جواب :
حقیقت میں یہ ایک انتہائی واہیات بات ہے دنیا میں ہی یہ شرم کا مقام ہے کہ کسی عورت کے چار چار یا 70، 70 شوہر پائے جاتے ہو کیا دنیا کے کسی بھی مذہب یامعاشرے میں یہ قابل قبول ہے کہ ایک عورت کے بیک وقت متعدد شوہر ہوں؟
یہ انسان کی غیرت کے بھی خلاف ہے اور فطرت کے بھی خلاف ہے جنت تو پاکیزہ جگہ ہے وہاں خلاف فطرت عمل کیسے ہو سکتا ہے؟ جنت میں ایک مرد کو 70 حوریں ملے گی اور 70 حوروں کی سردار اللہ تعالی دنیا کی پاکیزہ عورت کو بنائیں گے قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جنت میں جس نعمت کا تمہارا جی چاہے گا تم کو ملے گی اور جو چیز طلب کروں گے تمہارے لیے موجود ہوگی یہ بخشنے والی مہربان ذات کی طرف سے مہمانی ہے (فصلت 31/32)
جنت میں دلوں کی خواہشات کو پورا کیا جائے گا لہذا ہر پاک دامن جنتی عورت جنت میں جو چاہے گی جس طرح چاہے گی زندگی گزارے گی یعنی دلوں کی تسکین کا تمام سامان جنت میں ہوگا لہذا یہ کہنا کہ عورت کے حق میں یہ ناانصافی ہے یہ بالکل واہیات بات ہے ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے ان کی آنکھوں نے دیکھا ہے نہ ان کے کانوں نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے (صحیح بخاری 4779)