“الیاس کرم” کا تعلق ایک متعصب اور کٹر عیسائی گھرانے سے ہے.یہ خاندان اسکندریہ کے پوپ، پادری اور گرجا گھروں کی خدمت میں ایک زمانے سے مامور رہا۔ اسی وجہ سے اسلام کے خلاف سرگرمیاں اس خاندان کی پہلی ترجیح رہی ہے ۔
“الیاس کرم” ایک زمانے تک اسکندریہ میں اپنے چچا کی ایک کریم ساز (جرجنس) فیکٹری میں کام کرتا رہا بحیثیت عیسائی اس پر کسی دوسرے مذہب کا کوئی نقش نہیں ابھرتا بلکہ اسلام کی مخالفت میں حد سے تجاوز کر جاتا لیکن جب مغرب اور یوروپ کے اخباروں ورسائل میں روزانہ بڑے بڑے پادریوں اور عیسائیوں کے قبول اسلام کے شدہ شدہ انٹرویوز پڑھے ،جنہوں نے اپنی ماضی کی زندگیوں میں اسلام کی مخالفت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔ تو اس کے عقیدۂ تثلیث کے اندر شکوک و شبہات پیدا ہوتے گئے اور اس کشمکش کے دوران اس نے اپنے اندر وحدانیت اور ایمان کی ایک ٹمٹماتی شمع کو محسوس کیا۔ جس نے اس کے دل کی نہا خانوں کو روشن کر دیا اور ایک فطری سکون و طمانیت کا احساس بھی د لایا ۔یہ کب ہوا ؟اور کیوں ہوا ؟اس سے “الیاس کرم” خود ہی واقف نہ تھے۔
اس کیفیت کے بعد “الیاس کرم” نے مصر کے” مجلۃ الاسلام ” میں “میں اس خدا کی تعریف کرتا ہوں جس نے مجھے اسلام کی ہدایت دی” کے عنوان کے تحت جو انٹرویو دیا ہے وہ اس طرح ہے “الیاس کرم” کہتے ہیں
“ایک دن میں عیسائی مشینری کی نشریات کو پڑھ رہا تھا اور میں ایک عیسائی دوست کے ساتھ مل کر اس نشریہ کو فروخت کر رہا تھا نشریہ کے الفاظ کو دہراتے ہوئے میں بار بارکہہ رہا تھا۔ لوگوں! دیکھو اللہ نے پوری دنیا کے لیے کیسے اپنے بیٹے کی قربانی دی ۔اس پر “محمد حبیب” میرے دوست نے جواب دیا” ابن اللہ یعنی ایہ” کیسا اللہ کا بیٹا ؟ اور یہ کہتے ہوئے میری طرف پوری نفرت، حیرت اور استعجاب کی نظر سے دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ کہتے ہوے وہ جا رہا ہے اور میری نظریں مسلسل اس کے تعاقب میں ہے۔
“الیاس کرم” کہتے ہیں اس وقت مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے لیے دنیا تنگ ہو چکی ہے اور پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔میرا سر گھوم گیا. اور اپنے دوست کا وہ جملہ میرے سینے میں تیر کی طرح پیوست ہو گیا ،اور بار بار اس کلمے کو دہراتا رہا “ابن اللہ یعنی ایہ” اس وقت مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ایک نور میرے سینے میں داخل ہو گیا اور میرے سینے میں جو تاریکیاں چھائی ہوئی تھیں اور میرے سامنے خالق کائنات کی عظمت ظاہر ہو گئی اور میں اپنے آپ کہنے لگا ۔افسوس تم اب تک اپنے رب سے غافل تھے؟ اور اللہ تعالی کے لیے اب تک تم نے شریک اور بیٹا بنا رکھا تھا؟ کیا وہ اللہ نہیں ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور جس نے آسمانوں میں ستاروں کو پیدا کیا۔
“الیاس کرم “کہتے ہیں میں نے محسوس کیا کہ لفظ” ابن اللہ” کے اندر بے پناہ مذاق اور نقص ہے۔ اس سے اللہ جل شانہ پاک اور منزہ ہے. پوری دنیا اور اس میں موجود تمام مخلوقات اللہ کی وحدانیت پر شاہد ہیں “
کہتے ہیں جب یہ احساسات میرے ذہن و دماغ پر ظاہر ہوئے تو ایسا لگا اسی وقت میری اس دنیا میں پیدائش ہوئی ہے. اور میری زندگی صاف و شفاف آئینے کی طرح ہے۔ جس میں صرف انوار ربانیہ کا عکس ہے اور جس تیزی کے ساتھ اس حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوا یعنی شرک کی ظلمات سے ایمان کی روشنی کی طرف ۔اس کا علم خود مجھے نہ ہو سکا “وذلك فضل الله يؤتيه من يشاء”
