جواب :

واضح رہے جو چیزوں کے اندر مختلف مقصد کی چیزیں شامل رہتی ہیں جیسے کھیتی کہ اس کا غلہ انسانوں کے لیے اور گھانس جانوروں کے لیے ہوتا ہے۔ اس طرح کی چیزوں کو کاٹ کر اس کو الگ الگ کر دیتے ہیں گھانس وغیرہ کو جانوروں کے لیے یا دوسری ضروریات کے لیے رکھ دیتے ہیں اور غلہ کو انسان اپنی ضروریات کے لیے رکھتا ہے
اگر غور کیا جائے یہ عالم جو ہمارے سامنے موجود ہے وہ بھی مختلف مقصد والے اجزاء سے مل کر بنا ہوا ہے ہر طبقہ کا کام اور خوبی الگ الگ ہے جیسے زمین کی خوبی اور ہے ،پانی کے فائدے اور کچھ ہیں، مؤمن کا کام اور ہے، کافر کا کام اور، مالدار کا کام اور ہے‌،فقیر کا کام اور، سخی اور بخیل میں فرق ہے اور مرد و عورت کے درمیان فرق ہے۔
غرض جس چیز کو دیکھو اس کی خوبیاں(qualities) اور خصوصیات(characteristics) الگ الگ ہیں .جس طرح دنیوی مختلف الاغراض چیزوں کو توڑ پھوڑ کر الگ کر کے ہر چیز کو اس کی محل میں استعمال کیا جاتا ہے ۔اسی طرح اس
میں بھی یہی ہونا چاہیے اس عالم کو توڑ پھوڑ کر سب کو جدا کریں یہاں تک کہ نیکوں کو ان کے ٹھکانے میں اور بدوں کو ان کے جیل خانے میں پہنچا دیں ۔
بس اس طرح سے نیکو اور بدوں کا اپنے محل میں پہنچ جانے کا نام یوم القیامت ہے
اور ایک مثال سے سمجھیے باورچی کھانا بناتا ہے یا درزی کپڑا سیتا ہے یہ لوگ اپنے کام سے فارغ ہوتے ہیں تب جا کر انہیں مزدوری ملتی ہے اس لیے کہ مزدوری اس کام کے عوض ہے۔ پھر اگر وہ کام مزدور صحیح کیا ہے تو مزدوری حوالہ کرتے ہیں ورنہ اس کام کی خرابی کی وجہ سے اس سے جرمانہ مانگتے ہیں۔ مگر چونکہ یہ کام بعد میں ہوتا ہے اس لیے مزدوری بعد میں ملتی ہے یہ تو مزدوری کا حال تھا اور اگر انعام و سزا کا مقصد ہو تو پھر تاخیر میں کوئی حرج نہیں کیونکہ غیر کا حق نہ دینا ظلم ہے غیر کا حق معاملات یعنی بیع وغیرہ میں ثابت ہوتا ہے انعام اور سزا میں اپنے ذمے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی جس کی تاخیر ظلم ہو ۔باقی یہ بات خود ظاہر ہے کہ جیسے دوسرے کے حق کی ادائیگی میں تاخیر بری چیز ہے اسی طرح اپنے حق کی وصولیابی میں تاخیر عمدہ ہے اس لیے اپنے حقوق کی سزا میں تو تاخیر بری ہو ہی نہیں سکتی۔
رہا انعام وہ کوئی واجبی حق نہیں جو اس کی تاخیر بری ہو۔