“لیزا “ڈنمارک سے تعلق رکھتی ہے۔ ایک عرصہ تک ڈنمارک کی زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ کا گہرا مطالعہ کرتی رہی اور عربی زبان میں لکھی گئی تفسیروں کو بالاستیعاب پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتی رہی۔ بالآخر اس طویل مطالعہ نے اس کی زندگی میں ایک روز ایسا انقلاب برپا کیا کہ اسلام کی صداقت کے آگے وہ سر نگوں ہو گئی اور اللہ تعالیٰ کو اپنا معبود حقیقی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی اور قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ہونے کا نہایت خوشی و مسرت اور اذعان ویقین کے ساتھ نہ صرف اقرار کیا۔ بلکہ مقامی میڈیا کے ذریعے اس کی زبر دست تشہیر کی گئی۔
“لیزا “اپنے گھریلو زندگی کے احوال بیان کرتی ہے. ” میں اس وقت شادی شدہ ہوں، میرے شوہر “ڈنمارک” سے تعلق رکھتے ہیں اور اسلام کے علاوہ وہ تمام ادیان و مذاہب کو باطل قرار دیتے ہیں۔ ان سے دولڑکے اور ایک لڑکی ہے، ایک لڑکے کی عمر ۱۹ سال ہے اور دوسرے کی ۱۳ سال۔ جبکہ لڑکی کی عمر ۲۳ سال ہے اور وہ شادی شدہ ہے، اس کے دو بچے بھی ہیں۔
میں خدا کا کن الفاظ میں شکر ادا کروں کہ گھر کے تمام افراد میرے والدین سمیت حلقہ بگوش اسلام ہو گئے اور میرا پورا خاندان کفروضلالت کی دلدل سے نکل گیا۔ ہمارے اسلام کی شہرت ہماری سہیلیوں کے حلقے میں پہنچی تو تقریبا ۱۲ خواتین نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے اسلام قبول کیا۔ جس دن سہیلیوں نے مجھ سے اسلام میں داخل ہونے کی ترجیحات کے بارے میں سوال کیا۔ تو میں نے کہا۔ الحمدللہ میں نے اب تک تمام ادیان کا مطالعہ کیا اور اخیر میں اسلام کا مطالعہ کیا۔ میں بغیر مبالغہ کے یہ بات کہتی ہوں کہ اسلام کو میں نے فطرت کے بالکل قریب پایا۔ اسلام کے ہر باب میں توازن و اعتدال ہے۔ خواہ اس کا تعلق اخلاق و کردار سے ہویا مادیت سے۔ طہارت و نظافت کا نظریہ جو اسلام نے پیش کیا ہے اس نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا۔
اسلام کے بارے میں اپنی مختصر معلومات کا ذکر کرتے ہوئے میں نے اپنی سہیلیوں سے کہاکہ ہمارا یقین ہے کہ قرآن شریف اللہ کا کلام ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے۔ یہ اللہ کی آخری کتاب ہے اور میرا عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اسلام نے تمام چیزوں کو وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ برائی اور برے کاموں سے منع کیا ہے۔ اسلام نے شراب ، زنا اور غیر مشروع اختلاط کو حرام قرار دیا ہے۔ جب ہماری سہیلیوں نے ان تفصیلات کو سنا تو اسی جگہ اسلام لے آئیں۔ اور ڈنمارک میں واقع رابطہ عالم اسلامی کے دفتر میں اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔
اسلام لانے کے بعد جب ان سے ان کی خواہشات کے بارے میں سوال کیا گیا تو” لیزا “بتاتی ہے۔ میری خواہش ہے کہ دین اسلام کی حقیقت پوری طرح میرے دل میں اجاگر ہو جائے اور اسلام میرے اندر پوری طرح مرتکز ہو جائے، میرے افعال و اقوال سے صرف اسلام مترشح ہو ۔ دوسری خواہش یہ ہے کہ میں عربی زبان میں مہارت حاصل کروں اور قرآن کریم مع اس کی تفسیر کے حفظ کرلوں اور جامعہ ازہر میں اپنی پوری تعلیم کے بعد پھر دوبارہ اپنے وطن “ڈنمارک” واپس لوٹوں اور وہاں دعوت و تبلیغ کا ایک مرکز کھول کر ڈنمارک میں مقیم لوگوں کو اسلامی معلومات فراہم کروں۔ یہی خواہش میرا بڑا لڑ کا خالد بھی اپنے اندر رکھتاہے۔
“لیزا”کہتی ہے میں ان لمحات کو قیدِ تحریر میں نہیں لا سکتی جب میں نے ایمان کی حلاوت کو محسوس کیا تھا۔ ایمان لانے کے بعد محسوس ہوا کہ میں کس قدر ضلالت و گمراہی میں زندگی گذار رہی تھی۔ جب میرے اوپر واضح ہو گیا کہ ہر شخص کو اپنے دین میں آزادی ہے، اپنے لباس اور طرز زندگی میں آزادی ہے اور اسلام جو مجھے سب سے پہلے حکم کرتا ہے وہ پردہ ہے۔ تو میں نے فورًا پردہ کو اختیار کر لیا اوراپنے وجود کو ایک چادر کے اندر سمیٹ لیا۔ اس وقت اپنی نسوانیت کی اہمیت کا اندازہ ہوا کہ اسلام نے عورت کو کس قدر رتبہ بلند عطا کیا ہے، اگرچہ میں نے دیکھا کہ بعض خواتین صرف نام کا پردہ کرتی ہیں۔ وہ بھلا ایمان کی حلاوت کیسے محسوس کر سکتی ہیں ؟
قابل ذکر بات یہ ہے کہ “ڈنمارک” کی میڈیا نے “لیزا” کے اسلام قبول کرنے کے بعد ان سے انٹرویو لیا اور ذرائع ابلاغ نے” لیزا”کو ”کریمہ ” کے نام سے نشریات میں شامل کیا اور اس کو اس کے نئے مصری مسلم شوہر “محمد نعیم” کے ساتھ نشر کیا۔ اس طرح “ڈنمارک” میں ان کے اسلام کا استقبال ہوا جو یقیناً ڈنمارک میں آئندہ اسلام قبول کرنے والوں کے لئے آسانیاں پیدا کرے گا۔ اس وقت “لیزا” ” کریمہ “ اسلام کے مشن دعوت و تبلیغ میں مصروف ہیں۔
العالم الاسلامي، مكة المكرمة)
(روشنی طرف ص/125)