جواب :
یہ سوال جدید دور میں دہریہ ذہن رکھنے والوں کا سب سے مقبول اعتراض بن چکا ہے: ”کیا خدا کو سائنسی طریقے سے ثابت کیا جا سکتا ہے؟“ اس سوال کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ صرف وہی چیز قابلِ قبول ہے جسے سائنسی آلات سے ماپا، ناپا یا مشاہدہ کیا جا سکے۔ مگر یہ مفروضہ خود سائنسی یا عقلی نہیں، بلکہ ایک فلسفیانہ دعویٰ ہے اور خود سائنس اس کو تسلیم نہیں کرتی۔
سب سے پہلی بات: سائنس کی اپنی حدود ہیں۔ سائنس صرف مادی (physical) اشیاء، ان کے مشاہدے (observation)، اور تجربے (experiment) تک محدود ہے۔ جبکہ خدا ایک غیر مادی، غیر محدود اور فوق الفطری ہستی ہے۔ اس لیے سائنس اس کے وجود کو اپنی فزیکل لیبارٹری میں قید نہیں کر سکتی۔ بالکل اسی طرح جیسے آپ محبت، ضمیر، اخلاق، ذہانت یا شعور کو لیبارٹری میں رکھ کر نہیں ناپ سکتے، لیکن ان کے اثرات ہر جگہ موجود ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے وجود کو براہِ راست سائنس کے پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا، لیکن اس کے اثرات، نظم، نشانات اور تخلیق میں موجود ترتیب و مقصدیت کو دیکھ کر اس کی موجودگی کا قوی ترین عقلی ثبوت ضرور حاصل ہوتا ہے۔ قرآن اسی طرف اشارہ کرتا ہے:
“سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ…”*(سورہ فصلت: 53) کہ “ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اور خود ان کے نفسوں میں یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہی حق ہے۔”
اب سائنسی سطح پر خدا کے وجود کی غیر مستقیم دلیلوں پر غور کیجیے:
1) فائن ٹیوننگ آف یونیورس (Fine Tuning of the Universe):
سائنس کہتی ہے کہ کائنات کے بنیادی قوانین (جیسے گریویٹی (Gravity) ، الیکٹرومیگنیٹزم (Electromagnetism)، کاسمولوجیکل کانسٹنٹ (Cosmological Constant) وغیرہ) اگر ایک معمولی مقدار بھی تبدیل ہو جائے تو زندگی ممکن نہیں رہتی۔ فزکس (Physics) کے ماہرین مانتے ہیں کہ کائنات بالکل زندگی کے لیے ”سیٹ“ کی گئی ہے، جیسے کسی نے خاص مقصد کے لیے اسے ”ڈیزائن“ کیا ہو۔
فریڈ ہائل (ملحد سائنسدان) خود اعتراف کرتا ہے: ”ایسا لگتا ہے جیسے کسی ذہین مخلوق نے کائنات کو فزکس، کیمسٹری اور حیاتیات کے مطابق سیٹ کیا ہے۔”“
2) بگ بینگ تھیوری (Big Bang Theory):
بگ بینگ سائنسدانوں کا متفقہ نظریہ ہے کہ کائنات ایک خاص لمحے میں عدم سے وجود میں آئی۔ تو سوال ہے: وہ لمحہ کس نے پیدا کیا؟ کچھ نہ ہونے سے ”کچھ“ کیسے پیدا ہوا؟ قانونِ علت (Cause & Effect) کے مطابق ہر آغاز کا کوئی سبب ہوتا ہے، تو بگ بینگ سے پہلے وہ سبب کون تھا؟ قرآن کہتا ہے: “أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ” (الطور: 35) کہ “کیا یہ بغیر کسی کے پیدا ہوئے؟ یا یہ خود اپنے خالق ہیں؟”
3) ڈی این اے (DNA) اور معلوماتی کوڈ:
انسانی جسم کا ہر خلیہ ڈی این اے رکھتا ہے، جس میں ہزاروں کتابوں کے برابر معلومات محفوظ ہیں۔ یہ مکمل ”کمیونیکیشن کوڈ“ (Communication Code) ہے، جیسے کمپیوٹر (Computer) میں پروگرامنگ لینگویج (Programming Language) ہوتی ہے۔ اور جدید انفارمیشن تھیوری کے مطابق کوئی بھی ”معلوماتی کوڈ“ بغیر کسی ذہین دماغ کے پیدا نہیں ہو سکتا۔
تو سوال ہے: انسانی جسم میں موجود یہ ناقابلِ یقین پروگرامنگ؛ یہ کس نے لکھی؟ کیا محض اندھی فطرت یہ پیچیدہ زبان تخلیق کر سکتی ہے؟ قرآن فرماتا ہے: “وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ” (سورہ الذاریات: 21) کہ “اور تمہارے اپنے نفسوں میں، کیا تم دیکھتے نہیں؟”
4) قوانینِ فطرت کی مستقل مزاجی:
کائنات کے تمام قوانین (جیسا کہ نیوٹن کے قوانین، آئن اسٹائن کی ریلیٹیویٹی، وغیرہ) پوری کائنات میں یکساں چلتے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک اتفاقی دھماکہ (بگ بینگ) اتنے مربوط اور غیرمتبدل قوانین کو جنم دے؟ اگر کائنات اندھی ہو تو قوانین مسلسل بدلنے چاہییں۔ مگر یہاں ہر چیز عین حساب سے چل رہی ہے: “الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ” (سورہ الرحمن: 5) کہ “سورج اور چاند حساب سے چل رہے ہیں۔”
5) شعور اور اخلاق:
سائنس آج تک شعور (consciousness) کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکی۔ ”انسان کا خود کو جاننا“، اپنی مرضی سے فیصلہ کرنا، نیکی یا بدی کو پہچاننا؛ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ انسان محض ایک حیوانی مشین نہیں بلکہ ایک بلند تر ہستی کا شعوری مظہر ہے۔ اگر انسان صرف بایولوجیکل (Biological) وجود ہوتا، تو وہ اخلاقی سوالات نہ پوچھتا۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ خدا کو سائنس کے ذریعہ لیبارٹری میں بند کر کے دکھایا نہیں جا سکتا، لیکن جدید سائنس خود اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ کائنات ایک مقصد، ڈیزائن اور غیرمادی ذہانت کے تحت بنی ہے۔ اور وہ “ذہین خالق” قرآن کی زبان میں “اللہ” ہے۔ سچائی صرف مشاہدے سے نہیں، عقل، فطرت، اور الہامی رہنمائی سے بھی اخذ کی جاتی ہے۔ اور یہی ایمان بالغیب کا جوہر ہے۔