من ذا الذي يقرز الله فرزا حسنا فيضاعفه له وله اجل كريم (الحديد:11)
ترجمہ: کون ہے جو اللہ کو بہترین قرض دے پس اللہ تعالی اس کے لیے اس میں اضافہ کرے ۔۔
اعتراض:

(جیسا کہ اس آیت میں ہے )بھلا خدا کو قرض لینے کی کیا ضرورت پڑی؟ جس نے ساری مخلوق کو پیدا کیا وہ انسان سے قرض بھی لیتا ہے ؟
جواب:

 بعض لوگ جان بوجھ کر ‌متکلم(SPEAKER )کے منشاء کے خلاف مطلب بیان کرتے ہیں ۔
اب سنیے قرآن مجید میں ارشاد ہے:
ان الله يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر( الرعد:٢٦)
ترجمہ. اللہ جس کے لیے چاہتے ہیں رزق میں کشادہ کرتے ہیں اور جس کے لیے چاہتے ہیں تنگ کر دیتے ہیں۔
یہ آیت بتلا رہی ہے زیر بحث آیت میں قرض سے وہ قرض مراد نہیں جو تنگدستی میں ایک دوسرے سے لوگ لیا کرتے ہیں۔ بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ خدا بندوں کو ترغیب (Encouragement)دیتا ہے کہ تم نیکی کے کاموں میں جو خرچ کرتے ہو اس کو بیکار نہ سمجھو بلکہ یہ سمجھو ہم نے اللہ کو قرض دیا ہے اللہ اس سے کئی درجہ بڑھا کر عوض ہمیں عطا کرے گا۔