جواب :
دنیا کے مذاہب اور اسلام کے قوانین میں بہت بڑا فرق ہے دنیا کے بیشتر مذاہب کا حال یہ ہے کہ ان کے ماننے والوں کا رشتہ اپنے مذہب سے کٹ چکا ہے ان کے وہاں صرف دو چیزوں میں مذہب کی حکمرانی قائم ہے ایک عبادت اور پوجا پاٹ دوسرے تیوہار اور قدیم زمانے سے مروج مذہبی تقریبات اس کے علاوہ زندگی کے دوسرے شعبوں سے مذہب کو نکال باہر کر دیا ہے اس کے بر خلاف مسلمان اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ ہم پر صرف عبادات یعنی نماز روزہ حج و زکوۃ ہی میں احکام شریعت کی پابندی ضروری نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام مسائل میں اس کی دنیا و آخرت کی بھلائی احکام شریعت کی پیروی سے جڑی ہوئی ہے یعنی 24 گھنٹے کا غلام ایسا غلام جو ہر چھوٹا بڑا کام اپنے آقا کے اشارے پر کرتا ہو لہذا قانون شریعت اور دوسرے مذہب کے قوانین کے درمیان تین بنیادی فرق ہیں ۔
پہلا فرق یہ ہے کہ اسلام کے قانون میں قانون کا ماخذ اللہ تعالی کی ذات ہے دیگر مذاہب میں خود انسان کی عقل ہے یا خواہش کو قانون کا ماخذ مانا گیا ہے۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ اسلام کاقانون انسان کی فطرت پر مبنی ہے نہ کہ انسانی خواہش پر۔
تیسرا فرقہ یہ ہے کہ اسلامی قانون میں اصل اہمیت عدل کی ہے یہ تمام اسلامی قانون خود اللہ تعالی نے بنائے ہیں جس کو قرآن کہتے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سمجھا تے ہیں اس کو احادیث کہتے ہیں لہذا جو قوانین انسانوں کو پیدا کرنے والے رب نے بنائے ہو اس میں وقت اور زمانے کے لحاظ سے تبدیلی کرنا انسان کے لیے جائز نہیں ہے اور نہ انسانوں کی ضرورت ہے ورنہ دیگر مذاہب کی طرح اسلام کے قوانین بھی انسانی خواہش پر مبنی ہو جائیں گے۔