ایمان کا تاج: محمد حملی مہدی کی داستان ہدایت 
 (مصر )

“اگر صحت، تندرست لوگوں کے سروں پر تاج ہےجس کو صرف بیمار اور مریض ہی محسوس کر سکتے ہیں ،تو میں کہتا ہوں ایمان مسلمانوں کے سروں پر تاج ہے اس کو صرف وہی دیکھ سکتے ہیں۔ جس کے قلوب نور ایمانی سے روشن ہیں “
یہ وہ کلمات ہیں جن کو” محمد حملی مہدی” نے اسلام قبول کرنے کے فوراً بعد نہایت خوشی اور طرب سے ادا کی ہے۔ اور اسلامی قافلہ میں پورے عزم و استقلال کے ساتھ شامل ہو گئے۔
“محمد حملی مہدی” کا تعلق مسیحیت سے تھا اور ایک طویل عرصہ تک مسیحی طور طریقے کے پابند رہے .مسیحیت میں انہوں نے جو کچھ بھی دیکھا تھا اپنی زندگی کے تجربات کو ایمان لانے کے بعد وہ بیان کرتے ہیں۔
“شکر ہے اس ذات کا جو ایک اور بے نیاز ہے اس کا کوئی شریک نہیں. تعریف اس خدا کی جس نے مجھے ہدایت کا راستہ دکھایا. اور ہزار تعریف وحدہ لا شریک کی جس نے ایمان کی دولت سے سرفراز کیا. ایمان ہی دونوں جہاں کی سب سے بڑی نعمت ہے .اے خدا ! تو نے مجھے مکرم بنایا. تو نے اپنے فضل سے اسلام کے لیے ہمارے سینے کو کھول دیا.ہمارے قلوب کو انوار ایمانی سے مامور کر دیا ,اور خیر امت ہونے کا اعزاز عطا فرمایا. صلوۃ و سلام بھیجتا ہوں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر. یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر میں ملو اور آپ کے ہاتھوں سے آب کوثر پیوں”
“محمد حملی مہدی” اپنے ایمان لانے کے اسباب کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے اسلام سے قریب کرنے کے لیے ایسے دوپڑو سیوں کومنتخب کیا جنہوں نے مجھے سورہ اخلاص کے معانی اور مفاہیم سے روشناش کرایا. اللہ کی وحدانیت کو جس انداز سے پیش کیا میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔اسی کی بدولت میں نے اپنے آبائی مسیحی خاندان سے بحث ومباحثہ شروع کر دیا۔ ایک دن میں نے پادری سے مناظرہ کے دوران محسوس کیا کہ اس بحث کے رد عمل میں وہ پادری ایسے ہو گئے جیسے کہ زمین سے گھاس پوس اکھاڑ دیا گیا ہو اور فوراً ان لوگوں نے کہا۔
“اے میرے بیٹے ہم لوگ اس کو تسلیم کرتے ہیں جو کتاب مقدس میں ہے “
” محمد حملی مہدی” کہتے ہیں کہ اس دن کی گفتگو اور بحث کے بعد میرے اندر مزید یقین پیدا ہوا کہ یقینا پادری ہم سے حقیقت کو چھپا رہے ہیں. میں نے عہد کر لیا کہ آخر نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کروں گا. میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میرے اس شوقِ جستجو نے مجھے اسلام کے قریب سے قریب کر دیا اور میرے قلب کو ایمان کے نور سے روشن کردیا۔ شرک اور ظلمت کے دلدل سے نکال کر روشن اور منور صراط مستقیم کی طرف گامزن کر دیا۔
“حملی مہدی” کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر جب میں ایمان لایا تو یقین ہوا کہ رسالت محمدی کے صاف ستھری اور روشن را ہوں سے بارگاہ ایزدی تک رسائی ممکن ہے ۔اس کے بعد میں نے محسوس کیا کہ “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “کا یقینا میرے سر پر تاج ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے ملوں اور یہ تاج میرے سر پر قائم رہے ۔اللہم آمین۔
