جواب :
اگر اللہ تعالی چاہتے تو ایسا کر سکتے تھے کہ تمام انسانوں کو ہدایت نصیب کر دیتے لیکن اس صورت میں وہ آزمائش نہ ہوتی جو انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہے انسان کی آزمائش تو اس میں تھی کہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر پیغمبروں کی بات پر ایمان لائے قرآن کریم میں اللہ تعالی خود فرماتے ہیں کہ سورہ سجدہ آیت نمبر 13 اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب فرما دیتے لیکن میری یہ بات بالکل حق ہو چکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور اور جنوں سے بھر دوں گا ۔
جب انسان آخرت میں اللہ کے حضور دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کرے گا تو جنت اور جہنم کا نظارہ کر لینے کے بعد اس طرح زبردستی ایمان لانے میں کوئی آزمائش نہیں اس لیے اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے اس آزمائش کے خاطر انسان کو پیدا کر کے ازل ہی میں یہ طے کر لیا تھا کہ جو لوگ عقل سے کام لے کر پیغمبروں کی اطاعت نہیں کریں گے بلکہ ان کو جھٹلائیں گے ان سے میں جہنم کو بھر دوں گا لہذا ملحدین کا یہ سوال ہی غلط ہے۔