سوال:

یہ بات قابل تسلیم نہیں کہ قرآن کریم بلاغت(Eloquence) کے انتہائی درجہ پر پہنچا ہوا ہے جو انسانی قدرت سے باہر ہے ۔اگر ہم مان بھی لیں تو یہ قرآن کریم کے معجزہ (miracle )ہونے کی ناقص دلیل ہے۔ کیونکہ اس کی پہچان صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس کو عربی زبان و لغت عرب پر پوری مہارت ہو۔اس سے یہ بھی لازم اتا ہے کہ وہ کتابیں جو یونانی زبانوں میں بلاغت کے اعلی معیار تک پہنچی ہوئی ہیں انہیں بھی آسمانی کتابیں مانی جائیں۔

جواب:

 قرآن کریم کی عبارت کو بلاغت کے اعلی درجہ تک پہنچا ہوا نہ ماننا سوائے ہٹ دھرمی کے کچھ بھی نہیں۔ رہی یہ بات اس کی پہچان صرف عربی زبان پر ماہر شخص کر سکتا ہے درست ہے۔ لیکن اس سے ان کا دعوی ثابت نہیں ہوتا اس لیے کہ یہ معجزہ بلغاء و فصحاء( Passover )کو عاجز کرنے کے لیے تھا اور وہ صرف عاجز نہیں ہوئے بلکہ مقابلہ ہی نہیں کر پائے اور اپنے عاجزی کا اقرار بھی کیے۔
اب رہی بات عوام کی انہوں نے لاکھوں اہل زبان اور علماء کی گواہی سے یہ بات معلوم کر لی لہذا اس کا معجزہ ہونا یقیناً ثابت ہوا اور یہ دلیل کامل سے ہے نہ کہ ناقص سے‌۔

 دوسری بات مسلمان یہ دعوی کب کیے کہ قرآن کریم کے کلام کلام اللہ ہونے کا سبب صرف اس کا بلیغ ہونا ہے بلکہ ان کا دعوی یہ ہے بلاغت قرآن کے کلام اللہ ہونے کے بے شمار اسباب میں سے ایک سبب ہے اور قرآن کریم اس لحاظ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ ہے۔ جو آج تک ماہرین لغت عرب کے نزدیک ظاہر ہے اور اس جیسی آیت لانے سے مخالفین آج بھی عاجز ہیں۔

٢.وہ تمام کتابیں جو دوسری زبانوں میں بلاغت کے اعلی معیار تک پہنچی ہوئی ہیں ان کو بھی کلام اللہ مانیں یہ بات قابل تسلیم نہیں ہے اس لیے کہ ان کتابوں کا بلاغت کے اعلی مرتبے کو پہنچ جانا کلام اللہ کے وجوہات میں سے نہیں نہ مصنفین (authors)کی جانب سے اس اعجاز کا دعوی ہے نہ اس زبان کے فصحاء اس جیسے کلام سے عاجز ہوئے پھر بھی اگر کوئی اپنی کتاب کے متعلق دعوی کرے تو اسے ثبوت پیش کرنی ہوگی۔