جواب:
اللہ تعالی سورۂ بقرہ آیت ٦ میں فرماتا ہے ان الذين كفروا سواء عليهم ءانذرتهم ام لم تنذرهم لا يؤمنون .ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم غشاوة ولهم عذاب عظيم
ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے برابر ہے کہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کے آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
یہ آیات عام غیر مسلموں کے لیے نہیں بلکہ جو لوگ حق کو جان بوجھ کر رد کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں وہ اس وجہ سے نہیں کہ ان کے دلوں پر مہر لگ گیا بلکہ اس وجہ سے کہ یہ کفار ہر صورت میں حق کو رد کرنے پر تلے بیٹھے ہیں لہذا اس کا ذمہ دار خدا نہیں خود غیر مسلم ہیں۔
اور واضح رہے کہ یہ الزام اس وجہ سےبھی درست نہیں ہوگا کہ اللہ انبیاء اور رسل بھیج کر اور آسمانی کتابیں نازل فرما کر انسانوں کے لیے حق کا راستہ واضح کر دیا اب جنہوں نے حق قبول کیا وہ ہدایت یافتہ ہوئے اور جنہوں نے حق سے منہ موڑا اور انبیاء اور رسل کو ستایا انہیں گمراہی میں پڑے رہنے دیا ۔
ایک مثال سے سمجھیے اگر ایک تجربہ کار استاد کسی سے یہ کہے کہ فلاں طالب علم سالانہ امتحان( Annual Examination)میں فیل ہو جائے گا اس لیے کہ وہ بہت شریر ہے۔ سبق پر توجہ نہیں دیتا اگر بالفرض وہ طالب علم سالانہ امتحان پھر ہو گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟ وہ استاد جس نے پہلے سے ہی کہہ دیا تھا یہ طالب علم فیل ہو جائے گا یا پھر خود طالب علم؟ ہر حالت میں استاد قصوروار نہیں ہوگا ٹھیک اسی طرح اللہ کو یہ پیش یہ علم ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے حق کو ٹھکرانے کا تہہ کر رکھا ہے اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دیا ہے۔
لہذا وہ غیر مسلم خود ایمان نہ لانے اور اللہ سے منہ موڑنے کے ذمہ دار ہیں۔