اسلام کا قانون میراث 

از قلم:  مولانا محبوب فروغ احمد قاسمی
(استاذ حدیث وفقہ جامعہ حسنیہ کایم کلم کیرالا)

           حصول علم کے مختلف ذرائع ہیں ، ہر ایک کے لیے حدود متعین ہیں ان حدود میں رہتے ہوئے ہی علم کا حصول ہوسکتا ہے بشرطیکہ اس کے لیے لازمی شرطیں بھی پوری کی گئی ہوں ، اگر دائرہ سے باہر ہوکر کوئی علم حاصل کرنا چاہے تو ناکامی ومحرومی ہوگی۔

            بنیادی طور پر حصول علم کے ذرائع تین ہیں : (۱) حواس خمسہ ظاہرہ، یعنی آنکھ، کان ناک، زبان اور پورے جسم میں پھیلی ہوئی بالخصوص ہاتھوں میں پائی جانے والی قوتیں (۲) عقل وخرد (۳) وحی الٰہی، حواس خمسہ کا دائرئہ عمل محسوسات ہے بشرطیکہ مناسب مسافت ومناسب کیفیت کے ساتھ متصف ہوں ؛ چنانچہ آنکھ دیکھتی ہے۔ کان گفتگو سنتا ہے۔ ناک خوش بو وبدبو کا ادراک کرتی ہے۔ زبان چکھی جانے والی چیزوں کا ذائقہ بتاتی ہے اور قوت لامسہ مثلاً ہاتھ سے چھوکر اشیاء کی سختی ونرمی، حرارت وبرودت وغیرہ معلوم ہوتی ہیں ؛ مگر ایسا نہیں ہوتا کہ آنکھ گفتگو کو سننے لگے، زبان دیکھنے کا کام کرے، ناک ذائقہ بتائے۔ اللہ کی قدرت سے باہر تو نہیں ہے؛ مگر عادۃُ اللہ اس طرح جاری نہیں ہے۔ اگر کسی نے کان سے سننے کے بجائے دیکھنے کا دعویٰ کیا تو ہر شخص اس کو تھوتھو کرکے پاگل سمجھے گا؛ کیوں کہ وہ ایسی چیز کا دعویٰ کررہا ہے جو ’’دائرہ‘‘ سے باہر ہے؛ مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کان اگر چکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو کان بیکار ہوگیا۔ بیکار تو یہاں اس لیے ہوا ہے کہ اس کو اپنے دائرہ سے نکال دیاگیا، بہرحال حواس خمسہ کا دائرہ ’’محسوسات‘‘ میں منحصر ہے۔

            عقل وخرد اس سے اوپر کی قوت کا نام ہے، جب حواس خمسہ سے کام نہیں چل پاتا ہے تو عقل وہاں کام کرتی ہے، محسوسات کو چھوکر یہ تو معلوم کیاجاسکتا ہے کہ نرم ہے یا سخت، ٹھنڈا ہے یا گرم؛ مگر اس کا وجود کس طرح اور کیوں کر ہوا یہ حواس خمسہ کے سرکل سے باہر کی چیز ہے، اب عقل رہنمائی کرے گی اسی بنا پرایجادات کی کثرت ہوئی، نیز روز افزوں انکشافات کا سلسلہ جاری ہے اس لحاظ سے عقل کی اہمیت ووقعت مسلّم ہے، اس کا انکار ایک ثابت شدہ حقیقت کا انکار ہوگا؛ چوں کہ تمام انسانوں کی عقلیں یکساں نہیں ، بعض اوقات کچھ عوارض وموانع بھی آتے ہیں جن کی وجہ سے انسانی عقلوں میں تفاوت آجاتا ہے؛ اس لیے عقلاء کی تحقیقات وافکار میں نمایاں فرق بھی محسوس کیاجاتا ہے؛ لیکن ان سب کے باوجود اس کا دائرئہ عمل لامحدود نہیں ہے؛ بلکہ ایک حد پر پہنچ کر عقلیں بھی  سپر ڈال دیتی ہیں ، اس وقت کسی اور ہی رہنمائی کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے یہی وہ موقع ہوتا ہے کہ ’’وحی الٰہی‘‘ کا سہارا کام کرتا ہے؛ چوں کہ وحی الٰہی کامنہج وسرچشمہ اللہ کی علیم وخبیر ذات ہے؛ اس لیے ایک نقطہ کا بھی حقیقی فرق نہیں ہوتا خواہ بعض اوقات ہماری عقل کی پہنچ وہاں تک نہ ہو،بعد میں عقدہ کھلتا ہے تو انسان حیران رہ جاتا ہے، نیز وحی الٰہی آتی بھی عموماً ایسے ہی موقع پرجہاں عقل وحواس کا دائرہ ختم ہوجاتا ہے، اس سے یہ بات اخذ نہیں کی جاسکتی ہے ’’عقل وحواس‘‘ کی عظیم نعمتیں بے کار وبے سود ہیں ؛ بلکہ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ کوئی بھی شئی اپنے دائرہ کار کے باہر کارآمد نہیں ہے، اگر پھر بھی کام لیاجائے تو فائدہ وجانکاری کے بجائے نقصان وحیرانی وپریشانی ہاتھ آئے گی، علامہ ابن خلدون نے ایک مثال سے اس کو سمجھایا ہے، فرماتے ہیں :

