سوال:
کیا اسلام میں ہم جنس پرستی( Homosexuality)جائز ہے؟ اور لواطت (homosexuality)کے حرمت کی وجہ کیا ہے؟
جواب:
قرآن کریم میں ہے (وتذرون ما خلق لكم ربكم من ازواجكم) اس آیت میں من بیانیہ بھی ہو سکتا ہے یعنی تم اپنی بیویوں کو چھوڑ کر مردوں کو شہوت کا نشانہ بناتے ہو۔ جو نفس کے خبیث ہونے کی دلیل ہے اور من تبعیضیہ بھی ہو سکتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری بیویاں کا مقام جو تمہارے لیے بنایا گیا اور جو امر فطری ہے اس کو چھوڑ کر بیبیوں سے خلاف فطرت عمل کرتے ہو جو قطعاً حرام ہے ۔لہذا اسلام میں مردوں کا مردوں سے شہوت پوری کرنا یعنی ہم جنس پرستی اور عورت سے غیر فطری طریقے سے ملنا بھی حرام ہے۔
رہی بات لواطت کے حرمت کی وہ ایسی عادت ہے جس سے نسل انسانی کی جڑ ختم ہوتی ہے گویا انسان نظام الہی کو بگاڑنے کی صورت اختیار کرتے ہوئے مخالف طریقے پر قضائے حاجت پوری کرتا ہے۔
اسی وجہ سے اس کی قباحت لوگوں کے دلوں میں بس گیا ہے چونکہ یہ فطری بھی نہیں ہے اور جو لوگ اس میں مبتلا ہیں اگر ان کی حقیقت سامنے آتی ہے تو شرم کے مارے چہرہ چھپاتے پھرتے ہیں۔