يا موسى انه انا الله العزيز الحكيم (سوره النمل :٩)
ترجمہ: اے موسی علیہ السلام میں ہی اللہ ہوں زبردست حکمت والا ہوں۔
اعتراض:
دیکھیے اس آیت میں اللہ خود کی تعریف( APPRECIATION) کرتا ہے جبکہ اپنی منہ سے اپنی تعریف کرنا شریف آدمی (GENTLEMAN)کا کام نہیں ہے ہو سکتا تو خدا کا کیسے ہو سکتا ہے؟
جواب:
اللہ تعالی جب بندوں کی ہدایت کے لیے کتاب بھیجتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ اپنی صفات کا ذکر بھی کرے تاکہ بندوں کو اس کی صفتیں معلوم ہو سکیں بس آسمانی کتابوں میں جہاں جہاں صفات خداوندی کا ذکر آتا ہے اس سے یہی مراد ہوتی ہے کہ بندے ان صفات پر اعتقاد (BELIEF ) رکھیں نہ کہ خدا اپنی تعریف کرتا ہے۔