            عقل کی مثال ایسی ہی ہے جیسے سونا تولنے کا ترازو، اس ترازو سے سونا تو تولاجاسکتا ہے؛ کیوں کہ سونا عام طور پر گرام وچھٹانک کے حساب سے تولاجاتا ہے؛ لیکن اسی ترازو میں پتھر ولوہا کو تولنا چاہیں جوکہ کوئنٹل وٹن کے وزن میں تولاجاتا ہے۔ اسے سونے کے ترازو میں تولنا یقینا فیل ہوجائے گا؛ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوسکتا کہ سونے کو تولنے والاآلہ بے کار و بے سود ہے۔ (مقدمہ ابن خلدون، ص۴۴۰، بحث علم کلام)

            خلاصہ یہ ہوا کہ تین ذرائع علم ہیں اور تینوں کے اپنے اپنے مراتب ودائرئہ کار ہیں ، ان سے ان کے حدود میں رکھتے ہوئے علم حاصل کیا جاسکتا ہے، سختی ونرمی، حرارت وبرودت وغیرہ کو جاننا ہوتو حواس کو کام میں لانا پڑے گا۔ کسی چیز کے وجود میں آنے کے کیا مراحل ہوسکتے ہیں اس کو جاننے کے لیے عقل کو استعمال کرناپڑے گا؛ لیکن انجام اچھا ہے یا برا، وہ خیر کا باعث ہوگا یا شرکا، اس سے نقصانات ہوں گے یا فائدے بالخصوص اخروی زندگی میں اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے ہماری عقلوں کی رسائی وہاں تک ہوجائے کوئی ضروری نہیں ہے۔ اس کے لیے ’’وحی الٰہی‘‘ کو تلاش کرنا پڑے گا، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری عقلیں فی الوقت چھپے شر ومخفی خیر تک نہیں پہنچ پارہی ہیں ؛ لیکن آیندہ کی نسلیں ایسی ہوں جو اپنی عقلوں سے بھی اچھائی وبُرائی کا ادراک کرلیں ؛ اس لیے کہ یہ بھی طے ہے کہ وحی عقلوں کے مناقض نہیں ہے صرف اتنا ہے کہ ہماری عقلیں ابھی نتیجہ تک نہیں پہنچ پارہی ہیں کیوں کہ ان میں اس قدر صلاحیت نہیں ہے، جیساکہ کمپیوٹر میں جو لوڈ کردیا جاتا ہے اسی کی معلومات فراہم کرتا ہے۔ جو لوڈ ہی نہیں اس کا نتیجہ نوفائونڈ ونو میچ لکھ کر دے دیتا ہے، جب کبھی اس میں لوڈ کردیا جاتا ہے تو نتیجہ ہماری تلاش کے مطابق آتا ہے، اسی نکتہ کو نظر انداز کردینے کی وجہ سے بہت سی مرتبہ اچھے خاصے لکھے پڑھے لوگوں کو دھوکہ لگ جاتا ہے اور احکامِ اسلام میں ان کو کیڑے نظر آنے لگتے ہیں ۔ نیز یہ آج کی پیداوار بھی نہیں ہے پرستارانِ عقل ہر زمانہ میں رہے ہیں اور سوچنے وسمجھنے کا یہی وطیرہ رہا جس کی وجہ سے غلطیاں کھاتی ہیں ؛ بلکہ بعد کے ادوار میں اس بابت سوچ کر تعجب بھی ہوتا ہے، کہنے والوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اپنی بہن سے شادی نہ کرنا آخر بے عقلی نہیں تو اور کیا ہے، اپنی خوبصورت بہن کو دوسرے کے حوالہ کرنا اور دوسری کسی خاتون کو اپنے گھر بسانا کہاں کی عقل مندی ودانشمندی ہے (الفرق بین الفرق للبغدادی، ص۲۹۷)