“محمد حملی مہدی” نے مسیحیت کی گمراہیوں اورضلالت سے پردہ اٹھاتے ہوئے مسیحیت کو اس دین سے تعبیر کیا جس کے اندر تعارض ہی تعارض ہے۔جس کو اندھے بہرے لوگ محسوس نہیں کر سکتے۔ وہ تثلیث کے قائل ہیں ۔لیکن عقل بھی اس چیز کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ دنیا اور اس کے نظام کا خالق اگر ایک ذات ہے تو معبود تین کیسے ہو سکتے ہیں؟دراصل یہ تقسیم ان کی اپنی طرف سے ہے۔ عیسائیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ مخلوق معبود نہیں ہو سکتی ۔جبکہ اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو مخلوق بنایا ہے ۔جیسا کہ ارشاد ہے”ان مثل عيسى كمثل اٰدم” اس کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی پر تلے ہوئے ہیں. ‌تو ان کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جو اپنے راستوں سے خود بھٹک گئے ہوں .اور راہ راست پر آنے کے لیے تیار ہی نہیں۔
قانون ایمان کے بارے میں مسیحی عقیدہ ہے؛ وہ کہتے ہیں:
“ہم نے ایک اللہ پر ایمان لایا جو باپ ہے ۔آسمان اور زمین کا خالق ہے۔ ہم نے ایک اللہ عیسی مسیح پر ایمان لایا جو اللہ کا بیٹا ہے۔ اپنے باپ سے پیدا ہواجب دنیا میں کوئی چیز وجود میں نہیں آئی تھی۔ وہ اللہ کے نور میں سے ایک نور ہے۔ وہ جوہریت میں ایک باپ کے مساوی ہے۔ عیسی مسیح کی وجہ سے ہم سارے انسان پیدا ہوئے اور ہماری نجات ہی کے لیے وہ آسمان سے نازل ہوئے۔ وہ انسان کی شکل میں مشکل ہوئے اور بیلاطسی قبطی کے زمانے میں سولی پر چڑھائے گئے پھر ان کو دفن کیا گیا اور مرنے سے تیسرے دن کھڑے ہوئے اور آسمان کی طرف صعود فرما گئے۔
“حملی مہدی” نے عیسائیوں اور مسیحیوں کے مذکورہ بالا باطل عقیدے کو بیان کرتے ہوئے سخت حیرت و استحجاب کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ ان کے عقیدے دراصل ان کی خود ساختہ ہیں۔ ظاہر ہے جب وہ اپنے عقائد کو اپنے ہی ہاتھوں سے بنائیں گے تو شرک و ضلال سے ایسا قانون کیسے پاک رہ سکے گا؟ اللہ کو ان لوگوں نے “باپ” کہا. حضرت عیسی کو “بیٹا “جبکہ قرآن کریم نے صاف لفظوں میں حضرت عیسی کو حضرت آدم کے مثل قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی نے ان کے اس عقیدے کی صاف لفظوں میں تردید فرمائی ہے۔ جب آپ عیسائیوں سے دریافت کریں گےکہ حضرت عیسی کو سولی پر کیوں لٹکایا گیا تھا ؟ان کے پاس ایک ہی جواب ہے کہ تاکہ وہ ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کریں .گرجا گھروں میں آج بھی ان کے پادری یہی تعلیم دے رہے ہیں۔
“محمد حملی مہدی” مسیحیت کے باطل نظریات کی تردید کے بعد اسلام کی واضح اور صاف ستھری تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں “اس کے مقابلے میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک کہ اس کے ساتھ اللہ کا فضل شامل حال نہ ہو. صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ بھی اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہوں گے؟ ارشاد فرمایا میں بھی نہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ سے ارشاد فرمایا، عمل کرو کسی کی قرابت وہاں کام نہ آئے گی حقیقت ہے کہ عقل سلیم اسی تعلیم کو تسلیم کرتی ہے۔ نہ کہ عیسائیوں کا موقف کہ تمام گناہوں کا کفارہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ادا کر دیا “آج بھی گرجا گھروں میں اس اسرار مقدسہ کے نام سے وہ تمام گناہوں کے عمل کیے جاتے ہیں جن کو فطرت یکسر تسلیم نہیں کرتی۔

