اعتراض :

آیت1 : يا أيها النبي حرض المؤمنين على القتال إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مئتين وإن يكن منكم مئة يغلبوا الفا من الذين كفروا بأنهم قوم لا يفقهون .
ترجمہ : ایک مسلمان دس کافروں پر بھاری ہے ۔
(سورۂ انفال 65)

آیت 2 : اَلْئٰنَ خفّف الله عنكم وعلم أن فيكم ضعفا فإن يكن منكم مئة صابرة يغلبوا مئتين وإن يكن منكم الف يغلبوا ألفين بإذن الله ، والله مع الصابرين .
ترجمہ : ایک مسلمان مومن دو کافروں پر بھاری ہے ۔
(سورۂ انفال 66)

کچھ لوگوں نے ان آیات کے متعلق یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان میں تضاد ہے کیوں کہ پہلی آیت میں اللہ نے ایک مومن کو دس کافروں پر بھاری قرار دیا جب کہ دوسری آیت میں ایک مومن کو دو کافروں پر بھاری کہا ہے ۔ آخر کتنے مسلمان کتنے کافروں پر بھاری ہیں ؟
قرآن کا دعوی ہے کہ اس میں تضاد نہیں یہ لو میں نے تضاد پیش کردیا ۔
لہذا قرآن اللہ کا کلام نہیں یوسکتا ۔

جواب :

معترض نے ترجمہ توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے صحیح ترجمہ دیکھیے:
پہلی آیت کا ترجمہ:
اے نبی مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دے اگر تم میں کے بیس صبر والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب ہوں گے اور اگر تم میں کے سو ہوں تو وہ کافروں کے ہزار پر غالب آئیں گے اس لیے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے!

دوسری آیت کا ترجمہ:
اب اللہ نے تم پر تخفیف فرمادی اور معلوم کرلیا کہ تم میں ہمت کی کمی ہے، سو اگر تم میں کے سو آدمی ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے ۔
اور اگر تم میں کے ہزار ہوں گے تو دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب ہوں گے ۔
اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں ۔

ان آیات میں اللہ تعالی نے جنگی حالات میں دو مختلف گروہوں کے درمیان قوت اور غلبہ کی کیفیت بیان کی ہے ۔
صاف کہا جائے تو باتیں دو ہیں اور حالات بھی الگ الگ ۔
چلیے سمجھتے ہیں!

پہلی آیت میں جو بات کہی گئی وہ اس وقت کی تھی جب میدانِ جنگ کی صفوں میں مہاجر اور انصار تھے جو ایمان اور اخلاق کے اعتبار سے نہایت مضبوط ، اور جنگی قوت کے ساتھ ساتھ ایمانی بصیرت میں بھی کامل و اکمل تھے۔
ان کی ایمانی بصیرت انہیں اس منزل کو روشن کرکے دکھا دیتی تھی جو راہِ خدا میں شہید ہونے والوں کے لیے خاص تھی ۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے 1 اور 10 کی نسبت سے ان کے درمیان جہاد کی بات کہی ہے یعنی ایک مردِ مومن دس دشمنوں پر بھاری ۔

جب کہ اگلی آیت میں بتایا گیا کہ اب نئے لوگ دین میں داخل ہوئے ہیں جس کی وجہ سے تعداد تو بڑھ گئی مگر ان میں ایمانی بصیرت مہاجر و انصار کے مقابلہ میں کم ہے اس لیے 1 اور 2 کی نسبت سے ان کے درمیان جہاد کی بات کہی ہے یعنی ایک مردِ مومن دو دشمنوں پر بھاری ۔

آیت کریمہ میں جملہ اس وقت اللہ تم پر سے بوجھ کم کردیا ہے یعنی وہ جان گیا ہے کہ تم میں کسی قدر کمزوری ہے اسی بات کی طرف اشارہ کررہاہے ۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیاتِ کریمہ میں قوت اور غلبہ کی اصل صبر اور ثابت قدمی کو بتایا ہے ، صبر کا معیار جیسے بڑھے گا ویسے ہی اللہ اپنے حکم کو مستحکم کرے گا ۔
لہذا ان آیات میں کہیں بھی تضاد نہیں ہے قرآن کریم کی ساری آیات آپس میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ہر آیت کے پیچھے پسِ منظر ہوتاہے ہمیں اس کے ساتھ ساتھ کلامِ الٰہی کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
اللہ ہمیں توفیق دے آمین۔