            یہی رائے آتش پرست مجوسیوں کی تھی، ان کے یہاں محارم سے نکاح کرنے میں کوئی عیب نہیں ؛ جبکہ دوسری طرف برادرانِ وطن ہندو قوم کا حال یہ ہے کہ رشتہ کی مثلاً چچازاد، ماموزاد، خالہ زاد بہنوں سے نکاح کرنا بڑا عیب اور انتہائی بے شرمی تصور کیا جاتاہے، ان دونوں نظریوں میں فیصلہ کس بنیاد پر ہوگا، عقل سے فیصلہ کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے، اس کا فیصلہ وحی کے ذریعہ ہی ہوسکتا ہے، نبی کے اقوال وافعال نیز نبی کے ماننے والے وصحبت یافتہ کے اقوال، جو کہ حقیقت میں نبی کے ہی ارشادات ہوتے ہیں ۔ اس بابت صحیح رہنمائی کرسکتے ہیں ، نبی کا ہر فرمایا ہوا، یا کیا ہوا من جانب اللہ وحی کے ذریعہ ہوتا ہے، قرآن نے اس کی تصریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایاہے:  وما ینطق عن الہوی، اِن ہو إلا وحی یوحی  وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتے ہیں ، جو کچھ کہتے ہیں وحی سے کہتے ہیں ۔

گفتۂ او گفتۂ اللہ بود              گرچہ ازحلقوم عبد اللہ بود

            اس کا فرمان حقیقت میں اللہ کا فرمان ہے چاہے اللہ کے بندے کی زبان سے بظاہر ادا ہورہا ہو۔

            دنیاوی امور میں بہت حدتک عقل کارآمد ثابت ہوتی ہے؛مگر جن امور کا راست تعلق دین اور آخرت سے ہو ان میں عقل سے ہدایت تک پہنچنا کم ممکن ہوتا ہے، دین کے احکام وہ ہیں جو قرآن وسنت میں بحیثیت احکام بیان کیے گئے ہیں ، ان میں سے بعض کا تعلق عبادات سے ہے تو بعض کا اخلاق وعادات سے بعض معاشی مسائل سے متعلق ہیں تو بعض آداب زندگی سکھانے سے متعلق، بعض وہ احکام ہیں جن کا تعلق زندگی کے لمحات سے ہے تو کچھ احکام وہ ہیں جو مرنے کے بعد سے متعلق ہیں ، وراثت کا تعلق بھی مرنے کے بعد سے ہے، اللہ پاک نے احکام کے بیان میں عموماً کلیات واصول پر اکتفاء کیا ہے؛ مگر وراثت کا باب نازک اور سنگین تھا؛ اس لیے اس باب کی جزئیات تک کو بھی واضح لفظوں میں بیان کردیاگیا ہے؛ کس وراث کو کتنا ملے گا کب ملے گا اور کب نہیں ملے گا ہر چیز واضح کردی گئی، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے ہی مضبوط لب ولہجہ میں اس علم کو حاصل کرلینے کی ترغیب دی؛ کیوں کہ اس کا سارا دارومدار وحی الٰہی پر ہے، نیز وحی کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے عقل صرف معاون ثابت ہوتی ہے، اس سے فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، اللہ کے رسول نے فرمایا:

          تعلموا الفرائض وعلموہ الناس فإنی امرأ مقبوض وإن العلم سیقبض تظہر الفتن حتی یختلف الاثنان فی الفریضۃ لا یجدان من یقضیہا (اخرجہ الحاکم: ۴/۳۳۳ وصححہ وأقرہ علیہ الذہبي في تلخیصہ)

            (فرائض کو سیکھو اور لوگوں کو سکھائو؛ کیوں کہ میرا انتقال ہوجائے گا اور یہ علم بھی اٹھالیا جائے گا، نیز فتنے ظاہر ہوں گے حتی کہ دو آدمی علم میراث کے مسئلہ میں اختلاف کریں گے اورایسا آدمی نہیں پائیں گے جو اس بابت فیصلہ کرسکے)

            خلیفۂ راشد حضرت عمد بن الخطابؒ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ایک فرمایا میں لکھا: 

          إذا لہوتم فالہوا بالرمي، وإذا تحدثتم فتحدثوا بالفرائض (مستدرک حاکم: ۴/۳۳۲  صححہ و اقرہ علیہ الذہبي في تلخیصہ)

            (جب کھیلو تو تیرجلانے کا کھیل کھیلو، جب بات کرو تو فرائض ومیراث سے متعلق بات کرو)

            صحابہؓ کے مابین اس علم کو سیکھنے اور سکھانے کا اہتمام بھی پایا جاتا تھا۔ میراث کے مجموعی احکام پر نگاہ ڈالی جائے تو مرنے والے کے مال کی تقسیم مساویانہ کے بجائے عادلانہ و منصفانہ ہے۔ یہ اسلامی شریعت کا امتیازی وصف ہے کہ منصفانہ تقسیم کرکے ہر قسم کی بے راہ روی پر لگا لگادیا ہے۔

