جواب :

سب سے پہلی بات جنت کی شراب کو دنیوی شراب پر قیاس کرنا سراسر غلط ہے ۔اس شراب کا دنیوی شراب سے کوئی تعلق نہیں۔ اصل شراب میں حرمت نشہ کی وجہ سے ہے
لیکن جنتی شراب کے متعلق ارشاد باری تعالی ہے
وسقهم ربهم شرابا طهورا.
ترجمہ ۔ان کا پروردگار ان کو پاک شراب پلائے گا جو خود پاک ہوگی اور دل کو بھی پاک کر دے گی ۔
اور یہ بھی ارشاد باری تعالی ہے باكواب واباريق وكاس من معين لا يصدعون عنها ولا ينزفون الى قوله لا يسمعون فيها لغوا ولا تاثيما الا قيلا سلاما سلاما
ترجمہ. آبخورے ( گلاس) کوزے (لوٹا) اور صاف شراب کے پیالے لیے ہوئے .جس سے نہ سر دکھے گا اور نہ بکواس کریں گے اور وہاں بکواس نہیں سنیں گے اور نہ کوئی گناہ کی بات مکر سلام ہی سلام کی آواز ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ شراب صاف پیالے میں ہوں گے۔ جو جنتیوں کو دیے جائیں گے ۔وہ شراب ان تمام عیبوں سے پاک ہوگا جس کی وجہ سے دنیا میں شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
اصل میں شراب میں دو باتیں ہوتی ہیں ١. نشہ ٢.سرور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتے .نشہ میں بے ہوشی ہوتی ہے اس میں نہ رنج آتا ہے نہ راحت اور نہ خوشی لہذا شراب میں کبھی نشہ اور سرور جمع نہیں ہو سکتے. اگر بالفرض اس چیز کو نکال دیا جائے جو نشہ پیدا کرتی ہے یا قدرت کی چھلنی سے اللہ چھان دے تو پھر اس صورت میں شراب صرف لذت اور سرور کے لیے ہوگی اور اس صورت میں ہر عقلمند کے نزدیک شراب حلال ہوگی ۔تو پھر جنت میں صاف شراب پیش کرنے میں کیا حرج ہے۔