اس کے فوراً بعد میں نے اسلامی کتابوں کی تلاش شروع کر دی تاکہ اس کے ذریعے اسلام کی خاطر اپنی شدت کی پیاس کو بجھا سکوں جبکہ اب تک میں نے کسی اسلامی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا تھا۔ اس کی تلاش جاری ہی تھی کہ ایک کتب فروش سے ملاقات ہو گئی اس کے ہاتھ میں امام غزالی رح کے چار جلدوں میں مشہور کتاب “احیائے علوم الدین” تھی میں نے اسے فوراً خرید لی۔
“الیاس کرم” کہتے ہیں جوں جوں میں امام غزالی کی کتاب ا”حیاءالعلوم” کا مطالعہ کرتا رہا میرے اندر اسلام کے کمالات پیوست ہوتے گئے ۔قلب میں طمانینت و سکینت چھانے لگے۔ میں نے محسوس کیا کہ بے شک یہ اللہ سے قربت کی علامت ہے۔ ایسا اس لیے ہوا کہ میں نے ایک حدیث شریف پڑھی ایک شخص نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ جس شخص کے سینے کو اللہ اسلام کے لیے کھول دے اس کی کیا علامت ہے؟ تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا غرور سے دوری، ہمیشہ ہمیش کی زندگی (آخرت) کی طرف توجہ اور موت آنے سے پہلے اس کے لیے تیار رہنا .اس روایت کو پڑھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ دین؛ اسلام ہی ہے اور اسلام اپنے اندر پچھلی تمام شریعتوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اس میں نصرانیت بھی شامل ہے۔
“الیاس کرم” کہتے ہیں میں نے اس وقت عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام کو اختیار کرنے کا مکمل عزم کر لیا ۔اسلام جس میں کسی طرح کی نہ تبدیلی ہے نہ تحریف۔ اس لیے کہ اللہ نے قیامت تک کے لیے اس کی حفاظت کا اعلان کیا ہے۔
“الیاس کرم” کہتے ہیں میری کہانی یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اسلام قبول کرنے کے بعد مجھے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔میرے عیسائی اعزاءنے اس خوف سے پریشان کرنا شروع کر دیا کہ میری وجہ سے کہیں دوسرے اعزاء بھی اسلام کے قریب نہ ہو جائے مگر ان آزمائشوں کی وجہ سے میرے پاؤں مزید جمتے چلے گئے ۔اسی دوران میرے پاس ایک راہب آیا جس نے بچپن میں مجھے عیسائیت کی تربیت دی تھی۔ اس نے مجھے ڈانٹ کر کہا کیا تم اس حقیقت کو نہیں جانتے کہ اللہ دراصل مسیح ہی ہے۔ جو بھیس بدل کر اس دنیا میں آئے ہیں۔ فورًا اللہ کی طرف سے مجھے الہام ہوا کہ میں اس پادری کو کہوں تم حضرت عیسی کے لیے الوہیت کا اقرار کر کے خود پھنس گئے مثلا “تم میں سے کوئی یہ دعوی کرے کہ اللہ کی طرف سے فرشتہ ہے اور بھیس بدل کر اس دنیا میں آیا ہے تو کیا تم اس کو مان لو گے” مجھے تم بتاؤ کہ اللہ نے کہاں اعلان کیا ہے کہ حضرت عیسی ؛اللہ ہیں ۔
اخیر میں “الیاس کرم “کہتے ہیں الحمدللہ مجھے اس وقت اسلام کی بنیادی معلومات فراہم ہو گئی اور میں ایک پکا سچا مومن بن کر زندگی گزار رہا ہوں۔ اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں اشعار میں لکھ لیا کرتا ہوں میرا مجموعہ تقریبا چار جلدوں میں تیار ہو گیا ہے۔ سوچتا ہوں کہ اسے طبع کرا کے عالم اسلام میں نشر کر دوں ۔اللہ تعالی نے اپنے کلام پاک میں ارشاد فرمایا”ان الله اشترى من المؤمنين انفسهم واموالهم بان لهم الجنه”(سوره توبہ)
(الفصیل ریاض، عدد 240 صفحہ/ 60)
(روشنی کی طرف صفحہ/87)