دیگر اقوام میں میت کے مال کو تقسیم کرنے کا طریقہ

            اللہ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ’’مال‘‘ ہے، اس کے بغیر زندگی کی گاڑی استوار نہیں رہ پاتی ہے؛ اس لیے ہر شخص کی تگ و دَو کا محور مال ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ کی طلب میں اللہ کے تمام فرمان کو نظر انداز کردیا جاتا ہے، الٰہی فیصلہ کے بجائے ’’من چاہی‘‘ طریقوں کی پیروی کی جاتی ہے، جس کا نتیجہ عدل کے بجائے ظلم وجور اور صلاح کے بجائے فساد وضیاع ہوتا ہے۔ اگر ہم دنیا کی اقوام کا جائزہ لیں تو مال کی تقسیم کی بابت کچھ اسی طرح کا نظارہ سامنے آتا ہے، دائرۃ المعارف برطانیہ کی تحقیق کے مطابق اسلام سے قبل میت کے ورثاء از قبیل اراضی وجائیداد، دکان ومکانات اورنقود وسامان تجارت ہی کے وارث ہوسکتے تھے، جو استعمالی اشیاء ہیں : زیورات، پہننے کے کپڑے، برتن واسلحے ان میں وراثت کا تصور نہیں تھا یہ اشیاء یا تو میت کے ساتھ دفن کردی جاتیں یا ان کو نذرآتش کردیا جاتا، کبھی ایسا بھی ہوا کہ کچھ مال ورثہ کے پاس بطور یادگار باقی رہا اور کچھ مال ایام موت میں رسم ورواج انجام دینے پر جو صرفہ آتا تھا ان میں خرچ کیاجاتا تھا۔ (قانون الوراثۃ دائرۃ المعارف البرطانیہ: ۱۳/۷۹۲ بحوالہ تکملہ فتح الملہم:۴/۷)

            یہ تو عام میت کے متعلق دستور تھا، جو اہل ثروت ودولت یا صاحب حکومت وسلطنت ہوتے ان کے یہاں کی داستان تو اور بھی اندوہناک ہوتی، زندہ غلمان وباندیاں حتی کہ فوج وخدام تک مرنے والے کی قبر میں ٹھونس دیے جاتے، کبھی تو اس کے لیے بادشاہ خود اپنی زندگی میں اس کا انتظام کرتا تھا، جس طرح زندگی گزارنے کے لیے محل تیار کرتا تھا، زمین دوز محلات بھی مرنے کے بعد کے لیے تعمیر کرتا، یا دو پہاڑوں کے خلاء کو پاٹ کر اس غرض کو پورا کیاجاتا جس میں شاندار گیٹ، شاہی اصطبل، عالیشان مکان اور اس میں سجے ہوئے کمرے ہوتے اس مکان میں زندگی بھر کی وافر کائنات کو اس کے مرنے کے بعد رکھ کر بند کردیا جاتا تھا، اہرام مصر اس عکاسی کے لیے کافی ہیں بعد کے ادوار میں جب ان محلات وبرجوں کی یافت ہوئی، نیزلکھی ہوئی تحریریں پڑھنے میں آئیں تو سارا انکشاف ہوتا چلا گیا اور انسانی تاریخ اس بربریت والمیہ پر ہکا بکا رہ گئی۔

            وراثت کے تعلق سے عادلانہ قانون صرف مسلمانوں کے پاس موجود ہے، جس کا مدار نقل ونص پر ہے؛ مگر عقل ودانش کے خلاف بھی نہیں ۔ دوسری اقوام میں پائی جانے والی تقسیم سراسر ظلم پر مبنی ہے یا پھر مال کاضیاع لازم آتا ہے، یونانی قانون میں عورتیں میراث سے محروم رہتی تھیں ، قانون ارما، بدھ مت، ہندو دھرم ہر ایک میں عورتیں ظلم کی شکار رہی ہیں منوسمرتی (۱۸۱) کے مطابق ماں باپ کی تمام دولت کو بڑا بیٹا ہی لیتا تھا (معاشرتی مسائل دین فطرت کی روشنی میں مولانا برہان الدین سنبھلی، ص۱۸۱)

            ظلم وبربریت کا حال تو یہاں تک تھا کہ شوہر کی چتا پر بیوی کا ستی ہونا ایک مستقل نظریہ گڑھا گیا، جب عورت کو جینے کا حق نہیں تو وراثت سے حق پانے کا استحقاق کہاں ہوگا، آج کی ترقی یافتہ دور میں بھی نرینہ اولاد ہی غیرمنقولہ جائداد ومال کی مستحق سمجھی جاتی ہیں ، بیٹیوں اور بہنوں کو دینے کا رواج نہیں ، برادرانِ وطن سے یہ صفت ہم مسلمان گھرانوں میں بھی چاہی نہ چاہی آہی گئی کہ بیٹیوں کا مطالبہ کرنا بھی ایک قسم کی توہین تصور کیا جاتا ہے، اسلام نے جو نظام وراثت پیش کیا ہے وہ ہر طرح سے عدل و انصاف پر مبنی ہے چنانچہ اس نظام کے تحت:

