جواب :
اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنے علوم عطا فرمائے تھے کہ دنیا میں کسی کو بھی اتنے علوم لکھنا پڑھنا سیکھنے کے باوجود حاصل نہیں ہو سکے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے عالم و معلم ہوئے تو جہل اور ناخواندہ ہونے پر مذمت ہی دور ہو گئی اور امی ہونا یعنی (دنیا میں کسی استاد ٹیچر پروفیسر اسکول کالج وغیرہ میں جا کر نہ پڑھنا) جو کہ تمام انسان کے لیے عیب ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صفت مدح ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے علوم و معارف و حقائق صادر ہوئے کہ کوئی بڑے سے بڑا پڑھا لکھا انسان مقابلہ نہیں کر سکتا اس لیے ان حالات میں امی ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی دلیل ہے،اور نبی کریم ﷺ امی ضرور تھے، اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں آپ کا کوئی استاذ یا سیکھا نے والا نہیں ہے آپ کی تمام تر رہبری اللہ تعالیٰ کی جانب سے کی جاتی ہے (سورہ نجم آیت ۳/۴/) میں اللہ تعالی ٰفرماتے ہیں کہ “اور وہ(پیغمبر) اپنی خواہش سے نہیں بولتے جو کلام پیش کر رہے ہیں وہ وحی (اللہ کی جانب سے )ہے ۔
لہٰذا ملحدین کا آپﷺ کو انپڑھ کہہ کر اعتراض کرنا جہالت ہے۔