حاصل کیا گیا ہو اور بائبل تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھپایا ہوا بھی نہیں تھا آپ کی وفات کے تقریباً 250 سال بعد پادری سعدیاس گون(Saadias gaon) نے چھپایا تھا. لہذا یہ کہنا کہ قرآن بائبل سے حاصل کیا گیا ہے یہ غلط ہے۔