            (۱) مرنے والے کی ہر شئی ہر وارث کو بلاکسی تفریق ملے گی، یہ الگ بات ہے کہ مقدار میراث میں بہت سی حکمتوں کے پیش نظر فرق بھی رکھا گیا ہے جس کو ہم منصفانہ وعادلانہ تقسیم سے تعبیر کرتے ہیں ، مساویانہ تقسیم سے ایک صنف کا بظاہر فائدہ ہوتا ہے؛ لیکن دوسری صنف ستم کی شکار ہوجاتی ہے، اسلام نے عدل وانصاف پر مشتمل نظام کی حمایت کی ہے خواہ تھوڑی دیر کے لیے ہماری عقلوں میں نہ آسکے مگر وقت وحالات کے گزرنے پر ساری حکمتیں کھلتی چلی جائیں گی۔

            (۲) میراث کی بابت اسلام کا یہ اصول بھی اہم ہے کہ مرنے والے کی میراث صرف اقرباء میں تقسیم ہوگی اجانب کے لیے اقرباء کے ہوتے ہوئے حصہ مقرر نہیں کیاگیا ہے، وہ اقرباء خواہ اصحاب الفرائض کی شکل میں ہوں یا عصبات ودیگر جہات کی قبیل سے، اسی لیے قرآن کریم نے متبنّیٰ و لَے پالک کے رواج کو کالعدم قرار دیا جس کی بنا پر زمانۂ جاہلیت میں حقیقی ونسبی اولاد کی طرح حق میراث بھی ثابت ہوجایا کرتا تھا۔

            (۳) اس نظام کا یہ بھی امتیاز ہے کہ ہر چھوٹا بڑا حتی کہ پیٹ میں موجود بچہ بھی میراث کا مستحق ہوتا ہے وارث ہونے کی حیثیت سے تمام وارث برابر ہیں کسی کو دینا اور کسی کو نہ دینا یہ ظلم ہے، زمانۂ جاہلیت میں میراث صرف بالغ وارث کو ملتی تھی جو قتال وجہاد کا جوہر دکھانے پر قادر ہوں ، ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں للرجال نصیب مما ترک  الوالدان إلخ  کی تفسیر کرتے ہوئے جس سبب نزول پر وشنی ڈالی ہے اس سے اس کی تائید ہوتی ہے۔

          عن عکرمۃ قال: نزل في أم کحلۃ وابنۃ کحلۃ وثعلبۃ وأوس بن سوید وہم من الأنصار، کان أحدہم زوجہا والآخر عم ولدہا، فقالت: یا رسول اللّٰہ! توفي زوجی وترکني وابنتہ فلم نورث، فقال عم ولدہا: یا رسول اللّٰہ! لا ترکب فرسًا ولا تحمل کلا ولا تنکئی عدوًا وتکسب علیہا ولا یکتسب، فنزلت للرجال نصیب مما ترک الوالدان۔ (تفسیر ابن جریر الطبری: ۴/۱۶۳)

            (عکرمہ کہتے ہیں : ام کحلہ، کحلہ کی بیٹی، ثعلبہ اور اوس بن سوید کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ سب انصار میں سے ہیں ۔ اوس وثعلبہ میں سے ایک ام کحلہ کا شوہر دوسرا کحلہ کے بچوں کا چچا ہے، ام کحلہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے شوہر کا انتقال ہوگیا اور اس نے مجھ کو اور اپنی بیٹی کو چھوڑا ہے پس ہم کو وراثت نہیں دی گئی، چچا نے کہا: یارسول اللہ! یہ خاتون تو نہ شہ سواری کرسکتی ہے اور نہ ہی کوئی ذمہ داری اٹھاسکتی ہے، کسی دشمن کو مجروح نہیں کرسکتی، اس کو کما کر دیا جاتا ہے خود کسب نہیں کرسکتی، تو آیت:  للرجال نصیب نازل ہوئی)

