اعتراض :

آیت 1 :
ما كان للنبي والذين آمنوا ان يستغفروا للمشركين ولو كانوا أولي قربى من بعد ما تبين لهم أنهم اصحاب الجحيم .
ترجمہ : نبی اور ایمان والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں، جب کہ یہ بات واضح ہوجائے کہ وہ دوزخی ہیں ۔
(سورۂ توبہ 113)

آیت 2 :
ما كان استغفار ابراهيم لابيه إلا عن موعدة وعدها إياه ، فلما تبيَّن له أنه عدو لله تبرأ منه إن ابراهيم لأواه حليم .

ترجمہ: ابراہیم کا اپنے باپ کی بخشش چاہنا وہ صرف وعدے کے سبب تھا جو انہوں نے اس سے کیا تھا ، پھر جب ان پر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بے تعلق ہوگئے بے شک ابراہیم بہت آہیں بھرنے والا متحمل ہے ۔
(سورۂ توبہ 114)

ان آیات کو پیش کرکے یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ پہلی آیت میں نبی اور ایمان والوں کو یہ حکم دیاگیا ہے کہ کسی بھی کافر کے لیے دعائے مغفرت نہ کریں پھر وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو ۔ جب کہ دوسری آیت میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے کافر باپ کے لیے دعا کی ۔ یعنی قرآن اپنی ہی بات کے غلط ہونے کا ثبوت دے رہا ہے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ۔

جواب :

ان دونوں آیات میں سرِ مو بھی تضاد نظر نہیں آرہاہے ، اگر کسی کو ایک پل کے لیے تضاد کا امکان بھی محسوس ہو تو دوسری آیت فورا اس کو ختم کردیتی ہے ۔
چلیے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں:
پہلی آیت میں نبی اور ایمان والوں کو یہ حکم ملا ہے کہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت نہ کریں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ۔
اس کے بعد والی آیت میں اللہ تعالی نے پیدا ہونے والے شک کا ازالہ کردیا کہ اگر کوئی یہ سوچے کہ ابراہیم علیہ السلام نے تو اپنے کافر باپ کے لیے دعائے مغفرت کی تھی! وہ کیسے کرسکتے ہیں؟ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا اپنے والد کے لیے دعا کرنا ایک وعدے کے سبب تھا !
انہوں نے اپنے باپ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ سأستغفر لك ربي (میں آپ کے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا) کافر کے لیے زندگی میں دعا کرنے کا مطلب ہدایت مانگنا ہے ۔ جیسے غزوہ احد میں کفار نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک چہرہ زخمی کیا تھا حضور نے خوب صاف کرتے ہوئے دعا کی کہ ” اللهم اغفر لقومي إنهم لايعلمون کفار کے لیے اس دعا کا حاصل بھی یہی کہ ان کو ہدایت مل جائے ۔
نیز حضرت ابراہیم کا دعا کرنا اس لیے جائز تھا کیونکہ ابھی ان کے باپ کا دوزخی ہونا ظاہر نہیں ہوا تھا ، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ ہے کہ انہوں نے اپنے لڑکے کی نجات کے لیے دعا کی تو اللہ نے ان کو منع کردیا اور کہا کہ وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، لہذا اس کے بعد نوح علیہ السلام نے دعا نہیں کی ۔ بالکل اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب پتہ چل گیا کہ ان کے باپ خدا کے دشمن ہیں تو وہ بھی اپنے والد سے بے تعلق ہوگئے کیوں کہ اب استغفار کرنا بے معنی ہے ۔
یہی بات صاف صاف اللہ نے معترض کی جانب سے پیش کردہ دوسری آیت میں بیان فرمایا ہے ۔
اللہ تعالی ہمیں ہدایت دے آمین۔