جواب:

شک میں مبتلا لوگ سوال کرتے ہیں اگر خدا واقعی ہر چیز پر قادر ہے تو اُس نے انسان کو اتنا کمزور سیکھنے کا محتاج اور نامکمل کیوں بنایا؟ شعور تو جانوروں کے پاس بھی ہوتا ہے تو صرف انسان ہی کیوں خدا کی پہچان کرے؟”

اس کا بہت آسان سا جواب ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے تو اتنا مشکل وسوسہ نہیں ہے
خدا کی تخلیق مکمل ہے کیونکہ ہر چیز اپنے مقصد کے لیے ہے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا اسے اپنی فطرت اور مقصد کے ساتھ مکمل پیدا کیا۔
ایٹم ہو یا کہکشاں، پہاڑ ہو یا پانی، جانور ہو یا فرشتہ ہر چیز اپنے کردار پر مکمل ہے اور ویسے ہی چل رہی ہے جیسے اسے بنایا گیا لَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ اللہ وہ ہے جس نے ہر چیز کو خوبصورتی کے ساتھ پیدا کیا – (سورہ سجدہ آیت: 7)

الیکٹران کبھی پروٹون کا کام نہیں کرتا
سورج کبھی زمین کی طرح گھومتا نہیں
جانور کبھی انسانوں کی طرح اخلاقی فیصلے نہیں کرتے
تو سوال یہ نہیں کہ تخلیق مکمل کیوں نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ آپ کی نظر کس چیز پر ہے؟ مقصد پر یا اپنی خواہش پر؟

انسان کو اللہ نے نہ فرشتہ بنایا نہ جانور بلکہ ایک بااختیار مخلوق بنایا جو عقل رکھتی ہے خیر و شر کو پہچان سکتی ہے فیصلے کی آزادی رکھتی ہے اور پھر اس کی بنیاد پر جواب دہ بھی ہے۔ اسی لیے انسان شعور کا اعلیٰ ترین درجہ رکھتا ہے۔
جانوروں کو سکھا کر اگر سجدہ کروا لیا جائے تو کیا وہ ارادے سے کر رہے ہوتے ہیں؟ نہیں۔ بلکہ وہ جبلت سے کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن انسان جب خدا کو پہچان کر خود جھکتا ہے تو وہی سب سے بڑی بندگی بنتی ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو نامکمل اس لیے نہیں بنایا کہ وہ کمزور ہے بلکہ اس لیے کہ وہ امتحان میں ہے۔ اگر انسان پہلے سے مکمل ہوتا تو اس کے فیصلوں کا کیا معنی ہوتا؟ نیکی اور برائی کی آزادی کیسے ہوتی؟ جزا اور سزا کا تصور بے معنی ہو جاتا۔
تھوڑی سی دیر کے لیے سنجیدہ ہو کر سوچھین کہ اگر جانوروں کو سکھا کر سجدہ کروا دیا جائے تو کیا وہ خیر و شر اخلاق اور نیت کے تصورات کو سمجھ سکتے ہیں؟
اور اگر انسان کا شعور اتنا ہی بے کار ہے تو سائنسی ایجادات اخلاقی نظام قانون آرٹ اور فلسفے کی بنیادیں کہاں سے آئیں؟
لہذا اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی نقص نہیں ہر چیز اپنے مقصد کے لحاظ سے مکمل ہے۔ اور جانوروں کے پاس جبلت ہے وہ اپنی جبلت پر چلتے ہوئے اپنے خالق و مالک اطاعت و تسبیح میں ہیں۔ ارشاد فرمایا: تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّؕ-وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰـكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا(سورۃ اسراء: 44) ساتوں آسمان اور زمین اور جو مخلوق ان میں ہے سب اسی کی پاکی بیان کرتے ہیں اور کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد بیان کرنے کے ساتھ اس کی پاکی بیان نہ کرتی ہو لیکن تم لوگ ان چیزوں کی تسبیح کو سمجھتے نہیں بیشک وہ حلم والا، بخشنے والا ہے۔