جواب :
عورت کو ناقصۃ العقل کہنے کا مطلب عقلِ شرعی ہے اور عورتوں میں بہت زیادہ عقلِ عرفی ہوتی ہے خود حدیث میں ہے کہ یہ عورتیں اذھب للب الرجل الحازم من احداکنہوشیار مرد کو بھی بوتل میں اتارنے والیاں ہیں ،گھر میں بھی اس کی حکومت چلتی ہے اور باہر بھی اس کی حکومت چلتی ہے ہاں! عقل شرعی کی کمی ہوتی ہے اور عقل شرعی کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نتائج کو نہ سوچے تو آدمی نتیجے پر غور نہیں کرتا تو اسے نقصان ہوتا ہے جیسے عورت کہتی ہے کہ فلاں موقع آرہا ہے اور اسی پر ہمیں اتنا خرچ کرنا ہے ،ختنے میں اتنا خرچ کرنا ہے، شادی میں اتنا خرچ کرنا ہے، منگنی میں اتنا خرچ کرنا ہے اور فلانی رسم میں اسی طرح ہونا چاہیے تو شوہر اور باپ کے مال کو انہی چیزوں میں اڑاتی ہے اسی معنی میں ان کو ناقصات العقل کہا گیا ہے کہ نتائج کو وہ نہیں سوچتیں۔