قرآن کے سائے تلے: عماد مہدی کا نیا آغاز
 (مصر)

مشہور داعی اسلام ” عماد محمد احمد مہدی جن کا آبائی تعلق عیسائیت سے ہے۔ اللہ نے ان پر اپنا فضل فرمایا اور ایمان کی دولت سے نوازا۔ انھوں نے عیسائیت، کلیسا اور گرجا گھروں کی اصلی صورت حال کو پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ عالم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جاری ان کی مکروہ سرگرمیوں اور باطل نظریات و عقائد کا جائزہ لیا ہے اور دلیل سے ثابت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور اس دعوی کی دلیل خود انجیل سے دی ہے۔ انھوں نے ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک انجیل کو نازل فرمایا جب کہ اس وقت ۱۳۱ انا جیل ہیں جو سب کی سب موضوع اور محرف ہیں۔

شیخ عماد! آپ نے عیسائیت میں ایک مدت گذاری ہے، آپ نے انجیلوں کا مطالعہ کیا ہے۔ موجودہ اناجیل اربعہ کی روشنی میں عیسائیوں کا حضرت عیسی کے بارے میں کیا عقیدہ ہے ؟

عماد مہدی” کہتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ عیسائی حضرت عیسی کو اللہ کا بیٹا تصور کرتے ہیں جو کفر صریح ہے۔ اس لئے کہ حضرت عیسی تو اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور یہی عقیدہ اناجیل اربعہ میں ہے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ کم از کم ایک بھی نص انجیل میں مل جائے جس میں حضرت عیسی نے خود کو اللہ کابیٹا اور معبود کہا ہو۔ مگر میں ناکام رہا۔ اناجیل اربعہ اگر چہ محرف ہیں مگر ان کے بھی نصوص یہی ہیں کہ حضرت عیسیٰ اللہ کے نبی اور اس کے رسول ہیں۔ آپ انجیل یوحنا ص /۱۹۷ ہی دیکھ لیجیے۔ اس میں صاف نص موجود ہے۔

“اس سے اس عورت نے کہا اے میرے سردار ! میں آپ کو نبی مانتی ہوں” اور اسی انجیل یوحنا ۲۴ ص /۲۰۰ میں ہے.
ترجمہ : “اور سچی بات وہ ہے جو میں تم لوگوں سے کہہ رہا ہوں۔ جو میرا کلام سن رہا ہے اور اس پر ایمان لاتا ہے جس کے ساتھ میرے رب نے مجھ کو تم لوگوں تک بھیجا ہے تو اس کے لئے ہمیشگی کی زندگی ہے “

اور آگے انجیل یوحنا، ٦.ص /۲۰۹ میں ہے:

“تم لوگوں میں سے اکثر نے جب اس بات کو سنا تو ان لوگوں نے کہا یہ (حضرت عیسیٰ) دراصل اللہ کے نبی ہیں۔“

“عماد مہدی“ کہتے ہیں۔ اسی طرح انجیل میں حضرت عیسی نے خود اپنے بارے میں ارشاد فرمایا ہے :
“لیکن تم لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے ہو۔ جب کہ میں ایک انسان ہوں۔ تم سے حق باتیں کرتا ہوں جس کو میں اللہ سے سنتا ہوں۔“ یہ عبارت یوحنا کی انجیل ص/ ۲۱۲ میں ہے اور یہ ایک واضح عبارت ہے۔ اس میں کسی طرح کی تاویل کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی طرح بقیہ دیگر اناجیل نے کہا ہے اور اس بات کی سخت انداز میں تردید کی ہے کہ حضرت عیسی نے اپنے لئے اللہ کا بیٹا کہا ہو۔ یا الہ یا ثالث ثلثہ کہا ہو۔ بلکہ اپنے لئے بشریت کو ثابت کیا ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ نے حق کے سوا کچھ نہیں کہا ہے اور وہ تمام حق باتیں انا جیل میں موجود ہیں۔ مگر ان کے قلوب اندھیرے میں بھٹک رہے ہیں۔

انجیل کی کتنی تعداد ہے ؟ اور ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

