جواب:

تفسیر ابن کثیر میں ہوا کے مسخر ہونے کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے کہ سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک لکڑی کا بہت بڑا وسیع تخت تھا سلیمان علیہ السلام اپنے اعیان سلطنت اور لشکر و آلات حرب کو لے کر اس پر سوار ہو جاتے جہاں جانے کا ارادہ ہوتا ہوا کو حکم دیتے ہو لے کر وہاں پہنچا دیتی وہ دن بھر میں دو مہینے کا سفر طے کرتے۔
ابن ابی حاتم سے روایت ہے سعید بن جبیر کے حوالے سے کہ سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام اس دوران مسلسل ذکر میں مشغول رہتے اور پرندے تخت پر سایہ کیے ہوئے ہوتے ہیں تاکہ دھوپ کی تپش نہ پڑے (معارف القران جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 212)