            (۴) اقربیت معیار وراثت ہے، اسلامی نظام کا یہ بھی امتیاز ہے کہ اس کی بنیاد رشتہ داری کی اقربیت پر ہے اسی وجہ سے قریب کا وارث بعید کے وارث کو بشرطیکہ جہت وراثت ایک ہو تو محجوب کردیتا ہے؛ لیکن دونوں قرابت میں مساوی ہوں تو پھر ایک دوسرے کو محجوب نہیں کرپاتا ہے، اسی بنیاد پر بھائی وبہن ایک درجے کے ہیں دونوں کو میراث سے حصہ ملتا ہے؛ بیٹا وبیٹی دونوں کو قرابت مساوی درجے کی ہے؛ اس لیے دونوں کو حصہ ملتا ہے، حقیقی دادا ودادی دونوں کو حصہ دیا جاتا ہے، اس کے برخلاف نصاریٰ کے یہاں میراث کا استحقاق کبیر السن ہونا ہے، لہٰذا سب سے بڑی اولاد میراث کی مستحق ہوتی ہے باقی ساری اولاد محروم ہوجاتی ہیں یہ سراسر ظلم نہیں تو کیا ہے۔

            بہرحال اسلامی نظام میراث کے یہ بعض امتیازی پہلو ہیں جن سے میراث کا مسئلہ مساویانہ کے بجائے عادلانہ و منصفانہ ہوگیا ہے۔

اسلام میں عورت کا حق میراث

            اس صنف نازک کو ہر دور میں مظلوم ومقہور کیاگیا، اسلام ایک واحد مذہب ہے جس نے عورت کو اس کا مناسب حق دلایا۔ میراث کا باب بھی ایسا رکھا گیا جس میں عورتوں کے ساتھ انصاف کا معاملہ ہو؛ لیکن عقل کے پرستاروں نے اسلام کے اس نظام پر بھی خوب واویلا مچایا ہے اورمچا رہے ہیں ، اصل میں ان کج فہموں نے جب ان کے اوپر وہی ذمہ داریاں ڈال دی جو مردوں پر ڈالی جاتی ہیں تو حقوق بھی مساوی دینے کا دعویٰ کرنے کے درپے ہوئے اور خود مساوی حق دیا نہیں مطالبہ یہ کیا کہ قرآن وحدیث میں آئے ہوئے حقوق کو جو عادلانہ ہے ان کو مساویانہ کردیا جائے، عورتوں کی بابت اسلام نے جس قانون میراث کو نافذ کیا ہے اس قانون کے تحت صرف چار حالتیں ایسی ہیں جن میں مرد وزن کے مابین فرق معلوم ہوتا ہے وہ چارحالتیں مندرجہ ذیل ہیں :

            (الف) بیٹی وبیٹا دنوں ہوں تو بیٹی کو بیٹا کے مقابلہ کم ملتا ہے، قرآن کا ارشاد ہے:  یوصیکم اللّٰہ في أولادکم للذکر مثل حظ الانثیین،  پوتے وپوتی کا حکم بھی یہی ہے۔

            (ب) ماں وباپ دونوں موجود ہوں ، اولاد نہ ہوں تو باپ کو ماں کے مقابلہ ڈبل ملتا ہے، قرآن کریم میں ہے فإن لم یکن لہ ولد وورثہ أبواہ فلأمہ الثلث  (اگر اولاد نہ ہو اور وارث والدین ہوں تو ماں کے لیے ثلث باقی دو ثلث باپ کے لیے)

            (ج) حقیقی یا علاتی بہن، حقیقی یا علاتی بھائی کے ساتھ ہوتو بھائی کو بہن سے زیادہ حصہ ملتا ہے۔

            (د) شوہر کا انتقال ہوتو بیوی کو چوتھائی یا آٹھواں حصہ ملتا ہے، جبکہ بیوی کا انتقال ہوتو شوہر کو نصف یا کم از کم چوتھائی حصہ ملتا ہے۔

          وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ أَزْوَاجُکُمْ إِن لَّمْ یَکُن لَّہُنَّ وَلَدٌ، فَإِن کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِن بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوصِینَ بِہَا أَوْ دَیْنٍ، وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ إِن لَّمْ یَکُن لَّکُمْ وَلَدٌ، فَإِن کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُم مِّن بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوصُونَ بِہَا أَوْ دَیْنٍ۔(النسائ:۱۲)

            (تمہارے لیے اگر بیویوں کے پاس اولاد نہ ہوں تو نصف ہے، پس اگر کوئی اولاد ہوتو تم کو وصیت ودین کے بعد ربع ملے گا؛ ان  بیویوں کے لیے تمہارے مال میں سے ربع ہے اگر تمہاری کوئی اولاد نہیں ہو، پس اگر تمہاری کوئی اولاد ہوتو ان کے لیے تمہارے مال سے ثمن ہے وصیت کی تنفیذ اور ادائے دین کے بعد)

            یہ وہ چار احوال ہیں جن میں جہت قرابت میں یکسانیت کے باوجود مقدار میراث میں یکسانیت نہیں ہے؛ لیکن صاحب ایمان کے لیے تو اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے رب جلیل وعلیم و خبیر کا حکم یہی ہے، ہمارا مال یا یہ کائنات حقیقت میں اسی مالک کی ملک ہے۔ اپنی ملک میں جو چاہے حکم دے جس کو جتنا مل رہا ہے وہ بھی احسان ہی ہے، ورنہ ایک غلام ومملوک تو اس کا بھی مستحق نہیں ؛ مگر اللہ کی ذات پر ایمان نہ رکھنے والے اور مریض ذہنوں و عقلوں کو اشکال ہوتا ہے کہ آخر مردوں کو زیادہ کیوں دیا جارہاہے؟

            دراصل ان کا یہ وہم خانہ زاد ہے اور خود ان کے طرزِ عمل کی پیداوار ہے، جب انھوں نے ساری ذمہ داریاں عورتوں سے بھی متعلق کردیں تو حقوق کے حصول کا استحقاق بھی اسی درجہ کا ہوگا؛ جبکہ اسلام میں مالی ذمہ داری خاص طور پر عورتوں پر عائد ہی نہیں ہے ساری ذمہ داری مردوں پر ہے، خواہ بیٹی ہو یا بہن، ماں ہو یا بیوی اگر ان کے شوہر موجود ہیں تو ان پر ورنہ ان کی اولاد پر اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں دیگر رشتہ داروں پر ترتیب وار مالی کفالت کا بوجھ آتا ہے، جو کچھ ان خواتین کو مل رہا ہے وہ بھی محفوظ ہی رہے گا، مثال کے طور پر ایک باپ کا انتقال ہوا، ایک بیٹا اور ایک بیٹی نیز تین لاکھ روپے ہیں ، بیٹے کو دولاکھ اور بیٹی کو ایک لاکھ کی رقم دی گئی، دونوں کی شادی ہوگئی اور مہر ایک ایک لاکھ متعین ہوئی، بیٹے نے اپنی بیوی کو ایک لاکھ دیا اب اس کے پاس صرف ایک لاکھ باقی ہے؛ جبکہ بیٹی کو شوہر کی جانب سے ایک لاکھ ملا تو اس کا مال دوگنا ہوگیا، مزید اس پر یہ کہ بیٹے کی بیوی کا نفقہ وغیرہ کا بوجھ بھی بیٹا کو برداشت کرنا پڑے گا جبکہ بیٹی کی ساری ذمہ داری پہلے اس کے بھائی پر تھی اب اس کے شوہر پر عائد ہوئی، کیا یہ عورت پر ظلم ہوا یا اس کے ساتھ حسن سلوک ہوا۔

            یہاں یہ شبہ نہیں کرنا چاہیے کہ تب تو نرینہ اولاد پر ظلم ہوا؛ اس لیے کہ نرینہ اولاد کو قدرت کی طرف سے کسب کی بے پناہ صلاحیت نوازی گئی، وہ اپنی اس خوابیدہ صلاحیت کو رفتہ رفتہ بروئے کار لاکر اس سے بھی زیادہ مال جمع کرسکتا ہے، یہی وہ نکتہ ہے جس کو مادہ پرستوں کی جماعت سمجھ نہیں پارہی ہے، دونوں کا خلقی ڈھانچہ اور فطری وطبعی ساخت و پرداخت کا تقاضا یہی ہے کہ ذمہ داریاں مردوں پر عائد کرکے میراث کے مال کو دو چند کردیا جائے؛ مگر ہوا یہ کہ اس فطری وخلقی تقاضا کو پسِ پشت ڈال کر دن بھر کی ڈیوٹی میں مردوں کی طرح عورتوں کو بھی لگادیا گیا جو اس صنف نازک کے لیے سراسر ظلم وزیادتی ہے، نہ کہ عدل و انصاف۔

            اوپر ذکر کردہ چار صورتوں کے علاوہ ایسی بہت سی صورتیں ہیں جن میں عورتوں کو میراث مردوں کے برابر بلکہ بعض ا وقات مردوں سے زیادہ ملتی ہے، درج ذیل سطور میں اس کی طرف صرف اشارہ کیاجارہا ہے:

            (۱) اگرماں وباپ موجود ہیں اور ساتھ میں میت کی مذکر اولاد بھی ہے تو اس صورت میں دونوں کو چھٹا حصہ ملتا ہے، صرف مؤنث اولاد ہونے کی حالت میں کبھی باپ کو زیادہ ملتا نظر ا ٓتا ہے تو اس کی وجہ اس میں ایک جہت کا مزید پایا جانا بھی ہے اور وہ اس کا عصبہ ہونا ہے، اگر باپ نہ ہو؛ بلکہ اس کی جگہ بہن ہو تو وہ حصہ بہن کو عصبہ ہونے ہی کی وجہ سے چلا جاتا ہے۔

