جواب:
اس سوال میں یہ مفروضہ چھوپا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتا ہے ہمیں ان سب کے بارے میں علم ہے- یا سب کچھ معلوم ہونا چاہیے ایسا کچھ نہیں ہے- ہم نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا .اور اس سوال سے یہ بھی تاثر ملتا ہے کہ گویا سوال پوچھنے والے موصوف کو یہ معلوم ہے کہ کائنات کو بنانے کے بعد اللہ کیا کر رہا ہے یعنی اللہ کائنات کے نظام چلانے میں مشغول ہے اور مزید کچھ کرنے کی گنجائش نہیں ہے- یہ بات صحیح ہے کہ اللہ رب العزت رب العالمین ہے اور کائنات کو وہی چلا رہا ہے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ کائنات کی پالنہاری اللہ کے لیے کچھ ایسی مشغولیت ہے کہ اسمیں مصروف ہوجائے تو کوئی دوسری چیز نہ کرسکتے- ایسے ہی اس سوال میں یہ بھی مفروضہ ہے کہ اللہ کچھ کرتا رہتا ہے یا کچھ کرتے رہنا اللہ کی مجبوری ہے–
یہ تمام مفروضہ مخلوق کی کمزوریاں ہیں خالق کی نہیں .اللہ نے جو کائنات بنایا ہے زمان و مکان اس کائنات کا حصہ ہے لہٰذا کائنات بننے سے پہلے وقت کا وجود ہی نہیں تھا ایسے میں ایک انسان کے لیے یہ سمجھنا ناممکن ہے کہ وقت کے فریم کے باہر کیا ہوتا ہے اور کیسے ہوتا ہے اس لیے کم از کم یہ بات اس دنیا کے انسانی شعور کے ادراک کے باہر ہے-
آسان جواب یہ ہے کہ :
(١)ہمیں پتہ نہیں ہے-
(٢) اور اللہ رب العالمین نے ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں سمجھی-
(٣) ہمیں وہی چیزیں بتائ گئی ہے جسکی ہمیں ضرورت ہے-
(٤) ہماری نجات کے لیے اس سوال کا جواب جاننا ضروری نہیں-