“عماد مہدی” کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام پر جس کلام کو نازل فرمایا ہے وہی انجیل ہے۔ اور وہ صرف ایک ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا کوئی انجیل نازل نہیں ہوا ہے ، اس کے علاوہ جو لوگ بھی انجیل کی بات کرتے ہیں وہ جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔ یہی انجیل حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں موجود تھی۔ جب حضرت عیسی کا آسمان کی طرف صعود ہوا اس کے بعد سے انجیل میں تحریفات شروع ہوئیں۔ اس کے بعد ہی متعدد اناجیل مختلف حواریوں کی طرف منسوب ہوتے ہوئے ظاہر ہونے لگے۔ یہاں تک کہ اناجیل کی تعداد ۳۱ ہو گئی اس میں ہرا نجیل کسی نہ کسی شخص کی طرف منسوب ہے۔ تو بھلا یہ عقل میں آنے والی منطق ہے ؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ ہر شخص کا انجیل منزل من اللہ ہے؟

بے شک اللہ تعالی کی ذات ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔ آگے ہم موجودہ اناجیل کی تحریف پر دلائل و برہان پیش کریں گے۔

“عماد مہدی “ کہتے ہیں۔ اس کے برعکس ہم اسلام کو دیکھتے ہیں تو اس میں صرف ایک ہی قرآن ہے جو ہر طرح کی تحریف تنقیص سے مبرأ اور پاک ہے . جب سے قرآن پاک نازل ہوا آج تک کوئی اس کے کسی حرف کو کوئی چیلنج نہیں کر سکا ہے اور نہ آئندہ کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” ہم ہی نے قرآن کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے ”
شیخ عماد ! آپ نے اناجیل کا مطالعہ کیا ہے اس میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بارے میں کونسے دلائل و برہان ہیں ؟

“عماد مہدی” کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے اس قول کو دہراتا ہوں جو حضرت عیسی کے ذریعہ ان کی قوم سے خطاب کیا ہے۔ ومبشرا برسول ياتي من بعدي اسمه احمد (سورة الصف)

“امام احمد “سے روایت ہے کہ نجاشی، جو حبشہ کے بادشاہ اور عیسائی تھے۔ جب انھوں نے قرآن کریم کی آیت بشارت سنی تو فوراً ایمان لے آئے اور اقرار کیا أشهد أن لا اله الا الله وأشہد ان محمد رسول الله. اور کہا۔ یہ وہی رسول ہیں جس کی بشارت حضرت عیسی مسیح نے انجیل میں دی تھی ۔

اب ذرا اناجیل کو ہم دیکھتے ہیں۔ چنانچہ انجیل یوحنا /٢٦-۲۵ میں ہے۔
“اور میرے بعد رسول آئیں گے وہ تمھیں ہر چیز کی تعلیم دیں گے اور ہر اس چیز کو بیان کریں گے جو میں نے تم لوگوں سے کہی ہیں”
اور بعینہ یہی بشارت عہد نامہ قدیم میں صراحت کے ساتھ موجود ہے البتہ اس میں اضافہ ہے کہ میں نے تم لوگوں سے ایک اللہ کی عبادت کے لئے کہا تھا۔وہی حکم ہمارے بعد رسول کریں گے۔

اسی طرح انجیل اشعياء اصحاح /٦۲ میں ہے:
“وہ امت کے لئے حق کو ظاہر کریں گے۔ اور پوری دنیا ان کی شریعت پرچلے گی ۔ “

