جواب :
دنیا کے ہر مذہب اور دستور کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں اور ان مقاصد کے حصول کے لیے کچھ حدود اور قیود کا خیال رکھا جاتا ہے جس کو ماننا اس دستور کے پیروکاروں کے لیے ضروری ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر مقاصد کی تکمیل ناممکن ہوتی ہے اسی طرح دین اسلام کا ایک مقصد تحفظ عزت اور تحفظ نسل ہے جو کہ ایک حیا دار معاشرے کی تشکیل کے بغیر ممکن نہیں ہے اسی بنا پر اسلام نکاح کا حکم دیتا ہے اور زنا کی روک تھام کے لیے شرعی سزا کے نفاذ کا حکم دیتا ہے اسی مقصد کی تکمیل کے لیے اسلام نے کچھ حدود اور قیود لاگو کی ہے جس میں سے عورت کے لیے گھر میں رہنے کا حکم اور ضرورت ہو تو مکمل باپردہ ہو کر گھر سے باہر نکلنے کا حکم دیا ہے تاکہ عورت کی زیب و زینت کی زیبائش نہ ہو اور معاشرہ بے حیائی اور بے راہ روی کا شکار ہونے سے بچ سکے جو لوگ پردہ کو عورتوں پر ظلم سمجھتے ہیں وہ خود تجربہ کر کے دیکھ لیں جہاں پردہ نہیں ہے وہاں زبانی دعوے جو کچھ بھی ہو لیکن مطلق زنا سے حفاظت نہیں ہے نیز قید و ظلم خلاف طبیعت امر پر انسان کو پابند کرنے کو کہتے ہیں لیکن پردہ عورت کے لیے ایک طبعی امر ہے ہر عورت چاہتی ہے کہ اس کی عزت کی حفاظت ہو کوئی اس کی آبرو ریزی کی طرف ہاتھ نہ بڑھا سکے تجربہ شاہد ہے کہ جو خواتین بے پردہ ہو کر نکلتی ہے عموما وہی اس طرح کے مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