جواب :
آخرت میں گنہگار کو عذاب دینے سے اللہ تعالی کی بندوں سے محبت میں کوئی فرق نہیں آئے گا اللہ تعالی کسی پر ظلم نہیں کرتے ہیں جب دنیا دارالامتحان ہے اور اللہ تعالی نے تمام بندوں کو صحیح اور غلط راستے کی خبر قرآن کریم کے ذریعے بھیج دی ہے اور بندوں کو اس دنیا میں اختیار بھی دیا ہے صحیح اور غلط راستے کے انتخاب کا جو شخص چاہے اللہ کے احکامات کا انکار کر دے جو چاہے ایمان لائے (سورہ کہف)
پھر اپنے بندوں سے محبت کرنے والے خدا کے لیے انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے لہذا آخرت میں سزا دینا یہ عین انصاف کے مطابق ہے اسی طرح کا سوال ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا جس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے صرف اسی کو عذاب دیتا ہے جو سرکش ہو اور اللہ کی وحدانیت کا انکار کرے جس بندے نے خود ہی راہ جہنم تجویز کیا اور موت تک اس پر جمع رہا اس کو عذاب دینے میں محبت الہی کا کیا قصور اللہ تعالی نے اپنے علم محیط کی بنا پر بندے کے اختیار کیے ہوئے راستے کو پہلے سے لکھ دیا تو قصور بندے کا ہے یہی وجہ ہے کہ جہنم میں داخل ہونے والے کسی بندے کو اللہ تعالی کی محبت یا انصاف میں کمی کی شکایت نہ ہوگی بلکہ وہ کھلے لفظوں میں اپنے قصور کا اعتراف کرے گا۔