انجیل یوحنا /۰ ۳ – ۱۴ میں صاف حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا۔
“میں تم لوگوں سے زیادہ گفتگو نہیں کروں گا۔ اس لئے کہ اس دنیا کے سردار آئیں گے ان کے برابر کوئی نہیں ہو گا۔“
یہاں رئیس العالمین سے مراد رسول العالمین ہے۔ اس لئے کہ رئیس کے معنی رسول کے ہیں۔ جیسا کہ سفر تکوین اصحاح/ ۲۳ عدد /٦-۸ میں ہے۔
“سنئے ! اے میرے سردار آپ (رئیس من اللہ) اللہ کی طرف سے سردار ہیں۔ یعنی ہمارے نبی ہیں۔ اب یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ توریت میں جہاں بھی آپ کے تعلق سے
رئیس العالمین کہا گیا ہے۔ اس سے مراد رسول العالمین ہے۔ اب میں عیسائی پادریوں سے اور ان لوگوں سے جو انجیل کی بات کرتے ہیں۔ ان سے دریافت کرتا ہوں کہ یہ رئیس العالمین کون ہے ؟ یقیناً وہی رسول ہیں جس کی بشارت خود حضرت عیسی نے دی ہے اور جو حضرت عیسیٰ کے بعد تشریف لانے والے ہیں۔ اس کو سفر عدد اور اصحاح نے کہا ہے کہ “رؤساء بنی اسرائیل الاثنا عشر أي الانبیاء “یعنی بنی اسرائیل میں بارہ سردار ہوں گے اور آگے اس کی تشریح انبیاء سے کی ہے۔ انہی لوگوں کو قرآن نے “الاسباط” سے یاد کیا ہے۔
“عماد مہدی“ مزید دلائل پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ انجیل کے یونانی ترجمہ HEPIK AHIOZ اور لاتینی ترجمہ PEBJGIEIOS میں معزیٰ کے الفاظ آئے ہیں۔ جن کے معنی ہیں زیادہ تعریف کی جائے۔ احمد ۔ اسی کو اللہ نے اپنے کلام میں صاف اعلان کر دیا۔ و مبشراً برسول ياتي من بعدي اسمه احمد۔

بنی اسرائیل کی عبادت تھی کہ اپنے انبیاء کو معزیٰ کہا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عیسی نے اپنے حواریوں سے صاف طور پر کہا:

“اگر تم لوگ مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میری وصیت کو گرہ سے باندھ لو۔ اللہ تمھیں دوسرے رسول دیں گے جو ہمیشہ تک کے لئے تمھارے لئے ہوں گے “ اس مقام پر حضرت عیسی نے آنے والے رسول کی دو صفت بتلائی ہے۔

ایک یہ کہ وہ رسول العالمین ہوں گے ۔
دوسرے یہ کہ قیامت تک تمھارے لئے وہی رسول ہوں گے ۔
وہ نبی برحق اور رسول صادق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہوں گے۔ ان تمام عبارتوں کے بعد آخر کلیسا کے پادری اس حقیقت کو تسلیم کیوں نہیں کرتے ؟ ومن يضلل الله فما له من هاد۔

“عماد مہدی“ کہتے ہیں۔ مذکورہ دلائل و برہان جو خود اناجیل میں موجود ہیں۔ ان کے ذریعہ یہ حقیقت ثابت ہو گئی کہ حضرت عیسیٰ اللہ کے نبی اور اس کے رسول ہیں اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں۔ اب ہم ان کی نمازوں اور روزوں کا جائزہ لیں گے کہ وہ کس طرح نماز پڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں؟
“عماد “ کہتے ہیں۔ ان کی نماز شرک جلی ہے۔ اس لئے کہ وہ نماز میں اللہ کے بجائے حضرت عیسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو سراسر شرک ہے۔ وہ اپنی نماز کو شروع ہی (أبانا الذی) سے کرتے ہیں اور حضرت عیسیٰ کو الوہیت میں شامل کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالٰی اس سے منزہ اور پاک ہے۔ اور ان کی نمازیں بھی مختلف ہیں۔ کبھی وہ صرف اتوار کو نماز پڑھتے ہیں اور کبھی تو بغیر طہارت کے ،نہ قعود، نہ رکوع، نہ سجدہ اور اپنا قبلہ بیت المقدس کو مانتے ہیں۔ان کے یہاں روزہ کی مختلف قسمیں ہیں۔ عید الفصح کا روزہ، صوم یو ثان۔ یہ پورے سال میں صرف تین دن کے روزے ہیں۔ صوم العذراء پورے سال میں صرف پندرہ روزے ہیں۔ اس کی تعداد میں کبھی زیادتی ہوتی ہے اور کبھی کمی۔
لیکن اس کے بر کے برخلاف اسلامی روزہ صبح صادق سے غروب تک کھانے پینے اور جماع سے رکنے کا نام ہے۔ عیسائیوں کے ایک فرقہ کا کہنا ہے کہ جب تک آسمان میں تارے ظاہر نہ ہو جائیں اس وقت تک کھانے پینے سے رُکنے کا نام روزہ ہے۔ البتہ صرف وہ ماکولات نہیں کھا سکتے ہیں جو ذی روح ہوں۔ ورنہ دیگر غیر ذی روح ماکولات مثلاً چاول، پھل وغیرہ روزے کی حالت میں کھا سکتے ہیں۔
جناب شیخ عماد مہدی! آپ بتائیں کے حضرت عیسی علیہ السلام کے سولی پر چڑھائے جانے کے سلسلے میں عیسائیوں کا کیا عقیدہ ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟
“عماد “ کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے میں قرآن کی بیان کردہ حقیقت پر ایمان لاتا ہوں جس نے صاف طور پر اعلان کیا “و ماقتلوه و ما صلبوه ولكن شبه لهم” (مريم ۳۳) البتہ عیسائیوں کی محرف کتاب انجیل متی اصحاح/ ۲۷ ص/ ۲۴۵ میں جو کچھ بھی ہے ہم وہ سب ان کے منہ پر مارتے ہیں۔ چنانچہ انجیل متی میں ہے:

“اور چھٹے گھنٹے سے نویں گھنٹہ تک پوری زمین میں تاریکی چھائی ہوئی تھی اور نویں گھنٹہ کے قریب حضرت عیسی مسیح نے بہت زور دار آواز میں چیخ ماری اور کہنے لگے یاالہی! مجھے کیوں جکڑ رکھا ہے؟ مجھے تنہا کیوں چھوڑ رکھا ہے ؟ یہ سن کر کھڑے دیکھنے والوں میں سے ایک نے دوڑ لگائی اور حضرت عیسی کو پانی پلایا۔ اور باقی لوگوں نے کہا کہ اسے چھوڑ دو۔ دیکھیں اس کا الٰہ آکر اسے چھٹکارا دلا تا ہے؟ اس وقت پھر حضرت عیسیٰ نے زور دار چیخ ماری اور ان کی روح، الہی نے لو ٹادی ۔“

میں ان پادریوں سے پوچھنا چاہتا ہوں اگر مصلوب خود ہی اللہ تھے۔ تو پھر اللہ نے ان کی روح کو دوبارہ کیسے لوٹا دی ؟ پھر روح کو لوٹانے والا کون ہے ؟ اسلئے سچی بات تو وہی ہے جس کو قرآن کریم نے انسانوں کو بتلایا۔ کہ نہ ان لو گوں نے قتل کیا ،نہ ہی پھانسی چڑھائی۔
قرآن کریم نے ان کے شرک کو اس طر ح بیان کیا ہے۔
“وان الذين اختلفوا فيه لفي شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا.

اور اس شک کو انجیل مرقس نے بھی ثابت کیا ہے، کلکم تشکون فی هذه الليلة۔ کہ تم تمام لوگ اس رات کو شک میں مبتلا ہو گئے۔ حضرت عیسی کی نجات کے بارے میں خود انجیل میں ہے۔
ان لوگوں نے چاہا کہ حضرت عیسیٰ کو رو کے رھیں۔ مگر وہ ان کے ہاتھوں سے نکل گئے ۔ (اصحاح /۴-۲)

لوگوں نے پھر اٹھایا تاکہ ان کا رجم کریں۔ مگر حضرت عیسی چھپ گئے اور ہیکل سے ان کے درمیان سے نکل گئے ۔ (انجیل لو قا /۴-۱۵)

“عماد مہدی “ ان دلائل کو پیش کرنے کے بعد نہایت واضح انداز میں کہتے ہیں۔ ہم نے مطالعہ کے بعد محسوس کیا کہ حضرت عیسی کو سولی پر چڑھانے والےلوگ بڑے شک میں مبتلا ہو گئے۔ چنانچہ انجیل لو قا اصحاح/ ۲۲ عد/د ۶۷ میں ہے جب لوگوں نے سوال کیا۔
اگر تم ہی عیسی مسیح ہو تو ضرور مجھ سے کہو۔ تو اس (مصلوب) نے کہا۔ اگر میں تم سے سچ کہوں تو تم لوگ میری تصدیق نہیں کرو گے۔ اور اگر میں تم لوگوں سے سوال کروں تو جواب نہیں دو گے اور نہ مجھے آزاد کرو گے۔“
یہاں یہ بات واضح ہے کہ میں اگر تم لوگوں پر یہ حقیقت ظاہر کروں کہ میں سچ نہیں ہوں۔ تو تم اس کی تصدیق نہیں کرو گے۔ اور اس کے بعد تم سے کہوں کہ میری گردن سے رسی ڈھیلی کرو تو اس طرح نہیں کرو گے۔ معلوم یہ ہوا کہ عیسائیوں کو یہ بات صاف طور پر معلوم ہے کہ مصلوب عیسی مسیح نہیں تھے۔ مگر وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے ہیں تو بھلا اس گمراہی کے بعد کوئی گمراہی ہے؟
کیا آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آج مسلمانوں اور عالم اسلام کے کسی عمل کی وجہ سےعیسائیوں کے کام میں رکاوٹ پڑتی ہو اور ان کے لئے قلق کا باعث ہو ؟
” عماد” فوراًجواب دیتے ہیں، ہاں حرم کی سے رمضان المبارک میں صلوۃالتراویح جو انٹر نیشنل ٹی وی پر نشر ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر جمعہ کے دن شعراوی کا خطبہ ، اذان، جمعہ کی نماز، عرفہ کی نماز، عرفہ کا خطبہ جن کو ٹیلی ویژن ڈائریکٹ نشر کرتا ہے۔ اس سے و ہ بہت گھبراتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ پروگرام ان کے تمام اسٹیشنوں میں بھی نشر ہوتا ہے۔ ایسے اوقات ان پروگرام کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ اس منظر کو میں نے خود دیکھا۔ اور ظاہر ہے بالا دستی تو صرف اسلام کو حاصل ہے۔
شیخ عماد! کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ آج مسلمان اور عالم اسلام اسلامی پیغام کو دنیا تک پہنچانے میں پوری طرح کامیاب ہیں ؟
یقیناً اسلام کے ابدی پیغام کو عام کرنے میں ہم پوری طرح کامیاب نہیں ہیں۔ خاص کر مغرب میں جو اسلام کا تصور ہے۔ ان تک صحیح اسلام ہم نہیں پہنچارہے ہیں۔ ان تک اسلام کی جو معلومات فراہم ہو رہی ہیں اس سے اسلام کی شکل بگڑ رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام دہشت گردی کا دین ہے حالانکہ اس سے وہ اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
آج کل جو مسلمانوں کے احوال ہیں اس سے دوست و دشمن دونوں یا خبر ہیں۔ عالم اسلام ان کے نزدیک کھلونا بن کر رہ گئی ہے۔ صرف اس لئے کہ ہم کتاب اللہ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے دور زندگی گزار رہے ہیں۔ آج اگر ہم شریعت کے پابند زندگی گذار نا شروع کر دیں تو آج بھی دشمنوں کے قلوب میں رعب پیدا ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے تھے۔ ہم دنیا سے محبت اور موت سے نفرت کرنے لگے ہیں اور یہی ہماری پستی کا سبب ہے۔ اللہ کاارشاد ہے ( ان تتولوا يستبدل قوماً غيركم ثم لا يكونوا امثالكم) .
” شیخ عماد احمد مہدی “ مزید کہتے ہیں۔ لیکن اس سے ہمیں مایوس نہیں ہو نے چاہیے۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ روزانہ پوری دنیا میں گروہ کے گروہ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ یورپ اور امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک کے نوجوان لڑکے لڑکیاں بہت تیزی سے اسلام کے قریب ہو رہی ہیں۔ روزانہ سورج غروب نہیں ہوتا کہ صاحب ایمان کا اضافہ ہو رہا ہے۔ تحقیق سے یہ امر ثابت ہے کہ پوری دنیا میں لوگ پورے مطالعہ اور دلائل سے مطمئن ہو کر اسلام قبول کر رہے ہیں۔ ادیان عالم کے مطالعہ کے بعد ہی اسلام کی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہیں۔ الاسلام يعلو ولا يعلی ۔ اس حقیقت کا اظہار اللہ نے اپنے کلام پاک میں کیا ہے۔ سنریهم آياتنا في الآفاق وفي انفسهم حتى يتبين لهم انه الحق اولم يكف ربك انه على كل شئ شهيد – یہ اسلام کی حقانیت کی ہی تو بات ہے کہ آج پوری دنیا میں عیسائیوں اور یہودیوں نے اپنی دولت کے دہانے کھول دیئے ہیں تاکہ عیسائیت پوری دنیا میں پھیل جائے اور اسلام کمزور ہو جائے۔ مگر ان کی تدبیریں الٹی ہی پڑرہی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک سال میں عیسائیت کی تبلیغ میں ۱۸۱ ملین ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔
شیخ عماد! اللہ کے فضل سے آپ مسلمان ہو گئے۔ اسلام کے دائی اور اسلامی کتابوں کے مؤلف ہو گئے۔ آپ اسلام میں کیسے داخل ہوئے ؟ عماد کہتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے میرا نام ” عماد سمیر جاد“ تھا اور اس وقت میر انام “عماد محمد احمد مہدی” ہے۔ البتہ میں عماد مہدی سے مشہور ہوں۔ سب سے پہلے میری والدہ نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد میری بہن نے۔ اس وقت صرف میرے والد اسلام سے محروم ہیں۔ لیکن ان کے پاس جاکر برابر اسلام کی دعوت دیتا ہوں اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان کو ایمان کی توفیق دے اور ان کے سینے کو اسلام کے لئے کھول دے۔ بے شک جو عقیدۂ توحید کے سایہ میں زندگی گذارتا ہے وہ اللہ کی طرف سے عظیم نعمتوں سے سرفراز ہوگا۔ میں چاہتا ہوں کہ اس خیر سے میرے خاندان کے سب افراد بھی فیضیاب ہوں۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ہمارا خاندان ماں، باپ، بھائی بہن سے مرکب ہے۔ اور شروع سے ہی یہ خاندان متدین مسیحی چلا آرہا ہے۔ لیکن میں نے اپنی والدہ میں محسوس کیا کہ وہ اسلام کے تئیں نرم جذبات رکھتی ہیں۔ مگر اس کا اظہار انھوں نے اپنے کسی عمل سے نہیں کیا۔ اس کی مناسبت سے ماضی کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ ایسا ہوا کہ رمضان المبارک ہی میں عیسائیوں کے بھی روزے کے دن آگئے۔ میں نے اپنی والدہ کو دیکھا کہ مغرب کی اذان ہوتے ہی وہ افطار کر رہی ہیں۔ حالانکہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ آسمان میں تارے نظر آنے کے بعد ہی روزہ کھولتے ہیں۔ میں نے اس بارے میں اپنی والدہ سے سوال بھی کیا تو جواب دیتی ہیں دیکھو! آسمان کی طرف۔ تارے نظر آنے لگے۔ حالانکہ آسمان میں ایک تارا بھی نظر نہ آتا۔

” عماد “کہتے ہیں: اسی طرح میں نے اپنی والدہ کو امام حرم شعراوی کے خطبے کو بارہا سنتے دیکھا۔ ایک روز میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ان چیزوں کو کیوں سنتی ہیں ؟ تو فوراً انھوں نے جواب دیا۔ اس لئے سنتی ہوں تاکہ معلوم ہو کہ مسلمان عیسائیوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ یہ ایام گذر ہی رہے تھے کہ حسب معمول اسکول سے جب میں واپس اپنے گھر آیا تو گھر میں والدہ کو نہیں پایا۔ اس طرح ان کے لباس وغیرہ اور ضروری سامان کو بھی نہیں پایا۔ میں فوراً اپنے والد کے پاس گیا وہ ان دنوں فروٹ کے تاجر تھے۔ ان سے ان کے بارے میں معلوم کیا تو انھوں نے لا علمی کا اظہار کیا۔ چند روز کے بعد معلوم ہوا کہ میری والدہ نے مسلمانوں کے ایک مخصوص علاقے میں جاکر اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہی وہ ایام تھے جب میں کلیسا اور گر جا گھر میں جانے سے گھبرانے لگا۔ ایک روز میں کلیسا میں پادریوں سے سبق پڑھ رہا تھا۔ درس کے دوران پادری نے میری والدہ کا نام لے کر حاضرین سے کہا کہ تم لوگ اس عورت کو جانتے ہو ؟ اس نے ہم کو شر مندہ کیا اور کلیسا کی خیانت کی۔ اس لئے اس وقت وہ ایک قید خانے میں پڑی ہوئی ہے۔
اتنا بولتے بولتے ” عماد“ کی آنکھیں بھر گئیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس روز جب میں کلیسا سے باہر نکلا تو میں ذہنی طور پر پریشان ہو گیا اور والدہ کے بارے میں طرح طرح کے خیالات ستانے لگے۔

“عماد” کہتے ہیں۔ جب میں گھر کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ پیچھے سے ایک آواز” یا عماد, یا عماد” پکار رہی ہے۔ قریب جا کر دیکھا کہ میری والدہ ہے۔ میں ان کی طرف فوراً متوجہ ہوا اور ان کو سلام کیا۔ والدہ کے ساتھ چند برقعہ پوش مسلمان عور تیں بھی تھیں۔ نقاب کو دیکھ کر میں نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ حراست میں ہیں؟ امی نے کہا نہیں۔ بلکہ نقاب ہم مسلمان خواتین کی پہچان ہے۔ اس دوران مغرب کی اذان ہونے لگی۔ اذان کو سن کر معلوم ہو رہا تھا کہ پہلی مرتبہ میں اذان سن رہا ہوں۔ حالانکہ اس سے پہلے متعدد دفعہ اذان سن چکا تھا۔ لیکن اس اذان نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ اذان ختم ہونے کے بعد میں نے امی کو دیکھا کہ وہ ان کو دہرا رہی ہیں اور میری آواز پر قطعاً دھیان نہیں دے رہی ہیں۔ اس کے بعد وضو کر کے نماز کے لئے کھڑی ہو گئیں۔ اور نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرنے لگیں۔ جب انھوں نے سورہ اخلاص کی قرأت شروع کی اس وقت میں نے اپنے قلب میں ایک ٹھنڈی ہوا پیوست ہو جانے کا احساس کیا۔ اس وقت میری کیا حالت ہوئی؟ اس کو میں بیان نہیں کر سکتا۔ اس وقت اللہ کے نور و رحمت نے مجھے اپنے دائرے میں لے لیا۔ اور ایک نئی روح میرے جسم میں داخل ہو گئی۔ اسی وقت اچانک یوم الثلاثاء کا درس یاد آیا۔ جس میں پادریوں نے میری والدہ کی سیرت کو داغدار کیا تھا۔ میں نے اپنے ضمیر سے پوچھا کہ آخر کیوں پادری میری والدہ کی سیرت کو بگاڑ رہے ہیں۔ کیا عیسی کی یہی تعلیمات ہیں ؟
“عماد “ کہتے ہیں۔ میں پھر دوبارہ منگل کے درس میں پادریوں کے پاس گیا۔ اور آج میں اس لئے درس میں حاضر نہیں ہوا تھا کہ میں عیسائی ہوں۔ بلکہ پادریوں سے جرح کرنے گیا تھا۔ چنانچہ میں درس میں حاضر ہوا تو آج پھر پادری والدہ پر جرح اور ان کے بارے میں غلط قسم کی باتیں کر رہا تھا۔ اس وقت میں نے سب لوگوں کے سامنے بلند آواز سے پادریوں کو مخاطب کر کے کہا۔ تھوڑا سا ٹھہرجاؤ۔ تم نے بہت زیادہ میری والدہ کے ساتھ بد تمیزیاں کر لیں۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ میری والد ہ الحمد للہ قید خانہ میں نہیں ہیں۔ بلکہ وہ اسلام کے سایہ میں نہایت پر سکون زندگی گذار رہی ہیں۔ اور سن لو میں بھی اپنی والدہ کے ساتھ ساتھ حلقہ بگوش اسلام ہو گیا ہوں۔
“عماد “ اپنی گفتگو کو ختم کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ وہ دن جب میں نے اسلام قبول کیا تھا آج تک اپنی والدہ کے زیر تربیت اسلامی زندگی گزار رہا ہوں۔ اے اللہ تیرے اس فضل پر قربان اس موقع پر میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہر مسلمان کو ایسی مربیہ ماں عطا کرے۔ وذالك فضل الله۔

(العالم الاسلامي ، مكة المكرمة

۱۳ – ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۷)
(روشنی کی طرف ص/١٤٦)