جواب:-
اس کا جواب سمجھنے کے لیے ہمیں قرآن کی آیات، شریعت کے اصول، اور نبی ﷺ کے خاص احکامات کو سمجھنے کی ضرورت ہے
1. قرآن میں اللہ تعالیٰ نےعام مسلمانوں کے لیے حد مقرر کی ہے
اللہ تعالیٰ نے عام مسلمانوں کے لیے فرمایا “فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ”
ترجمہ: “عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں، ان سے دو، تین یا چار سے نکاح کرو” (سورۃ النساء 4:3)
یہ آیت عام مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ 4 بیویوں کی حد مقرر کرتی ہے۔
2. نبی ﷺ کے لیے خاص اجازت
نبی ﷺ کے کچھ احکام عام امت سے خاص تھے، جنہیں فقہ میں “خصوصیات النبی” کہا جاتا ہے۔
محدثین اور فقہاء نے ان کی فہرست بنائی ہے، جو تقریباً 30 سے 40 تک خصوصیات پر مشتمل ہے۔
ان میں سے کچھ اہم خصوصیات یہ ہیں
نبی ﷺ کی اہم خصوصیات :
نکاح اور بیویوں کے بارے میں :
چار سے زائد بیویاں رکھنے کی اجازت ، بیک وقت 9 تک کی اجازت ( سورۃ الاحزاب: 50)
بغیر مہر کے نکاح کی اجازت اگر عورت خوشی سے اپنے آپ کو پیش کرے تو اس صورت میں حضور چاہیے تو نکاح کرسکتے ہیں ( سورۃ الاحزاب: 50)
اس کے بر خلاف عام مسلمان اگر مہر ادانہ کرنے کے شرط کے ساتھ نکاح کرتا ہے تب بھی اس پر مہر مثل واجب ہوگا اور شرط کو شرعی حیثیت سے لغو قرار دیا جاےگا۔
(معارف القران 189/7)
عبادات اور شرعی احکام میں :
تہجد کی نماز آپ پر فرض تھی جب کہ امت پر نفل( سورۃ المزمل: 1-4)
مسلسل روزے رکھ سکتے تھے (وصال کا روزہ) بغیر افطار کیے
عن عائشة رضي الله عنها، قالت:” نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوصال رحمة لهم”، فقالوا: إنك تواصل، قال: إني لست كهيئتكم إني يطعمني ربي ويسقين،
عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پے در پے روزہ سے منع کیا تھا۔ امت پر رحمت و شفقت کے خیال سے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے
صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1964]
یہ بھی آپ کی خصوصیت تھی اس سے امتی کو منع کیا گیا۔
زکات لینا آپ کے لیے اور آپ کے خاندان (بنی ہاشم) کے لیے حرام تھی (مسلم 1072)
جنگ اور جہاد میں :
مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ (خمس) آپ کے اختیار میں آتا تھا — سورۃ الانفال: 41
دشمن کو بغیر اعلان کے بھی حملہ کرنے کی اجازت (امت کو اصولی طور پر اعلان کے بعد)
دنیوی اور سماجی امور میں :
فیصلے میں وحی کی رہنمائی — (وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ) النجم: 3
آپ کا فیصلہ آخری اور قطعی تھا (کسی کو اس پر اعتراض کا حق نہیں) — سورۃ النساء: 65
آپ کے لیے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد کسی کی بیویوں سے نکاح حرام — سورۃ الاحزاب: 53
عزت و احترام کے بارے میں :
آواز بلند کرنا حرام — سورۃ الحجرات: 2
آپ کو نام لے کر پکارنا منع — سورۃ النور: 63
نماز میں آپ پر خاص درود پڑھنا فرض قرار دیا گیا — سورۃ الاحزاب: 56
نوٹ:
ان خصوصیات کی حکمت یہ تھی کہ آپ ﷺ کا مقام، ذمہ داری اور امت کی قیادت عام انسان سے بالکل مختلف تھی، اس لیے شریعت کے کچھ احکام آپ کے لیے خاص رکھے گئے۔
سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ…” (الاحزاب 33:52)
ترجمہ: “اے نبی! اس کے بعد آپ کے لیے (مزید) عورتیں حلال نہیں، اور نہ ہی آپ انہیں بدل سکتے ہیں…”
اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ کو ابتدائی طور پر زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت تھی، لیکن بعد میں مزید نکاح کی اجازت ختم ہو گئی، اور موجودہ بیویاں آپ کے نکاح میں رہیں۔
3. حکمتیں اور مصالح
کفالتِ بیوہ اور یتیموں کا سہارا
قبائل میں صلح اور اتحاد پیدا کرنا
اسلامی پیغام کو گھروں تک پہنچانا (ازواجِ مطہرات خواتین تک دین پہنچاتی تھیں)
جاہلیت کی غلط رسموں کا خاتمہ (جیسے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح)
یہ تمام حکمتیں عام مسلمان کے نکاح سے مختلف اور امت کے لیے رہنمائی دینے والی تھیں۔
مذکورہ تمام باتوں سے پتہ چلا کہ ایک نبی غیر نبی سے کئی چیزوں میں مختلف ہوتاہے اس لئے حضور اور امتی کے درمیان یہ تفریق کی گئی ہے ۔