جواب :
یہ سوال بھی دہریہ یا شک کی بنیاد پر سوچنے والے افراد کی طرف سے اکثر اٹھایا جاتا ہے: اگر واقعی کوئی خدا ہے، اور وہ سب کچھ سن سکتا ہے، سب کچھ جانتا ہے، تو پھر وہ براہِ راست کیوں ظاہر نہیں ہوتا؟ وہ کیوں پردے میں رہ کر ہمیں آزماتا ہے؟ اگر وہ ہمیں دیکھ سکتا ہے، تو ہم اسے کیوں نہیں دیکھ سکتے؟ اگر وہ چاہتا ہے کہ ہم اس پر ایمان لائیں، تو وہ خود سامنے آ کر اپنا تعارف کیوں نہیں کراتا؟

یہ سوال بھی اس غلط فہمی پر مبنی ہے کہ خدا انسان جیسا ہے، یا اسے انسان کی طرح نظر آنا چاہیے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اور انسان مخلوق۔ دونوں کی سطح، فطرت اور حیثیت یکساں نہیں ہو سکتی۔ خالق کو مخلوق کی سطح پر آ کر اپنی الوہیت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ مخلوق کو چاہیے کہ وہ عقل، شعور، فطرت اور وحی کے ذریعہ اپنے خالق کو پہچانے۔

قرآن اس سوال کا نہایت سادہ اور فیصلہ کن انداز میں جواب دیتا ہے:
“وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ ۖ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الْأَمْرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ” (سورہ الأنعام: 8)
“اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا؟ اگر ہم کوئی فرشتہ اتار دیتے تو معاملہ ختم ہو جاتا، پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی۔”
یعنی اگر خدا یا اس کے فرشتے براہِ راست ظاہر ہو جائیں، تو پھر ایمان کا امتحان باقی نہ رہے، ہر کوئی مجبوری میں مانے گا اور ایسا ایمان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

دینِ اسلام میں ایمان بالغیب کی بڑی اہمیت ہے:
“الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ…” (سورۃ البقرہ: 3) کہ “جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔”
اگر اللہ تعالیٰ ہر وقت ظاہر ہو کر اپنے آپ کو دکھاتا، تو پھر انسان کا اختیار، آزمایش، ارادہ، اخلاقی سلوک؛ سب بےمعنی ہو جاتے۔

یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے، جیسے کوئی طالب علم امتحان کے وقت میں اپنے استاد کو نہیں دیکھتا، اسی طرح انسان بھی اس امتحان میں براہِ راست اپنے خالق کو نہیں دیکھتا۔ لیکن استاد نے طالب علم کو کتابیں، رہنما اصول، مشقیں اور پرانے امتحانات کی مثالیں دی ہوتی ہیں؛ بعینہٖ اللہ تعالیٰ نے بھی انسان کو عقل، فطرت، ضمیر، انبیاء، آسمانی کتابیں، اور قدرت کی نشانیاں دی ہیں۔

اب یہ انسان کی آزمائش ہے کہ وہ ان شواہد کو دیکھ کر خود اپنے خالق کو پہچانے۔ اگر اللہ ظاہر ہو جائے تو شک کا امکان ختم ہو جائے گا، مجبوری پیدا ہو جائے گی، اور انسان کو “ایمان بالغیب” کا درجہ نصیب نہ ہوگا۔ اور یہی تو بندگی کا کمال ہے؛ بغیر دیکھے، عقل اور محبت سے خالق کو ماننا۔

دوسری بات یہ کہ اگر کوئی انسان یہ چاہے کہ خدا مادی شکل میں ظاہر ہو، تو وہ اس کی ذات کا انکار کر رہا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وجود محدود، جسمانی، اور زمانی نہیں؛ وہ تو غیر محدود، نورانی، اور فوق المادی ہے۔ قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کو دیکھنے کی خواہش کی، تو کیا ہوا؟
“قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَانِي…” (سورہ الاعراف: 143)
“اے میرے رب! مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں، فرمایا: تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔”

حتیٰ کہ اللہ نے پہاڑ پر تجلی کی، اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا، اور موسیٰ ؑ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ اگر پہاڑ اللہ کی تجلی کو برداشت نہیں کر سکتا، تو انسان کس طرح خالقِ کائنات کی تجلی کو براہِ راست دیکھ سکتا ہے؟

اسی لیے اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ براہِ راست نازل ہو کر نہیں آتا بلکہ اپنی مخلوقات، انبیاء، اور وحی کے ذریعہ انسان تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ اس کا نظام ایک حکیم خالق کا نظام ہے، نہ کہ ایک جذباتی، شو آف کرنے والا دیوی دیوتا جیسا؛ جیسا کہ دیگر ادیان میں تصور پایا جاتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ خدا کا “نہ آنا” اس کی غیر موجودگی نہیں بلکہ اس کی عظمت، حکمت، اور بندگی کا معیار ہے۔ وہ اپنی مخلوق کو شعور، عقل، فطرت، اور وحی دیتا ہے، اور پھر دیکھتا ہے کہ کون اسے بغیر دیکھے مانتا ہے؛ یہی ایمان کی اصل روح ہے۔