جواب :
اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھ پانا اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں۔ کیا عقل، روح، جذبات، کششِ ثقل، مقناطیسی قوت یا وقت کو آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے؟ کیا کوئی سائنسدان “شعور” کو ٹیوب میں بند کرکے دکھا سکتا ہے؟ نہیں! مگر ہم سب ان کے وجود پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ ان کے اثرات ہر جگہ محسوس ہوتے ہیں۔ بعینہٖ، اللہ کی ذات کا دیدار دنیا میں ممکن نہیں، کیونکہ ہمارا جسم، دماغ اور بینائی اس قابل نہیں کہ ایک غیرمحدود، نورانی اور ازلی ہستی کا احاطہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کو دیکھنے کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “لَن تَرَانِي” (الاعراف: 143) “تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔”

اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے وجود کی نشانیاں ہر جگہ بکھری ہوئی ہیں: کائنات کا حیران کن نظم، ستاروں کی گردش، زمین کی بقا کے لیے موزوں ترین حالات، انسانی جسم کے نظام، DNA کے کوڈ، اور روحانی تجربات؛ یہ سب گویا اللہ کی غیرموجود مگر زبردست موجودگی کے نقش ہیں۔ قرآن فرماتا ہے: “سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ…” (فصلت: 53) کہ “ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اور خود ان کے نفسوں میں، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہی حق ہے۔”

بالکل ایسے ہی جیسے سورج کو براہ راست دیکھنا آنکھوں کے لیے ممکن نہیں، لیکن اس کی روشنی ہر شے کو منور کرتی ہے، ویسے ہی اللہ کو دیکھنا ممکن نہیں، لیکن اس کی تجلی سے ہر وجود زندہ ہے۔

اگر اللہ ہماری نظروں کے سامنے آ جائے، تو ایمان، غیب، اختیار، اور آزمائش کا نظام ختم ہو جائے۔ پھر تو انسان مجبوری میں مانے گا، عشق و شعور کے ساتھ نہیں۔ ایمان وہی معتبر ہے جو دیکھے بغیر دل سے آئے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: “الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ…” (البقرہ: 3) کہ “جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔”