از قلم: مولانا اشرف عباس قاسمی
(استاذ دارالعلوم دیوبند)
محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست قائم کرنے کے بعد اس کے استحکام اور دیگر دعوتی، دینی اوراعلیٰ سماجی مقاصد کے لیے متعدد نکاح کیے۔ ان میں سے ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کئی معنوں میں انتہائی اہمیت کا حامل اور اسلام کی انقلابی تحریکِ اصلاح کا نمایاں باب ہے۔ پہلے آپ نے حضرت زینبؓ کا نکاح غلام کی حیثیت سے آپ کے پاس پہنچنے والے، منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کرکے عربوں میں خاندانی تفوق، نسبی تفاخر اور طبقاتی اونچ، نیچ کا جو تصور تھا، اس پر ضرب کاری لگائی،رنگ ونسل اور خاندان ووطن سے اوپر اٹھ کر انسانیت کے رشتے کی عظمت دلوں میں جاگزیں کردی، پھر جب طبعی مناسبت نہ ہونے اورآگہی ناچاقی کے سبب دونوں میں نباہ نہیں ہوسکا تو طلاق اور عدت کے بعد حضرت زینبؓ خاص خدائی فرمان کے تحت نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آگئیں اور اس طرح صدیوں سے چلی آرہی اس رسم قبیح پر قدغن لگ گئی کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹے کے درجے میں ہے اور سگی اولاد کی طرح اس کی بیوی سے بھی مناکحت جائز نہیں ہے۔ جیساکہ عربوں میں اسے بہت برا خیال جاتا تھا اور خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر مخالفین کی طرف سے طعنہ زنی ہوئی؛ لیکن آپ نے نہایت استقلال اور عزیمت کا ثبوت دیتے ہوئے زبان کے ساتھ عمل سے بھی بتلادیا کہ بچے کی پرورش اور اس کے ساتھ ہمدردی ایک انسانی فریضہ ضرورہے؛ تاہم اس سے وہ قرابت اور جزئیت ثابت نہیں ہوتی جو اپنے جگر کے ٹکڑے سے ہوتی ہے؛ اس لیے محض کسی کو بیٹا قرار دینے سے وہ اس کا حقیقی بیٹا اور وارث نہیں بن جائے گا۔
مستشرقین کی ہرزہ سرائی
لیکن مستشرقین ومعاندین نے صالح مقاصد کے لیے انجام پانے والے اس پاکیزہ نکاح کو غلط رخ دے کر اور افسانہ طرازی کرکے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو داغ دار وبے وقعت کرنے کی جو مذموم کوشش کی ہے، وہ ان کے خبث باطن، اسلام دشمنی اور حقائق سے چشم پوشی کی واضح دلیل ہے۔ مستشرقین نے اس نکاح کے حوالے سے ایڑی چوٹی کا زورلگاکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فطری اعتبار سے عورتوں سے بڑی انسیت وچاہت اور ان کی طرف غیرمعمولی میلان تھا اور حضرت زینبؓ کے حسن وجمال سے متاثرہوکر ہی منہ بولے بیٹے کی بیوی ہونے کے باوجود ان سے نکاح کیا تھا۔ (العیاذ باللہ)
چنانچہ مشہور فرانسیسی مستشرق گستاؤلی بان (۱۸۴۱-۱۹۳۱/) اپنی مشہور زمانہ کتاب ”حضارة العرب“ میں اس طرح ہرزہ سرائی کرتا ہے:
”وصف محمد الحوید ہو حبہ الطارئی للنساء․․․ وأطلق العنان لذلک الحب حتی انہ رأی اتفاقا زوجة ابنہ بالتبني وہي عاریة فوقع فی قلبہ منہا شيء، فسرّحہا بعلہا، لیتزوجہا محمد، فاغتم المسلمون، فأوحي الی محمد واسطة جبریل الذي کان یتصل بہ یومًا آیات تسوغ ذٰلک، فانقلب الانتقاد الی السکوت“ (حضارة العرب، ط: الہیئة المصریة، ص:۱۴۲)
”ان کی واحد کمزوری عورتوں سے ان کی فوری محبت ہے اور وہ اپنے اس جذبہٴ محبت میں اس قدر بے لگام تھے کہ ایک بار اتفاقاً ان کی نظر اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی پر پڑگئی جب کہ وہ برہنہ تھیں، بس کیا تھا دل میں ان کی محبت جاگزیں ہوگئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خاتون کے شوہر کو محمد سے نکاح کے لیے اسے طلاق دینی پڑی، جس سے مسلمانوں کو بڑا رنج ہوا؛ چنانچہ جبریل کے واسطے سے جو ایک دن ان کے پاس چند آیات لے کر آیا جو اس کی گنجائش بتارہی تھی؛ چنانچہ تنقید خاموشی میں تبدیل ہوگئی۔“
اس اقتباس میں رسول مطہر صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو مجروح کرنے کے ساتھ وحی کی مصدریت کے سلسلے میں بھی تشکیک کی کوشش کی ہے، جس پر ”دفاع سیرت طیبہ“ سلسلے کے مضمون۲ میں مدلل گفتگو کی جاچکی ہے۔
گستاولی بان کے علاوہ ولیم میور، واشنگٹن ارونگ، لامینز اور اسہرنگر جیسے مستشرقین اور مشنری مصنّفین کی تحریروں میں بھی اس نکاح کے حوالے سے خوب خیال آرائی اور افسانہ سازی کی گئی ہے۔ (دیکھیے: حیاة محمد، محمد حسین ہیکل، دارالمعارف مصر، ص۲۲۷-۳۳۶)
گفتگو کے چار نکات اورمستشرقین کا ماخذ
اس نکاح کا تذکرہ خود اللہ رب العزت نے سورئہ احزاب کی آیت نمبر ۳۷ میں کیا ہے؛ لیکن اس آیت کی تفسیر میں ہمارے بعض مفسرین کی طرف سے کچھ ایسی ضعیف اور بے اصل روایات درآئی ہیں جن سے مستشرقین ومعاندین کو مرچ مسالہ لگاکر اپنی خباثتوں کے اظہار اور ذات نبوت پر طعن کے لیے غذا فراہم ہوگئی ہے اور وہ انھیں روایات کے سہارے اپنی بحث کو معروضی بتاکر اپنے قارئین کے دل ودماغ کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛ اس لیے صحیح صورت حال کی وضاحت اور حقائق تک رسائی کے لیے الگ الگ جہت سے چار ابواب کے تحت گفتگو کی جائے گی۔
۱- روایات کا مختصر جائزہ جن سے مستشرقین استدلال کرتے ہیں۔
۲- روایات صحیحہ سے مخالفین کے دعویٰ کا بطلان۔
۳- سورئہ احزاب کی آیت نمبر ۳۷ کی صحیح تفسیر۔
۴- دلائل عقلیہ سے الزامات کی تردید۔
لیکن ان مباحث سے پہلے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا، ان کے پہلے شوہر حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ اور ان سے نکاح کے احوال اختصار کے ساتھ درج کیے جارہے ہیں؛ تاکہ اصل صورت حال کو سمجھنے میں مدد ملے۔
ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا
اصل نام برّہ تھا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبدیل فرماکر زینب کردیا تھا۔ سلسلہٴ نسب اس طرح ہے: زینب بنت جحش بن رئاب اسدی، آپ کی والدہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب ہیں، ہجرت سے ۳۳ سال قبل ولادت ہوئی ( نبوت کے ابتدائی دور میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا۔ (اسدالغابہ ۵/۴۶۳) )(۱) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہؓ کے لیے نکاح کا پیغام دیا تو چوں کہ حضرت زید پر عالی نسب ہونے کے باوجود غلامی کا دھبہ لگ چکا تھا اور وہ غیرقریشی تھے؛ اس لیے ابتداء اً حضرت زینب کے گھروالوں نے اس رشتے کو قبول کرنے سے انکار کیا خود حضرت زینبؓ بھی راضی نہیں تھیں اور ان کے بھائی عبداللہ بن جحش کو بھی یہ رشتہ منظور نہیں تھا۔ (تفسیر ابن کثیر۳/۴۸۹)
لیکن اسی دوران آیت کریمہ نازل ہوگئی: وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَی اللَّہُ وَرَسُولُہُٓ أَمْرًا أَن یَکُونَ لَہُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ أَمْرِہِمْ وَمَن یَعْصِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًا مُّبِینًا․ (الاحزاب:۳۶)
”اور کسی ایمان دار مرد اور کسی ایمان دار عورت کو گنجائش نہیں جب کہ اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دے دیں کہ ان کو ان کے اس کام میں کوئی اختیار رہے اور جو شخص اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑچکا۔“
اس آیت کو سنتے ہی حضرت زینبؓ نے کہا: میں رسول اللہ … کی بات نہیں ٹھکراؤں گی اور مجھے یہ رشتہ منظور ہے۔ حضرت زینب کے بھائی اور دیگراقارب نے بھی ذاتی اور سماجی برتری کا خیال چھوڑ کر حکم الٰہی کے آگے سرجھکا دیا اور نکاح ہوگیا؛ لیکن مزاج میں عدم توافق کی وجہ سے نباہ نہیں ہوسکا اور طلاق کی نوبت آگئی اور ایام عدت گزرنے کے بعد ذی قعدہ ۵ھ میں بہ امر الٰہی، رسول اکرم … کی زوجیت میں آگئیں، جس کا تذکرہ احزاب کی آیت نمبر:۳۷ میں ہے۔ اسی بنیاد پر حضرت زینبؓ دیگر ازواج مطہرات پر فخر کرتی تھیں: ”زوّجکنّ أہالیکُنّ وزوّجنی اللّٰہ من فوق سبع سموات“ (صحیح البخاری، حدیث نمبر ۶۹۸۴،کتاب التوحید، ترمذی، حدیث نمبر:۳۲۱۳)
”یعنی تمہارا نکاح تمہارے اولیاء نے کرایا اور میرا نکاح خود اللہ رب العزت نے سات آسمانوں کے اوپر سے کرایا“
آپ کے نکاح سے جاہلیت کی ایک بری رسم تبنیت یعنی لے پالک اور منہ بولا بیٹا بھی اصل بیٹے کی حیثیت رکھتا ہے، کا خاتمہ ہوگیا۔ پردے کا حکم بھی اسی موقع پر نازل ہوا، حضرت زینبؓ ازواج مطہرات میں ممتاز مقام رکھتی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”ازواج میں سے وہی عزت ومرتبت میں میرا مقابلہ کرتی تھیں۔“ نیز آپ کے اخلاق واوصاف ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں:
”میں نے کوئی عورت زینب سے زیادہ دین دار، زیادہ پرہیزگار، زیادہ راست گفتار، زیادہ صلہ رحمی کرنے والی، زیادہ سخی اور خدا کی خوشنودی میں زیادہ سرگرم نہیں دیکھی۔ فقط مزاج میں ذرا تیزی تھی جس پر ان کو بہت جلد ندامت بھی ہوتی تھی۔“ (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث نمبر۲۴۴۲، سنن النسائی، حدیث نمبر:۳۹۴۶)
آپ کی وفات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں ۲۰ھ میں ہوئی۔ آپ کی کل عمر ۵۳ کے قریب ہوئی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی رفاقت چھ سال رہی۔ آپ کے وصال پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اعلان کرایا: اے اہل مدینہ! اپنی ماں کے جنازے میں شرکت کرو؛ چنانچہ ایک بڑی تعداد نے جنازے میں شرکت کی اور جنت البقیع میں آپ مدفون ہوئیں۔
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ
حضرت زید بن حارثہ کا آبائی نسب قضاعہ تک منتہی ہوتا ہے اور ماں کا نسب بھی معن بن طے سے ملتا ہے۔ ماں کا نام سعدیٰ تھا، ۸ برس کی عمر میں ننھیال جاتے ہوئے قبیلہ قین کے چند لٹیروں نے آپ کو والدہ سے چھین لیا اور مکہ کے بازار عکاظ میں غلام کی حیثیت سے برائے فروخت لے آئے۔ حضرت خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے حکیمؓ بن حزام نے اپنی پھوپھی کے لیے چار سو درہم میں خرید لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے بعد حضرت خدیجہؓ نے زید بن حارثہ کو تحفے کے طور پر آپ کی خدمت میں پیش کردیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید پر بڑی شفقت فرمائی اور ان کی بہترین تربیت کی۔ آپ کے اخلاق وعنایات کا حضرت زید پر اس قدر گہرا اثر مرتب ہوا کہ زید کے والد اور چچا عرصے کے بعد تلاش کرتے کرتے جب مکہ مکرمہ پہنچے اور آپ سے زید کو واپس کردینے کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیدکو اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو والدین کے پاس واپس جاسکتے ہیں؛ لیکن زید کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مفارقت گوارا نہ ہوئی اور آپ نے والدین کے پاس جانے سے انکار کردیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں غلامی سے آزاد کرکے اپنامنہ بولا بیٹا بنالیا اور وہ زید بن محمد کہلانے لگے، یہاں تک کہ آیت کریمہ نازل ہوئی: اُدْعُوْہُمْ لِآبَائِہِم ہُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ (الاحزاب:۵) ”تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو، یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ کا نکاح حضرت زینب بنت جحش سے کرایا اور مہر بھی اپنی طرف سے ادا فرمایا۔ حضرت زینبؓ کی علاحدگی کے بعد سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ سے آپ کا نکاح کردیا اور پہلا نکاح حضرت ام ایمنؓ سے ہوا تھا جن سے حضرت اسامہؓ پیدا ہوئے۔ حضرت زیدؓ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھے اور نمایاں خصوصیات وکمالات کے حامل تھے۔ ۸ھ میں غزوئہ موتہ میں مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے آپ کی شہادت ہوئی۔
۱- روایات کا مختصر جائزہ
موٴرخین اور بعض مفسرین نے انھیں کتابوں میں بعض ایسی روایات ذکر کردی ہیں جو نہ محدثین کے معیار پر پوری اترتی ہیں اور نہ حقائق سے مطابقت رکھتی ہیں۔ شیخ عبد اللہ الذہبی نے اس سلسلے کی چھ روایات کا ذکر کرکے ان کا جائزہ لیا ہے؛ جب کہ بعض محققین نے کل آٹھ روایات اور ان کے طرق ذکر کرکے ان کے بے اصل ہونے کو ثابت کیا ہے: (دیکھیے: الرد بالتفصیل علی شبہة الزواج، شمکة ابن مریم الاسلامیة)
چنانچہ محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے: زید بن حارثہ بیمار ہوئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اس وقت ان کی بیوی زینب بنت جحش ان کے سرہانے بیٹھی تھیں، زینب کسی کام کے لیے اٹھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ان پر پڑگئی، آپ نے اپنا سر جھکالیا اور فرمایا: سبحان اللّٰہ مقلب القلوب والابصار، اللہ پاک ہے جو دلوں اور نگاہوں کو پھیرنے والا ہے۔ حضرت زیدؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ کی خاطر ان کو طلاق دے دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اسی پر سورئہ احزاب کی آیت نازل ہوئی۔ (السیروالمغازی، ص:۲۶۲)
ابن جریر طبری نے بھی متعدد روایات ذکر کی ہیں ان سب کا حاصل یہ ہے کہ ایک بار سول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر حضرت زینبؓ پر پڑی اور ان کی محبت آپ کے دل میں گھر کرگئی، تو آپ نے کہا: سبحان اللّٰہ العظیم، سبحان اللّٰہ مصرف القلوب۔ (تاریخ الرسول ۳/۹۵، تفسیر الطبری ۱۹/۱۱۵، دارالہجرة)
ذیل میں باب کی روایات کا اختصار کے ساتھ جائزہ لیا جارہا ہے۔ ابن اسحاق والی روایت پر گفتگو اخیر میں کی گئی ہے:
ابن جریر نے تفسیر میں جو روایت ذکر کی ہے: وہ عبدالرحمن بن زید بن اسلم سے مروی ہے۔ اس میں دو علتیں موجود ہیں: پہلی علت اور خرابی یہ ہے کہ عبدالرحمن بن زید نہ تابعی ہیں اور نہ صحابی، گویا سند سے دو یا اس سے زائد راوی غائب ہیں۔ اس طرح یہ روایت معضل قرار پاتی ہے جو قابل قبول نہیں ہوتی ہے۔ دوسری علت یہ ہے کہ عبدالرحمن بن زید بالاتفاق ضعیف ہیں، اگرچہ زہد و عبادت میں ان کا خاص مقام ہے۔ (تہذیب التہذیب ۶/۱۷۷) نسائی کہتے ہیں: عبد الرحمن بن زید بن اسلم ضعیفٌ مدنیٌ (الضعفاء)
ابن جریر نے تفسیر میں دوسری روایت حضرت قتادہ سے ذکر کی ہے جو مشہور حافظ ومفسر ہیں؛ البتہ روایت حدیث میں ان کی تدلیس معروف ہے اور اس روایت کو بھی انھوں نے مرسلاً سماع کی صراحت کیے بغیر ذکر کردیاہے جوکہ محل نظر ہے۔ (حافظ عسقلانیؒ فرماتے ہیں: أحد الأثبات المشہورین کان یضرب بہ المثل فی الحفظ الا انہ کان ربما دلس، احتج بہ الجماعة (ہدي الساری ص۴۳۶) وذکرہ الحافظ في الطبقة الثالثة من طبقات المدلسین، وہي التي لا یقبل حدیثہا الی اذا صرّحوا بالسماع․ (طبقات المدلسین ۱/۱۴۳ مکتبة المنار، عمان، شاملہ)
تیسری ایک طویل روایت ہے جس کی تخریج ابن سعد نے طبقات میں کررکھی ہے جس کی سند میں وہ کہتے ہیں: أخبرنا محمد بن عمر، قال: حثنی عبد اللّٰہ بن عامر الأسلمي، عن محمد بن یحییٰ بن جنان“ اس روایت کی سند میں تین علتیں ہیں: پہلی علت یہ ہے کہ روایت مرسل ہے؛ اس لیے کہ محمد بن یحییٰ تابعی ہیں، جو تابعین اور صحابہ سے روایت کرتے ہیں، تو یقینا یہ واقعہ ان کے سامنے پیش آمدہ نہیں ہے اور نہ انھوں نے واسطے کی وضاحت کی ہے۔ دوسری علت یہ ہے کہ عبداللہ بن عامر اسلمی، بالاتفاق ضعیف ہیں۔ بخاریؒ نے انھیں ذاہب الحدیث اور ابوحاتم نے متروک کہا ہے۔ (میزان الاعتدال ۲/۴۴۸)
تیسری علت یہ ہے کہ محمد بن عمر واقدی مشہور موٴرخ وکثیر الروایہ ہیں؛ لیکن حدیث کے باب میں محدثین نے ان پر اعتماد نہیں کیا ہے۔ (میزان ۳/۶۶۴)
چوتھی روایت مسند احمد (۳/۱۴۹) میں موٴمل بن اسماعیل سے ہے جس کو وہ حماد بن زید سے روایت کرتے ہیں: اس میں دو علتیں ہیں: پہلی تو یہ ہے کہ موٴمل بن اسماعیل کے بارے میں محدثین نے کلام کیا ہے اور اکثر نے انھیں منکر روایات کرنے والا کثیر الخطا قرار دیا ہے۔ (تہذیب ۱۰/۳۸۱) دوسری خرابی یہ ہے کہ حماد کے دوسرے شاگردوں نے روایت کے اس حصے کو ذکر ہی نہیں کیا ہے۔ انھوں نے بس اخیر کاحصہ ذکر کیاہے جس میں حضرت زیدؓ کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری اور نزول آیت کا تذکرہ ہے۔ (دیکھیے: بخاری: حدیث نمبر: ۷۴۲۰ اور ترمذی حدیث نمبر: ۳۲۱۲)
پانچویں روایت امام قرطبیؒ نے قال مقاتل کہہ کر اپنی تفسیر میں ذکر کی ہے (۱۴/۱۹۰) ظاہر ہے مقاتل تک اس سند کی روایت کا کوئی اتا پتا نہیں اور اگر سند متصل بھی ہوجائے تب بھی خود مقاتل پر ائمہ حدیث نے کلام کررکھا ہے۔ (تہذیب ۱۰/۲۷۹)
جہاں تک تعلق ہے چھٹی روایت کا، جس کو زیر نظر مضمون میں پہلے نمبر پر ذکر کیاگیا ہے۔ تو یہ روایت سیرة ابن ہشام میں تو مل نہیں سکی؛ البتہ ابن اسحاق کی السیر والمغازی میں ضرور موجود ہے۔ اس کی سند ابن اسحاق نے اس طرح ذکر کی ہے: یونس عن ابی سلمة الہمدانی مولی الشعبی عن الشعبی قال: تو اس روایت کے سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ابوسلمہ مولی الشعبی سُلیم الکوفی ہیں، جن کے متعلق یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: سلیم مولی الشعبی ضعیف، جب کہ امام نسائی نے ذکر کیا ہے: مولی الشعبی لیس بثقة (الکامل فی ضعفاء الرجال ۴/۳۳۳)
دوسری بات یہ ہے کہ یہ مراسیل شعبی کی قبیل سے ہے اور مراسیل شعبی کے سلسلے میں محدثین کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ وہ ضعیف ہیں۔ ان کی زیادہ تر مرسل روایتیں حارث اور جابر سے ہیں۔ جن کی خود انھوں نے تکذیب کررکھی ہے۔ (دیکھیے: شرح کتاب العلل لابن رجب ۱/۱۹۵، شاملہ)
خلاصہ یہ کہ متن کے تعارض وتخالف سے قطع نظر سنداً بھی کوئی روایت محدثین کے معیار پر پوری نہیں اترتی؛ لیکن مستشرقین کو اس علمی بحث اور معیار نقد وقبول سے کیا غرض! انھیں تو بس اپنے مطلب کی کوئی بات مل جانی چاہیے خواہ وہ ثابت ہو یا نہ ہو۔
روایات کے سلسلے میں ابن کثیرؒ کی رائے
اس لیے بعد کے مفسرین ومحدثین نے مجموعی اعتبار سے ان ساری روایات پر ناقابل اعتبار ہونے کا حکم لگایا ہے: حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں: ذکر ابن جریر وابن ابی حاتم ہاہنا آثارًا عن بعض السلف رضی اللّٰہ عنہم احببنا أن نضرب عنہا صفحًا لعدم صحتہا فلا نوردہا (تفسیر ابن کثیر ۶/۴۲۴ دارطیبہ)
”اس مقام پر ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے بعض آثار سلفؒ کو ذکر کیا ہے؛ لیکن ان کے صحیح نہ ہونے کی وجہ سے ان کو پوری طرح نظر انداز کرنا ہی ہم نے بہتر خیال کیا ہے؛ اس لیے ہم انھیں ذکر نہیں کریں گے۔“
حافظ ابن حجرؒ کا تبصرہ
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں:
و وردت آثار أخرٰی أخرجہا ابن ابی حاتم والطبری ونقلہا کثیرٌ من المفسرین لا ینبغي التشاغل بہا، والذی أوردتہ منہا ہو المعتمد، والحاصل أن الذي کان یخفیہ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہو اخبار اللّٰہ ایاہ أنہا ستصیر زوجتہ“ (فتح الباری ۱۲/۵۰۳ دار طیبہ)
”کچھ دوسرے آثار بھی وارد ہوئے ہیں جن کی تخریج ابن ابی حاتم اور طبری نے کی ہے اور بہت سے مفسرین نے انھیں نقل کیا ہے۔ ان آثار میں لگنا مناسب نہیں ہے۔ میں نے یہاں جو ذکر کیا ہے وہی قابل اعتماد ہے۔ خلاصہ یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کو مخفی رکھا تھا وہ تھا، اللہ پاک کا آپ کو یہ بتادینا کہ زینب آپ کی زوجہ بنیں گی۔“
قاضی ابوبکر ابن العربی نے بھی ان ساری روایات کو ساقط الاسناد قرار دیا ہے۔ (احکام القرآن ۳/۵۷۷ دار ابن کثیر)
۲- روایات صحیحہ سے مخالفین کے دعوے کا بطلان
أ- یہ بات غلط ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ حضرت زینبؓ پر پڑی تھی جب کہ ان کے جسم کا کچھ حصہ کھلا تھا، اسی طرح یہ دعویٰ بھی محض افتراء ہے کہ حضرت زیدؓ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت محسوس کرکے حضرت زینبؓ سے دست برداری اور طلاق دینے کی پیش کش کی تھی؛ بلکہ روایات صحیحہ سے صرف اس قدر ثابت ہے کہ حضرت زید بن حارثہؓ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر حضرت زینبؓ کا شکوہ کیا اور طلاق کا ارادہ ظاہر کیا اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارادے سے باز رہنے اور تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کی؛ حالاں کہ آپ کو بہ ذریعہ وحی معلوم ہوچکا تھا کہ زینبؓ کی زید سے علاحدگی ہوگی اور وہ آپ کے حبالہٴ عقد میں آئیں گی؛ لیکن آپ نے اس کا اظہار نہیں کیا کہ لوگوں کو اگر معلوم ہوگا تو جاہلیت کے رسم کے پیش نظر طعن کریں گے کہ اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کررہے ہیں؛ چنانچہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیح البخاری کی یہ روایت دیکھیے:
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زید بن حارثہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر شکایت کی، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو نکاح میں رہنے دو، حضرت انس فرماتے ہیں: اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو چھپاتے تو اس آیت کو چھپاتے۔“ (صحیح البخاری کتاب التوحید، حدیث نمبر:۶۹۸۴)
امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں حماد بن زید سے اس کے علاوہ بھی دو طریق سے اس کی تخریج کررکھی ہے۔
ب: صحیح روایات کی روشنی میں مستشرقین کا یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہوجاتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نعوذ باللہ اپنی طرف سے منہ بولے بیٹے کا حکم کالعدم قرار دینے کی آیت اس لیے گڑھ لی تھی؛ تاکہ اس نکاح کی راہ ہموار ہوسکے؛ اس لیے کہ آیت نکاح سے ایک مدت قبل ہی متنبّی کی تحریم کا حکم جس آیت میں ہے یعنی سورئہ احزاب کی آیت نمبر ۵ نازل ہوچکی تھی۔
ادْعُوہُمْ لِأٓبَآئِہِمْ ہُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّہِ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوٓاْ ئَابَآئَہُمْ فَإِخْوَٰنُکُمْ فِی الدِّینِ وَمَوَٰلِیکُمْ․ (الاحزاب:۵)
چنانچہ صحیح بخاری (۴۸۰۰) میں حضرت ابوحذیفہ کا تذکرہ ہے جنھوں نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا۔ اس حکم کے نزول کے بعد ابوحذیفہ کی بیوی حضرت سہلہ بنت سہیل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر سالم کے تعلق سے اپنی پریشانی کا ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے بعد انھوں نے سالم کو اپنا دودھ پلادیا اور اس طرح سالم ان کے رضاعی بیٹے قرار پائے اور پردے وغیرہ کی دشواریوں سے نجات مل گئی (تفصیل کے لیے دیکھیے: ابوداؤد شریف، حدیث نمبر ۲۰۶۱)
اور یہ بات واضح ہے کہ سہلہ نے دودھ اسی وقت پلایا ہوگا جب کوئی شیرخوار بچہ ان کی گود میں رہا ہوگا اور تاریخی طور پر ثابت ہے کہ سہلہ ابوحذیفہ کے صرف ایک بیٹے محمد کا تولد ہوا ہے، جن کی عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت گیارہ سال تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ محمد کی پیدائش یا تو سن ایک ہجری میں ہوئی یا ہجرت سے کچھ قبل ہوئی۔ جس سے واضح ہے کہ آیت تحریم کا نزول حضرت زینبؓ کے نکاح سے قبل مدینہ منورہ کی ابتدائی زندگی میں ہی ہوچکا تھا۔ (دیکھیے: الرد بالتفصیل، ابن مریم ڈاٹ کام)
حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے قبل حضرت زید بن حارثہ کو منہ بولا بیٹا بنالیا تھا۔ اس لیے انھیں زید بن محمد کہا جاتا تھا؛ لیکن اللہ پاک نے جب اپنے ارشاد ”وما جعل ادعیائکم ابنائکم الخ کے ذریعے اس نسبت کو ختم کردیا تو اس کے بعد مزید تاکید اور وضاحت کے لیے زید بن حارثہ کے طلاق دینے کے بعد حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کردیا۔“ (تفسیر ابن کثیر ۶/۴۲۶)
ج: مستشرقین کا یہ الزام بھی بالکل غلط ہے کہ حضرت زیدؓ کے نکاح میں رہتے ہوئے ہی حضرت زینبؓ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کردیاگیا اور اس پر آیت نازل ہوگئی۔ اس لیے کہ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ حضرت زید کے طلاق دینے؛ بلکہ حضرت زینبؓ کی عدت مکمل ہونے کے بعد ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انھیں نکاح کا پیغام دیاگیا؛ چنانچہ صحیح مسلم کے کتاب النکاح میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے جو روایت ہے اس کا حاصل دیکھیے:
طلاق کے بعد ایام عدت پورے ہوئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ سے فرمایا: زینب کو میری طرف سے پیغام نکاح دے دو، حضرت زید فرماتے ہیں: جب میں زینب کے پاس پہنچا تو وہ میری نگاہ میں نہایت قابل عزت واحترام تھیں کہ میں ان کی طرف نظر نہ اٹھاسکا۔ یہاں تک کہ میں ان کی طرف پشت کرکے کھڑا ہوگیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آپ کے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آپ کو نکاح کا پیغام دوں“ حضرت زینبؓ نے فرمایا: میں اس بات کا جواب نہیں دے سکتی یہاں تک کہ اس بارے میں اپنے رب سے مشورہ نہ کرلوں، پھر اٹھ کر نماز استخارہ پڑھنا شروع کردی، ادھر دوسری طرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترنا شروع ہوگئی، جس میں اللہ پاک نے فرمایا کہ ہم نے آپ کا نکاح زینب سے کردیا ہے۔“ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بغیر اجازت کے حضرت زینبؓ کے پاس داخل ہوئے۔“ (صحیح مسلم: ۱۴۲۸)
۳- سورئہ احزاب کی آیت نمبر۳۷ کی صحیح تفسیر
سورئہ احزاب کی آیت نمبر ۳۷ میں جہاں اس واقعے کا تذکرہ ہے، اس کی خود قرآن مقدس اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں جو صحیح تفسیر ہے، اس کو نظر انداز کرکے ضعیف اور بے اصل روایات کا سہارا لینے کی وجہ سے بھی مسائل پیدا ہوئے اور مخالفین کے لیے دلچسپی اور ذات نبوت پر طعن کا سامان فراہم ہوگیا؛ اس لیے ان آیات کا ترجمہ اس کی صحیح تفسیر مختصر پس منظر کے ساتھ پیش کی جارہی ہے۔
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِی أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِ وَأَنْعَمْتَ عَلَیْہِ أَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللَّہَ وَتُخْفِی فِی نَفْسِکَ مَا اللَّہُ مُبْدِیہِ وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللَّہُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاہُ فَلَمَّا قَضَی زَیْدٌ مِّنْہَا وَطَراً زَوَّجْنَاکَہَا لِکَیْ لَا یَکُونَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ حَرَجٌ فِی أَزْوَاجِ أَدْعِیَائِہِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَراً وَکَانَ أَمْرُ اللَّہِ مَفْعُولاً (الأحزاب:۳۷)
”اور جب آپ اس شخص سے فرمارہے تھے جس پر اللہ نے بھی انعام کیااور آپ نے بھی انعام کیا کہ اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دے اور خدا سے ڈر اور آپ اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں سے اندیشہ کرتے تھے اور ڈرنا تو آپ کو خدا ہی سے زیادہ سزاوار ہے۔ پھر جب زید کا اس سے جی بھرگیا ہم نے آپ سے اس کا نکاح کردیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کچھ تنگی نہ رہے اور خدا کا یہ حکم تو ہونے والا تھا ہی۔“
صحیح اور مختصر تفسیر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کی گئی؛ لیکن ان کے مزاج باہم نہ ملے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی زبان کی تیزی اور اپنے معزز خاندان کی حیثیت کی وجہ سے ان میں موجود احساس برتری کا گلہ کرتے رہتے؛ جب کہ دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی سے اطلاع دی گئی تھی کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو طلاق دیں گے جس کے بعد ان کی شادی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوگی، ایک دن حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی اور انھیں طلاق دینے کا ارادہ ظاہر کیا؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید کو اس بات سے روک دیا؛ کیوں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی طلاق کے بعد اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرتے تو عرب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانہٴ تنقید بناتے؛ کیوں کہ زمانہٴ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کی بیوی سے شادی کرنا ممنوع تھا۔
اس پر حق تعالیٰ کی طرف سے محبوبانہ عتاب قرآن کی ان آیات میں نازل ہوا۔ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِی أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِ وَأَنْعَمْتَ عَلَیْہِ أَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللَّہَ وَتُخْفِی فِی نَفْسِکَ مَا اللَّہُ مُبْدِیہِ وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللَّہُ أَحَقُّ أَن تَخْشَٰہُ․ یعنی آپ اس وقت کو یاد کریں جب کہ آپ کہہ رہے تھے اس شخص کو جس پر اللہ نے انعام کیا اورآپ نے بھی انعام کیا، مراد اس شخص سے حضرت زیدؓ ہیں۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے پہلا انعام تویہ فرمایا کہ ان کو مشرف بہ اسلام کردیا ، دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف عطا فرمایا اورآپ نے ان پر ایک انعام تو یہ کیا کہ ان کو غلامی سے آزاد کردیا، دوسرا یہ کہ ان کی تربیت فرماکر ایسا بنادیا کہ بڑے بڑے صحابہ بھی ان کی تعظیم کرتے تھے۔ آگے وہ قول نقل کیا جو آپ نے زیدؓ سے بیوی کو طلاق نہ دینے اور خدا سے ڈرنے کے متعلق فرمایا: آپ کا یہ فرمانا اپنی جگہ صحیح و درست تھا؛ مگر من جانب اللہ ہونے والے واقعے کا علم ہوجانے اور دل میں حضرت زینبؓ سے نکاح کا ارادہ پیدا ہوجانے کے بعد زیدؓ کو طلاق دینے کی نصیحت ایک طرح کی رسمی اظہار خیرخواہی کے درجے میں تھی، جو شانِ رسالت کے مناسب نہ تھی، خصوصاً اس لیے کہ اس کے ساتھ لوگوں کے طعنوں کا اندیشہ بھی شامل تھا (دیکھیے: معارف القرآن مع آسان ترجمہٴ قرآن ۷/۱۷۱)
پوشیدہ امر کیا تھا؟ دراصل آیت بالا میں جو فرمایاگیا ہے ”وَتُخْفِی فِی نَفْسِکَ مَا اللَّہُ مُبْدِیہِ“ آپ اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا“ کے سلسلے میں بعض لوگوں نے بعض کمزور روایات کی بنا پر جو گزرچکیں، یہ کہہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید کو طلاق نہ دینے کا مشورہ دیتے وقت حضرت زینبؓ کی محبت اور زید کے طلاق دینے کی تمنا کو دل میں چھپا رکھا تھا اوراس غلط تفسیر کی وجہ سے مستشرقین کوایک افسانہ ترتیب دینے کا موقع مل گیا حالاں کہ صحیح بات وہی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید سے اس بات کا اظہار نہیں فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمارکھا ہے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دوگے اوراس کے بعد وہ بہ حکم الٰہی میری زوجیت میں آئیں گی، لوگوں کی تنقید کے خوف سے آپ دل میں ہی یہ بات چھپائے رہے۔
پہلی دلیل: اس کی بہت واضح دلیل جو خود قرآنِ کریم سے ثابت ہورہی ہے، وہ ہے کہ اللہ پاک نے فرمایاکہ آپ نے جس کو چھپا رکھا ہے اللہ اس کو ظاہر کردے گا اور ظاہر ہے اللہ پاک نے تزویج یعنی حضرت زینبؓ سے نکاح کو ہی ظاہر کیا ہے؛ چنانچہ فرمایا: ”فَلَمَّا قَضَی زَیْدٌ مِّنْہَا وَطَراً زَوَّجْنَاکَہَا“․
اللہ پاک نے اس کو ہرگز ظاہر نہیں کیا ہے کہ آپ نعوذ باللہ حضرت زینبؓ پر فریفتہ ہوگئے تھے، جیساکہ مخالفین کا خیال ہے۔ علامہ محمودآلوسیؒ فرماتے ہیں:
وحاصل العتاب لما قلت أمسک علیک زوجک، وقد أعلمتک أنہ ستکون من أزواجک، وہو مطابق للتلاوة لأن اللّٰہ تعالیٰ أعلم أنہ مبدي ما أخفاہ علیہ الصلاة والسلام، ولم یظہر غیر تزویجہا منہ فقال سبحانہ: زوجناکہا فلو کان المضمر محبتہا وارادة طلاقہا ونحو ذٰلک لأظہرہ جل وعلا، وللقصاص فی ہذہ القصة کلام لا ینبغی أن یجعل فی حیز القبول․ (روح المعانی ۱۱/۲۷۱)
”عتاب کا حاصل یہ ہے کہ آپ نے یہ کیوں کہا کہ بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دو حالاں کہ میں نے آپ کو بہ ذریعہ وحی بتادیا تھا کہ وہ آپ کی بیوی بنیں گی اور یہی آیت قرآنی کے مطابق ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے بتلادیا ہے کہ وہ اس چیز کو ظاہر کردے گا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپائے ہوئے تھے اوراللہ تعالیٰ نے آپ کے ہمراہ حضرت زینبؓ کے نکاح کے علاوہ کسی اور چیز کو ظاہر نہیں کیا، چنانچہ فرمایا: زوجناکہا، تو اگر زینب کی محبت ان کو طلاق دلانے کا ارادہ یا کوئی اور چیز چھپائی گئی ہوتی، تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی ضرور ظاہر فرمادیتے۔ اس واقعے میں خوب حکایت سازی کی گئی ہے جسے قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔“
دوسری دلیل: اللہ پاک نے اس آیت کے بعد ارشاد فرمایا ہے: ما کان علی النبی من حَرَج فیما فَرَضَ اللّٰہ لہ (الاحزاب:۳۸) ”ان پیغمبر کے لیے خدا تعالیٰ نے جو بات مقرر کردی تھی اس میں نبی پر کوئی حرج نہیں۔“
اس سے واضح ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت زینبؓ سے نکاح میں کوئی حرج نہیں تھا، اگر وہاں زینبؓ کی محبت اور زید کی طرف سے طلاق کی خواہش کی بنیاد پر نکاح ہوا ہوتا تو اس میں حرج عظیم ہوتا؛ کیوں کہ دوسرے کی بیوی پر نظر لگانا اور شوہر سے الگ ہوکر اپنی زوجیت میں لینے کی تمنا ناروا عمل ہے۔ خود اللہ رب العزت نے اس آیت میں عام ممانعت فرمادی ہے: لا تمدَّنَّ عَیْنَیْکَ الٰی مَا مَتَّعْنَا بہ أزْوَاجًا منہم، ولا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ واخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُوٴْمِنِیْن․ (الحجر:۸۸)
”آپ آنکھ اٹھاکر بھی اس چیز کو نہ دیکھیے جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو برتنے کے لیے دے رکھی ہے اور ان پر غم نہ کیجیے اور مسلمانوں پر شفقت رکھیے!“
تیسری دلیل: اللہ رب العزت نے حضرت زینبؓ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”فَلَمَّا قَضَی زَیْدٌ مِّنْہَا وَطَراً زَوَّجْنَاکَہَا لِکَیْ لَا یَکُونَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ حَرَجٌ فِی أَزْوَاجِ أَدْعِیَائِہِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَراً“ (الاحزاب:۳۷)
”اور جب زید کا اس سے جی بھرگیا تو ہم نے آپ سے اس کا نکاح کردیا؛ تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کچھ تنگی نہ رہے جب وہ ان سے اپنا جی بھرچکیں۔“
اس میں اس بات کی صراحت ہے کہ اس نکاح کی حکمت منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کے حرام ہونے کے تصور کو ختم کرنا ہے اور اسی لیے اللہ پاک نے حضرت زینبؓ سے آپ کا نکاح کرایا ہے۔ اس آیت سے بھی واضح ہوگیا کہ اس نکاح کا سبب زینب کی محبت اور زید سے طلاق کی خواہش ہرگز نہیں ہے اور فلمّا قضٰی الخ سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ زید نے اپنی ضرورت پوری اور زینبؓ کی کوئی حاجت نہیں رہی تو انھوں نے اپنے اختیار سے طلاق دے دی۔ (آخرالذکر دونوں دلیل کے لیے دیکھیے: الشفا ۲/۱۱۸، اضواء البیان ۶/۵۸۳)
امام بغویؒ اور قرطبیؒ کی رائے
امام بغویؒ نے اس تفسیر کو تحریر کرنے کے بعد لکھا ہے: وہذا ہو الأولیٰ والألیق بحال الأنبیاء وہو مطاق التلاوة․ ”انبیاء علیہم السلام کے حال کے زیادہ لائق اور مناسب ہے اور یہی آیت قرآنی کے مطابق ہے۔“ (معالم التنزیل ۳/۵۳۲)
امام قرطبیؒ نے اس قول کو اختیار کرتے ہوئے اسی کو محقق مفسرین اور علماء راسخین کا قول قرار دیا ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں: قال لہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی جہة الأدب والوصیة اتق اللّٰہ فی قولک وأمسک علیک زوجک وہو یعلم أنہ سیفارقہا ویتزوجہا، وہذا ہو الذي أخفی فی نفسہ، ولم یرد أن یأمرہ بالطلاق لما علم أنہ سیتزوجہا، وخشي رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن یلحقہ قول من الناس في أن یتزوج زینب بعد زید، وہو مولاہ، وقد أمرہ بطلاقہا، فعاتبہ اللّٰہ تعالیٰ علی ہٰذا القدر من أن خشی الناس في شيء قد أباحہ اللّٰہ لہ، بأن قال: أمسک مع علمہ بأنہ یطلق، وأعلمہ أن اللّٰہ احق بالخشیة، أي في کل حال، قال علماوٴنا رحمة اللّٰہ علیہم: وہذا القول أحسن ما قیل في تأویل ہٰذہ الآیة، وہو الذي علیہ أہل التحقیق من المفسرین والعلماء الراسخین کالزہری والقاضي بکر بن العلاء القشیري، والقاضي ابي بکر ابن العربي وغیرہم․ (تفسیر القرطبی ۱۴/۱۲۳)
ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیدؓ سے (جب انھوں نے زینبؓ کی شکایت کرکے طلاق کا ارادہ کیا) تربیت اور نصیحت کے طورپر فرمایا اپنی اس بات میں اللہ سے ڈرو اوراپنی بیوی کو طلاق مت دو؛ حالاں کہ آپ کو معلوم تھا کہ زید انھیں چھوڑدیں گے اور وہ آپ کی زوجیت میں آئیں گی، یہی وہ امر ہے جس کو آپ نے اپنے دل میں مخفی رکھا اورآپ نے انھیں طلاق کا حکم نہیں دیا جب آپ کو یہ معلوم ہوچکا تھا کہ ان سے آپ کا نکاح ہوگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈرتھا کہ لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوجائیں گی کہ آپ نے حضرت زینبؓ سے نکاح کرلیا ہے جو آپ کے متبنّیٰ زید کی زوجیت میں تھیں اور آپ ہی نے انھیں طلاق کا حکم دیا تھا، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی مقدارپر عتاب ہوگیا کہ ایک ایسے امر کے سلسلے میں آپ کو لوگوں کا ڈر ہوا جس کو اللہ پاک نے آپ کے لیے مباح قرار دیا ہے کہ آپ نے امسک ”طلاق مت دو“ فرمادیا حالاں کہ آپ کو معلوم تھا کہ زید ان سے علاحدگی اختیار کرہی لیں گے اور اللہ پاک نے آپ کو بتلایا کہ ہر حال میں اللہ ہی اس کا سزاوار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ ہمارے علماء رحمہم اللہ نے فرمایا: اس آیت کی تفسیر میں یہ سب سے بہتر قول ہے اور محقق مفسرین وعلماء راسخین مثلاً زہری، قاضی بکر بن علاء قشیری، قاضی ابوبکر بن العربی وغیرہم کا بھی یہی قول ہے۔“
حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں: آپ اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ تعالیٰ (آخر میں) ظاہر کرنے والا تھا۔ (مراد اس سے نکاح ہے حضرت زینبؓ سے درصورت تطلیق زید کے، جس کو حق تعالیٰ نے زوجناکہا میں قولاً اور خود نکاح واقع کردینے سے فعلاً ظاہر فرمایا) (بیان القرآن ۸۲۷ تاج پبلشرز)
دلائل عقلیہ سے الزامات کی تردید
(۱) اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب میں حضرت زینبؓ کی محبت اسی طرح اثرانداز ہوگئی ہوتی جیساکہ مستشرقین اور مفترین کہتے ہیں، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید کو اللہ سے ڈرنے اور طلاق سے باز رہنے کی تلقین نہ کرتے اورنہ اس کا انتظار کرتے کہ حضرت زید اپنا معاملہ آپ کے پاس لائیں؛ بلکہ اسی وقت جو آپ پر یہ کیفیت طاری ہوئی، حضرت زیدؓ کو خود ہی طلاق کا حکم دیتے۔
(۲) بعض مستشرقین کا الزام ہے کہ صرف حضرت زینبؓ سے نکاح کی راہ ہموار کرنے کے لیے یہ آیت نعوذ باللہ آپ نے خود گڑھ لی تھی، تو سوال یہ ہے کہ آپ ایسا حکم یا ایسی آیت کیوں وضع کرتے جس میں خود آپ پر عتاب ہے اور آپ کو تنبیہ کی گئی ہے؛ حالاں کہ آپ کو معلوم تھا کہ آپ کے متبعین ہمیشہ اس آیت کی بھی تلاوت کریں گے، اگر آیت آپ کی طرف سے ہوتی تو کم از کم وہ حصہ تو ضرور شامل نہ ہوتا جس میں خود آپ کو فہمائش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ آپ لوگوں کے ڈر سے کسی چیز کو چھپائے ہوئے تھے؛ اس لیے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتی تھیں:
لو کان النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم کامناً شیئًا من الوحی لکتم ہذہ الآیة (واذ تقول للذي أنعم اللّٰہ علیہ وأنعمت علیہ) (سنن الترمذی، حدیث نمبر:۳۲۰۸)
”اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی کسی چیز کو چھپانا ہوتا تو اس آیت واذ تقول الخ کو چھپاتے۔“
گویا ایک ایسی آیت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت اور بہ احسن وجوہ اداء امانت کی دلیل ہے، اسی کو مستشرقین نے آپ کی شخصیت پر طعن کا ذریعہ بنالیا ہے۔
(۳) مخالفین نے جن روایات کو بنیاد بناکر افسانہ سازی کی ہے، ان سب روایات کی تفصیل ایک دوسرے سے کئی صورتوں میں مختلف ہے، کچھ روایات میں مذکور ہے کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیمار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تیمارداری کے لیے ان کے گھر تشریف لائے؛ جب کہ دیگر روایات یہ بتاتی ہیں کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا گھر پر اکیلی تھیں اور ان کا سر ننگا تھا جب کہ دوسری روایات کے مطابق انھوں نے جلدی میں کپڑا لیا؛ جب کہ دوسری میں وہ نعوذ باللہ بالکل کپڑوں کے بغیر تھیں جب کہ دوسری طرف یہ روایات حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بھی بالکل مختلف تفصیل بیان کرتی ہیں جن میں سے کچھ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیوی حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سلوک کی شکایت کرتے ہیں اور کسی میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند کی بنیاد پر اپنی بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ کرتے ہیں اور انھیں اس صورت میں اپنی بیوی سے کوئی شکایت نہیں ہوتی۔ ان روایات کا باہمی تضاد ان کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔“ (وقار اکبر چیمہ، اقرأ، ڈاٹ کام)
(۴) مستشرقین کے افتراء کی پوری عمارت اس بیانیے پر ہے کہ اچانک حضرت زینبؓ پر آپ کی نظر پڑی اور آپ نعوذ باللہ مفتون ہوگئے، تو کیا حضرت زینبؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غیرمعروف تھیں اور کیا آپ نے اس سے پہلے انھیں نہیں دیکھا تھا کہ اس موقع پر آپ اچانک دیکھ کر بے قابوہوگئے؟ سب جانتے ہیں اور مستشرقین کو بھی اس کا اعتراف ہے کہ حضرت زینبؓ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قریب کی رشتہ داری تھی ، وہ آپ کی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی اور آپ کے گھر کی نواسی ہیں۔ وہ آپ کے سامنے پلی بڑھی اور جوان ہوئی ہیں اور قرابت اور ماحول کے اعتبار سے اس سے پہلے بھی نظر پڑتی رہی ہوگی۔ اس لحاظ سے وہ نہ تو آپ کے لیے کوئی نادر خاتون ہیں اورنہ غیرمعروف؛ لہٰذا عمر کے اس مرحلے میں نظر پڑتے ہی بے قابو ہوجانے کا الزام بھی محض اتہام اور حقیقت سے بعید تر ہے۔
(۵) اگر سول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا حسن وجمال فریفتہ کیے ہوئے تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی طرف سے نکاح کا پیغام کیوں نہیں دیا جو بہ آسانی مکمل اعزاز کے ساتھ منظور ہوسکتا تھا۔ اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ آپ زینبؓ کا نکاح حضرت زید بن حارثہ سے کررہے ہیں؛ حالاں کہ خود حضرت زینبؓ ابتداء ً اس پر راضی نہیں تھیں اور حضرت زیدؓ کو بھی ہم آہنگی نہیں ہوسکی۔
(۶) اگر اس نکاح کا وہی پس منظر ہوتا جو مستشرقین بہ زعم خود باور کرانا چاہ رہے ہیں، تو کیا منافقین ومخالفین جو ہر وقت ٹوہ میں رہتے تھے، اس کو موضوع بحث نہ بناتے اس لیے کہ اس طرح کی صورت حال معاشرتی اقدار وروایات کے خلاف تو ضرور تھی؛ لیکن ان کی مخالفت کا پورا زور صرف منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح پر ہے کسی اور پہلو پر نہیں۔ اس سے صاف واضح ہے کہ یہ بعد کے لوگوں کی ایجاد اور من گھڑت بات ہے۔
(۷) چند سوالات: ہم علی سبیل التنزل مان لیتے ہیں کہ مستشرقین نے مقاتل اور ابن اسحاق کی جس روایت کو لے کر بات کا بتنگڑ بنارکھا ہے وہ کسی درجے میں صحیح ہے تو بھی اس روایت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کون سا عمل مستشرقین کے اعتبار سے قابل گرفت ہے اِسے بھی واضح کیا جانا چاہیے؟
کیا آپ کا یہ عمل قابل گرفت ہے کہ اچانک آپ کی نظر حضرت زینبؓ پر پڑگئی اور آپ نے دل میں میلان محسوس کیا؟ کیا آپ بشر بلکہ افضل البشرنہیں ہیں۔
یا آپ کا یہ عمل قابل اعتراض ہے کہ آپ حضرت زینبؓ کے پاس ٹھہرنے اور اندر جانے کے بجائے سبحان اللہ مقلب القلوب کہتے ہوئے واپس لوٹ آئے؟
یا آپ کایہ عمل لائق مواخذہ ہے کہ آپ نے حضرت زیدؓ کو ادئیگی حقوق اور طلاق سے باز رہنے کی تاکید کی۔
یا آپ کا یہ عمل غلط ہے کہ تنگ آکر جب حضرت زیدؓ نے طلاق دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے شریعت کے مطابق باضابطہ نکاح ہوا؟
یا آپ کا یہ عمل ناروا ہے کہ آیت پاک کو جس میں آپ پر عتاب کا ذکر ہے، آپ نے من وعن امت کے سامنے پیش کردیا؟
اگر ان میں سے کوئی عمل غلط نہیں اور واقعی نہیں ہے تو اس سے یقینا مستشرقین کا سفسطہ اور خبث باطن خوب اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے۔
بعض مستشرقین کا اعتراف حقیقت
ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے مسئلے میں اکثر مستشرقین نے طعن والزام کی ہی راہ اختیار کی ہے۔ جیساکہ عرض کیاگیا اور اس کو کارل بروکلمان، جرجی زیدان اور بعض دوسرے معاصر عرب قلم کاروں نے خوب ہوا دینے کی کوشش کی ہے؛ لیکن حیرت انگیز طور پر مشہور مستشرق منٹگمری واٹ نے حقیقت پسندی سے کام لیا ہے اور تمام مستشرقین ومخالفین کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے؛ چنانچہ اس نے اپنی کتاب ”محمد فی المدینہ“ میں لکھا ہے: آخذوا ینمّقون القصص حول علاقاتہ بالنساء أو حبہ من النظرة الأولی لزینب“ (محمد فی المدینہ،ص۵۰۲) ”یہ لوگ عورتوں کے ساتھ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے تعلقات یا پہلی ہی نگاہ میں زینبؓ کی محبت میں گرفتار ہونے کے تعلق سے کہانیاں بنانے لگے ہیں۔“
اس کے بعد منٹگمری واٹ نے اپنی دانست اور تجزیے کے اعتبار سے اس نکاح کے چار اسباب بیان کیے ہیں:
پہلا سبب یہ تھا کہ اس کے ذریعے عرب کی ایک قدیم روایت اور غلط رواج کا خاتمہ کردیا جائے اور واضح کردیا جائے کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہے۔ اس کی مطلقہ سے نکاح درست ہے اور قرآن سے اشارہ ملتا ہے کہ ابتدا میں محمد رائے عامہ کی ناپسندیدگی کے اندیشے سے زینب سے نکاح نہیں کرنا چاہتے تھے پھر انھیں معلوم ہوا کہ یہ نکاح ضروری ہے۔ اللہ پاک نے طے کردیا ہے۔ (محمد فی المدینہ، ص۵۰۲)
دوسرا سبب یہ تھا کہ زینبؓ بنت جحش کا تعلق مکہ کے قبیلہٴ عبدشمس سے تھا، جس کی اپنی ایک حیثیت تھی، اس نکاح کا مقصد اس قبیلے کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنا بھی تھا (محمد فی المدینہ، ص۴۳۰)
تیسرا سبب یہ ذکر کیا ہے کہ اس نکاح کا سیاسی مقصد بھی تھا کہ زینبؓ کا قبیلہ ابوسفیان کے والد کا حلیف تھا اور ابوسفیان کی بیٹی سے نکاح سے قبل ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینبؓ سے نکاح کیا تھا۔ اور ابوسفیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک بڑی فوجی مہم کی قیادت کررہے تھے۔ (تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا کہ زینب سے نکاح کرکے کسی حد تک ابوسفیان کی عداوت کم کی جائے) (محمد فی المدینہ، ص۵۰۴)
چوتھا سبب یہ بتایا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا احساس تھا کہ زینبؓ حضرت زیدؓ سے ملول خاطر ہوگئی ہیں اور اب آپ ہی اس لائق ہیں کہ ان سے نکاح کرکے ان کی اشک شوئی کریں۔ (محمدفی المدینہ، ص۵۰۵)
منٹگمری واٹ نے اپنی بحث کو اس مدلل تجزیے پر ختم کیا ہے:
وبالرغم من القصص العاطفیة، من البعید أن یکون محمد قرأُسر بمفاتن زینب السجدیة․․ ولکن زینب حسین تزوجت محمدًا کانت في الخامسة والثلاثین من عمرہا وہي سن متقدمة بالنسبة للعربیة․ (محمد فی المدینة، منتجري واط، ترجمہ: شعبان برکات، ص۵۰۵-۵۰۶)
”جذباتی کہانیوں کے باوجود یہ دور کی کوڑی ہے کہ محمد، زینبؓ کی جسمانی کشش پر مفتون ہوگئے تھے۔ زینب کا جس وقت محمد سے نکاح ہوا ہے وہ ۳۵ سال کی تھیں اور یہ عربی خاتون کے اعتبار سے بڑھی ہوئی عمر ہے۔“
کتاب: دفاع سیرت طیبہ