اعتراض:
موسی علیہ السلام کا سمندر میں عصا مار کر پار ہونا اور فرعون کا اس کے بعد غرق ہو جانا یہ موسی علیہ السلام کا عصا مارنے کے وجہ سے ہوا ہے یہ غلط ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ اس وقت دریا کا پانی اترا ہوا تھا جس وقت بنی اسرائیل کا گزر ہوا اور جب فرعون آیا تو اس وقت دریا کا پانی چڑھاؤ تھا وہ لوگ سب ڈوب کر مر گئے ۔
دوسری دلیل حکیم بطلیموس نے لکھا ہے جو دوسری صدی عیسوی میں مصر میں رہا کرتا تھا اس لیے وہ بحر احمر سے زیادہ واقف تھا اس نے بحر احمر کا نقشہ لکھا تھا جو سنہ1618 عیسوی میں لوئس سیزدہم شاہ فرانس کے زمانے میں چھاپا گیا تھا ۔
اس میں 30 جزیرے (Islands) بحر احمر میں نام کے ساتھ بتلائے گئے۔ اب وہ جزائر (islands)نہیں رہے کیونکہ جیولوجی( geology) سے یہ بات ثابت ہے کہ جزیرے (Islands)بعض اسباب سے ہلاک ہو جاتے ہیں پھر اچانک کبھی نکل آتے ہیں اس سے ثابت ہوا بحر احمر کا وہ زور و شور نہیں تھا جو اس زمانے میں ہے ۔اس سے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ بنی اسرائیل جس مقام سے اترے تھے وہ بلا شبہ جوار(tide) کے سبب رات کو وہاں سے پانی اتر جاتا تھا اور دن کو اس جگہ پانی چڑھ جاتا ہوگا موسی علیہ السلام کو پانی اترنے کا راستہ معلوم تھا موسی علیہ السلام پار ہو گئے جب فرعون ان کو پار ہوتے ہوئے دیکھا تو راستہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اس نے اپنے لشکر کو اتار دیا جس کی وجہ سے پانی بڑھ گیا اور وہ ڈوب گیا۔
جواب:
(1)اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اس زمانے میں نقشہ (Map)بطلیموس کے نقشہ کے مطابق ہو۔
(2) یہ کیا ضروری ہے بطلیموس کے زمانے میں( جو موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا ہزاروں برس بعد پیدا ہوا ہے) وہ بحر قلزم ویسا ہی ہو جو موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں تھا جیولوجی (geology) کے قواعد (Rules)کے اعتبار سے ہو سکتا ہے نئی حالت پیدا ہو گئی ہو۔
(3)یہ سب تسلیم کر لیا جائے تو اس کا کیا ثبوت ہے کہ بنی اسرائیل بحر قلزم کی نوک پر سے گزرے تھے جہاں ایسا کنارہ تھا کہ پانی خشک ہو جاتا تھا۔
(4) اگر یہ تھا تو فرعون کو اس کنارے کا کیسے علم نہ تھا اور جب کہ اس کے ساتھ ہزاروں اس ملک کے حالت سے واقف لوگ موجود تھے تو فطرت کے قانون کا تقاضہ یہ تھا کہ وہ کنارے سے بھی دو چار میل ہٹ کر گاڑیوں کو خشک زمین سے لے کر نکلتا۔
(5)اگر کنارہ پاس تھا تو بنی اسرائیل پر کیا مصیبت پڑی تھی کہ وہ اس جگہ سے راستہ پار کیے جہاں سے پانی اترا تھا اس لیے کہ جہاں پانی اترا ہوا ہو وہاں کیچڑ تو کم از کم رہتا ہی ہے جس میں چلنا بلکہ بھاگنے اور خوف کے وقت میں اور بھی مشکل ہو جاتا ہے لہذا یہ تمام کے تمام تاویلات(Interpretations) غلط ہیں قرآن مجید صاف طور پر اس معجزہ کو بیان کرتا ہے اور اس معجزہ کے حق ہونے کو بتلاتا ہے۔