جواب :
اسلام چھوڑنے سے انسان خود اپنا ضرورنقصان کر رہا ہے انسان کےخود اپنا نقصان کرنے کی وجہ سے وہ عذاب میں مبتلا ہوگا کیونکہ اللہ تعالی نے دو راستے بتا دیے تھے اچھا (اسلام) برا (غیر اسلام) اور قاعدہ ہے کہ اچھائی کرے گا اچھے راستے کو چنے گا تو کامیاب ہو جائے گا اور اللہ تعالی اچھا بدلہ، بطورانعام وتحفہ دے گا اور اگر برا راستہ چنے گا تو ناکام ہو جائے گا، مجرم بنے گا تو پھر سزا تو ملے گی ہی انعام کی طرح ۔
رہی بات اللہ تعالی کو فرق پڑنے کی تو اللہ تعالی بے نیاز ہے اللہ تعالی کو اپنی عنائے ذاتی اور کمال ذاتی کی وجہ سے تمہارے کسی عمل کی ضرورت نہیں کہ اگر عمل چھوڑ دو گے تو اللہ تعالی کی شان کم ہو جائے گی ایسا نہیں ہے اگر پوری دنیا بھی اللہ تعالی کی نافرمان ہو جائے تو بھی اللہ تعالی کی شان میں کوئی کمی نہیں آئے گی اللہ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا تو اسلام مذہب نجات کا مدار ہے اس لیے اسلام پر رہے ورنہ غیر اسلام کو اختیار کرنے کی وجہ سے عذاب کے مستحق ہو جائیں گے مثال جس طرح مجرم کو سزا دینے سے کورٹ پولیس وغیرہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا اسی طرح مجرم بندےکو سزا دینے سے اللہ تعالی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