“حملی مہدی” کہتے ہیں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ” ہر انسان اپنی فطرت ااسلام پر پیدا ہوتا ہے یہودی، نصرانی ،مجوسی اس کے والدین کر دیتے ہیں” کی صداقت کا علم اس وقت ہوا جب میں نے عیسائیوں کے تہوار “نصرانی بنانے کا دن” میں مشاہدہ کیا. ہوتا یوں ہے کہ عیسائی پادریوں نے پورے سال میں ایک دن متعین کر لیا ہے .جس میں” تنصیر” یعنی “تغطیش” نصرانی بنانے والا عمل کرتے ہیں. اس دن تمام والدین اپنے ان بچوں کے ساتھ گرجا گھروں میں آتے ہیں جن کی پیدائش اسی سال ہوئی ہے۔ بچوں کے سفید لباس میں جگہ جگہ صلیب کے نشان ہوتے ہیں اسے پہنا کر ان کو فرشتوں سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور والدین اپنے بچوں کو لے کر ایک کمرے میں داخل ہوتے ہیں جس کا نام” حجرۃ التعمید” ہے یعنی نصرانی بنانے والا کمرہ اس کو پانی سے بھر دیتے ہیں اب وہاں حاضر ہو کر پادریوں کی موجودگی میں حوض کے ارد گرد والدین اپنے اپنے بچوں کو لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور پادریوں کی ہدایت کے مطابق وہ کلمات ادا کرتے ہیں جو بچے سن سکیں ۔اس کے فوراً بعد والدین بچوں کے ہاتھ پکڑ کر حوض میں ڈال دیتے ہیں اور زور زور سے کہتے ہیں عیسی مسیح میرے دلوں سے فطرت کی ظلمت کو نکال دے۔ یہ عمل تین مرتبہ ہوتا ہے ۔گویا کہ وہ فطرت کو بدلنے کی تدبیر کرتے ہیں۔
“مہدی” کہتے ہیں تو کیا عیسائیوں کے اس عمل سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی تصدیق نہیں ہوتی ہے؟ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “كل مولود يولد على الفطرۃولكن أبواه يهودانه وينصرانه او يمجسانه”
“محمد حملی مہدی” جنہوں نے عیسائیت کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ اس کے مطابق گزارا ہے وہ نہایت بے باکی کے ساتھ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ عیسائی صلیب کی پوجا کرتے ہیں۔ صلیب کو ہی وہ متبرک جانتے ہیں۔ اس لیے کہ اس کے ذریعے حضرت عیسی کوعذاب دیا گیا جو تمام عیسائیوں کے لیے کفارہ ہے ۔چنانچہ صلیب کو سونا چاندی اور جواہرات سے مزین کرتے ہیں تاکہ اس کو سجدہ کریں۔ اس کو چومے اور اسی کی عبادت کریں ۔بلکہ صلیب کی نشان کو اپنی ہر اشیاء میں بناتے ہیں۔ غضب یہ ہے کہ کھانے سے پہلے کھانوں میں صلیب کے نشانات بناتے ہیں ۔میں پادریوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اس کی مثال ان لوگوں کی طرح نہیں ہے جو اپنے ہاتھوں سے بت بناتے ہیں اور اسی کو پوجتے ہیں دراصل کفر کے بعد کوئی گناہ نہیں ہے۔
اتنا کہتے ہوئے مہدی جذبات میں آگئے اور خدا کے فضل کا اظہار بار بار کرتے رہے کہ خدا نے ان ضلالتوں سے مجھے نکالا اور میری راہ میں ایمان کی شمع جلادی۔ خدا سے دعا کرتا ہوں کہ یہ شمع میرے دل میں جلتی رہے اور اسی حالت میں خدا اور اس کے رسول سے میدان حشر میں ملوں۔ اللہم آمین۔
آخر میں انہوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے اپنے نیک جذبات کا اظہار کیا ہے اور اپنے پیغام میں مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ قرآن کریم جو اسلامی شریعت کی بنیاد ہے اور احادیث رسول جو قرآن کی تشریح ہے ان کی حفاظت ہر ممکن طریقے سے کریں۔ ہم اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق گزاریں۔ ایسی پاکیزہ اسلامی زندگی آج بھی مسیحیت نصرانیت اور یہودیت کے لیے چیلنج ہے۔

(العالم الاسلام مکۃ المکرمۃ 4/-10/اگست 1997ء)
(روشنی کی طرف صفحہ/77)