جواب :
وفات کے بعد نیک لوگوں کی روحیں “علیین” میں لے جائی جاتی ہیں اور کافر ومشرک کی روحیں سجین میں پہنچا دی جاتی ہیں ؛ لیکن بہر صورت ارواح کا تعلق قبروں سے رہتا ہے، چناچہ احادیث وآثار میں یہ مضمون آیا ہے کہ مردے زیارت کرنے والوں کی آہٹ کو محسوس کرتے ہیں، ان میں سے شناسا لوگوں کو پہچانتے ہیں ، ان کے سلام کو سنتے ہیں، سلام کا جواب دیتے ہیں اور علامہ ابن القیم نے حضرت سلمان فارسی اور حضرت امام مالک وغیرہ کے حوالے سے یہ نقل کیا ہے کہ مومنین کی روحیں عالم برزخ میں ہوتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ حسب منشا جاسکتی ہیں۔
وقال ابن القیم الأحادیث والآثار تدل علی أن الزائر متی جاء علم بہ المزور وسمع سلامہ وأنس بہ ورد علیہ وہذا عام فی حق الشہداء وغیرہم وأنہ لا توقیت فی ذلک قال وہو أصح من أثر الضحاک الدال علی التوقیت إلخ (حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح ص: 620) أخرج ابن عبد البر فی الاستذکار والتمہید بسند صحیح عن ابن عباس قولہ: “قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: “ما من أحد یمر بقبر أخیہ المؤمن کان یعرفہ فی الدنیا فیسلم علیہ إلا عرفہ ․ (حاشیة الطحطاوی علی المراقی، ص: 621)
…وَأما قَول من قَالَ إِن أَرْوَاح الْمُؤمنِینَ فِی برزخ من الأَرْض تذْہب حَیْثُ شَائَت فَہَذَا مروی عَن سلمَان الْفَارِسِی والبرزخ ہُوَ الحاجز بَین شَیْئَیْنِ وَکَأن سلمَان أَرَادَ بہَا فِی أَرض بَین الدُّنْیَا وَالْآخِرَة مُرْسلَة ہُنَاکَ تذْہب حَیْثُ شَائَت وَہَذَا قَول قوی فَإِنَّہَا قد فَارَقت الدُّنْیَا وَلم تلج الْآخِرَة بل ہِیَ فِی برزخ بَینہمَا فأرواح الْمُؤمنِینَ فِی برزخ وَاسع فِیہِ الرّوح وَالریحَان وَالنَّعِیم وأرواح الْکفَّار فِی برزخ ضیق فِیہِ الْغم وَالْعَذَاب قَالَ تَعَالَی (وَمن ورائہم برزخ إِلَی یَوْم یبعثون) فالبرزخ ہُنَا مَا بَین الدُّنْیَا وَالْآخِرَة وَأَصلہ الحاجز بَین الشَّیْئَیْنِ (الروح ص: 108)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند