جواب:

حضرت جبرئیل علیہ السلام کو معلوم تھا عذاب دیکھنے کے بعد توبہ قبول نہیں ہوتی لہذا انہوں نے اسلام سے نہیں بلکہ ظاہری اسلام سے روکا جس پر اللہ کی دنیا والی رحمت متوجہ ہو سکتی تھی۔ جیسے منافقین ظاہری اسلام کی وجہ سے قتل اور قید سے محفوظ رہے اسی طرح احتمال تھا کہ فرعون ڈوبنے اور ہلاک ہونے سے بچ جاتا ۔

پھر اعتراض ہوتا ہے جب یہ حالت قبول ایمان کے لیے فائدہ مند نہیں اس لیے کہ آخرت کے مناظر ظاہر ہونے کے بعد ایمان مقبول نہیں تو پھر روکنے سے کیا فائدہ ؟

جواب: حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ظاہری رحمت کو بھی اس کے لیے گوارا نہیں کیا۔