جواب:
قران کریم میں سورۂ بقرہ آیت نمبر 34 میں بیان کیا گیا ہے واذ قلنا للملائكة اسجدوا لادم فسجدوا الا ابليس ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ ادم علیہ السلام کوسجدہ کرو۔ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے ۔
اسی طرح سورۃ الکہف کی آیت نمبر 56 میں ہے واذ قلنا للملائكة اسجدوا لادم فسجدوا الا ابليس. كان من الجن ففسق عن امر ربه اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ ابلیس جنات میں سے ہے اور صحیح جواب یہی ہے کہ ابلیس جنات میں سے ہے۔
سورۂ بقرہ والی آیت کا مطلب ایک مثال سے سمجھیے عربی گرامر میں ایک قاعدہ تغلیب کے نام سے مشہور ہے جس کے مطابق اگر اکثریت سے خطاب کیا جا رہا ہو تو اقلیت بھی خود اس میں شامل ہوتی ہے مثال کے طور پر ایک کلاس میں 100 طالب علم ہیں 99لڑکے اور صرف ایک لڑکی اگر کوئی عربی زبان میں یہ کہے کہ سب لڑکے کھڑے ہو جاؤ تو اس کا اطلاق لڑکی پر بھی ہوگا۔
الگ طورپر اس سے مخاطب ہونے کی ضرورت نہیں ہے اسی طرح سورۂ بقرہ کی آیت میں یہ ہے فرشتوں سے اللہ مخاطب ہوا تو اس خطاب میں ابلیس خود بخود شامل ہو گیا اس کا ذکر الگ سے کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ اس آیت سے ابلیس کے جن ہونے کے متعلق کچھ ملے نہ ملے لیکن سورۃ الکہف کی جو آیت ہے اس سے صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ وہ جنات میں سے تھا۔
اور یہ بھی قابل غور بات ہے اللہ نے جناتوں کو ارادہ اور اختیار دیا ہے نہ کے فرشتوں کو۔ فرشتے تو اس کے حکم کے پابند ہیں کبھی اس کے حکم کے خلاف کر نہیں سکتے۔ لیکن جنات اس کے حکم کے پابند نہیں کبھی وہ اطاعت کرتے ہیں کبھی نافرمانی کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ ابلیس جنات میں سے ہے اس لیے کہ اس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی تھی۔