جواب :
اللہ تعالی نے رزق کا ذمہ خود لیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اس کائنات میں جاندار پیدا کرکے یونہی نہیں چھوڑ دیا، بلکہ ان کے رزق کا پورا سامان اور انتظام رکھ دیا، پورا بندوبست کردیا اور سارے اسباب مہیا کردیے۔ یہ انسان کا کام ہے کہ اس رزق کے حصول کے لیے جدوجہد کرے،خاص طریقہ کار اختیار کرے اور اپنے مقدر کا رزق حاصل کرے۔
مثال :
ایک بادشاہ اعلان کرتا ہے کہ شہر کے سب لوگوں کے راشن کا انتظام اور گنجائش موجود ہے۔ ایک خاص طریقہ کار کے ذریعے اس کا حصول ہوسکتا ہے۔ اب کوئی آدمی اس طریقہ کار کو اختیار نہیں کرتا اور بھوک سے مر رہا ہے تو کیا اس سے بادشاہ کا اعلان جھوٹا ثابت ہوگا یا یہی آدمی خود قصور وار ہوگا؟
نقلی جواب :
یہ دنیا آزمائش ہے، اس میں رزق اور بیماریوں سے آزمایا جائے گا، یہ خدا کا فرمان ہے۔ جب بیماریاں اور رزق کی تنگیاں موجود ہیں اور کچھ لوگ بھوک کی آزمائش میں مبتلا ہیں تو وہ خدا کے فرمان کو خود سچا ثابت کرتی ہیں۔