سوال:
حدیث کی کتابوں کے مؤلفین خود حضور اقدس کی زندگی کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے نہیں کیے اور نہ آپ کے اقوال کو بغیر واسطے کے سنے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے 100،200سال بعد وہ اقوال تواتر کے ساتھ سنیں اور ان کو جمع کر لیا بلکہ ان میں سے نصف مقدار معتبر نہ ہونے کی وجہ سے حذف کر دیا۔تو حدیثوں پر کیسے بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟
جواب:
یہ بات معلوم ہے کہ زبانی روایات جمہور اہل کتاب کے نزدیک معتبر ہے اسی طرح یہ بھی معلوم ہے کہ اہم اور عظیم الشان واقعات اور معاملات محفوظ بھی رہتے ہیں چاہے کتنی مدت گزر جائے ان پر کچھ اثر نہیں ہوتا ۔
رہی بات احادیث کے ذخیرے کی تو تابعین حضرات نے احادیث کو صحابہ کرام سے لے کر کتابوں میں جمع کرنا شروع کر دیا تھا انہوں نے کتابوں کو ابواب پر ترتیب نہیں دیے تھے۔ ان کے بعد تبع تابعین نے فقہی ابواب کے مطابق ان کتابوں کو مرتب کیا پھر ان سب کے بعد امام بخاری رحمہ اللہ اور دوسرے صحاح کے مؤلفین نے صرف صحیح حدیثوں کے ذکر پر اکتفا کیا اور کمزور حدیثوں کو ترک کر دیا نیز صحاح کے ہر مؤلف نے ہر ہر حدیث کی سند کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک بیان کیا اسی طرح اسماء الرجال کے نام سے عظیم الشان فن قائم کیا اور کتابیں تصنیف کی جس کے ذریعہ ہر راوی کا پورا پورا حال بآسانی معلوم ہو سکتا ہے ۔نیز مسلمان صحیح حدیث کا کیونکر اعتبار کرتے ہیں؟ مذکورہ امور معلوم ہونے کے بعد اور کوئی اشکال واقع نہیں کر سکتا ۔
اسی طرح کہنا ساری روایتیں تواتر کے ساتھ سنی اور نصف مقدار غلط اور معتبر نہ ہونے کی وجہ سے ساقط کر دی یہ بات غلط ہے اس لیے کہ محدثین کسی ایسی حدیث جو تواتر کے ساتھ سنی گئی ہو معتبر نہ ہونے کی وجہ سے ساقط نہیں کر سکتے کیونکہ ایسی حدیث تو محدثین کے نزدیک واجب الاعتبار ہے البتہ حدیثوں کو جمع کرنے کے بعد ضعیف حدیثوں کو چھوڑ دیا گیا جن کی سندیں کامل نہ تھیں اور ان کا چھوڑنا نقصان دہ نہ ہوا۔