یہ سوال نہیں بلکہ بیہودہ بکواس ہے ۔اصل جو چیز اللہ کی اطاعت کرنے والوں کے لیے تکلیف کا باعث ہو تو خدا کی رحمت کا تقاضہ ہے کہ اس میں بقدر وسعت لوگوں کو معاف کیا جائے اور حرمت کو ہٹا دیا جائے ۔رمضان شریف میں بیوی سے جماع کا حرام ہونا ایک خاص اللہ کا حق تھا۔ اللہ تعالی بنظر رحمت اپنے حق میں ان کے لیے تصرف کیا اور اپنے بندوں پر وسعت پیدا کیا یہ وسعت اور تصرف ہرگز عقل کے خلاف نہیں ہے۔
اب اگر دیکھا جائے ایک مذہب میں ایک عورت کے ساتھ پانچ شوہروں کو جائز قرار دیا گیا ہے جو کہ عقل کے خلاف ہے لیکن اب تک ان کے شاستروں میں موجود ہے۔