            (۲) اخیافی یعنی ماں شریک بہن ہمیشہ اخیافی یعنی ماں شریک بھائی کے برابر حصہ پاتی ہے، قرآن کریم کا ارشاد ہے:

          وَإِن کَانَ رَجُلٌ یُورَثُ کَلاَلَۃً أَو امْرَأَۃٌ وَلَہُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ فَإِن کَانُوَاْ أَکْثَرَ مِن ذَلِکَ فَہُمْ شُرَکَاء فِی الثُّلُثِ (النسائ:۱۲)

            (اگر کلالہ وارث ہو، یا بیوی ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ہر ایک کے لیے سدس ہے پس اگر ایک سے زائد ہوں تو سب ثلث میں شریک ہوں گے)

            (۳) بعض ایسی بھی صورتیں ہیں کہ دو جہت کے مذکر ومؤنث ورثاء ہیں ان میں مؤنث کو مذکر کے برابر میراث ملتی ہے، مثلاً شوہر اور حقیقی بہن ہوتو شوہر کو نصف اور بہن کو بھی نصف ملے گا۔ اسی طرح شوہر موجود ہے، بیٹی وبہن بھی ہیں تو شوہر کو چوتھائی؛ جبکہ بیٹی کو نصف اور بہن کو شوہر کے برابر چوتھائی دیا جاتا ہے۔ شوہر، ماں ، اخیافی بہن و اخیافی بھائی ہیں تو شوہر کو نصف ماں وبہن کو چھٹا حصہ باقی چھٹا حصہ بھائی کو دیا جاتا ہے اس صورت میں بھائی وبہن دونوں کو برابر مل رہا ہے۔

            آپ نے دیکھا ان تین حالتوں میں اور پھر ان حالات کے تحت مختلف صورتوں میں عورت مرد کے برابر اور کسی کسی موقع پر عورت کو زیادہ بھی مل رہا ہے۔

غور فکر کرنے کا ایک طریقہ

            قرآن وحدیث میں جو حصے ہیں ان کو ’’فروض‘‘ کہا جاتا ہے اور ان فروض کے مستحقین کو اصحاب الفروض کہا جاتا ہے۔ وراثت میں سب سے قوی اور مؤثر ذریعہ ارث اصحاب الفروض ہونا ہے۔ اصحاب الفروض کو دینے کے بعد اگر مال باقی رہتا ہے تو دوسرے ورثہ کو تلاش کیا جاتا ہے اور دوسرے ورثہ میں عصبہ ہونے کو ترجیح دی جاتی ہے؛ کیوںکہ عصبہ سے میت کا تعلق بہت ہی قریب کا ہوتا ہے اور بہت سے مواقع میں یہ قرابت وجہ ترجیح بھی بن جاتی ہے؛ لیکن اس کے باوجود اگر مال اصحاب الفروض کو دینے کے بعد باقی نہیں رہا توعصبہ حرمان کا شکار بھی ہوجاتا ہے یعنی عصبات کو ملنا یقینی نہیں ہوتا؛ جبکہ اصحاب الفروض کو مال کے استحقاق میں تقدم حاصل ہے، کسی موقع پر کوئی صاحب فرض بھی محجوب ہوتا ہے؛ مگر اس وجہ سے کہ اس سے قوی یا قریب کا کوئی وارث موجود ہوتا ہے، اب غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ اصحاب الفروض کی کل تعداد بارہ ہیں ان میں سے خواتین (ماں، بیٹی، پوتی، حقیقی بہن، علاتی بہن، اخیافی بہن، دادی ونانی اور بیوی) کی تعداد آٹھ ہیں؛ جبکہ مردوں (باپ، دادا، اخیافی بھائی، شوہر) کی تعداد کل چار ہیں۔ یعنی یقینی ذرائع ارث میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔

            پھر اصحاب الفروض کے لیے جو حصص مقرر ہیں ان کی نوعیتوں پر غور کریں تو بھی زیادہ مال والے حصص عورتوں کے لیے ہی ہیں، جو حصص قرآن وحدیث میں مذکور ہیں وہ ہیں: نصف، ربع، ثمن، ثلثان، ثلث، سدس، سب سے بڑا حصہ ثلثان پھر نصف پھر ثلث ہیں، ثلثان دو بیٹیوں، دو پوتیوں، دو حقیقی اور علاتی بہنوں کے لیے مختص ہے۔ نصف ایک بیٹی، ایک پوتی، ایک حقیقی بہن، ایک علاتی بہن اور شوہر کے لیے ہے۔ گویا نصف کے مستحقین کی تعداد پانچ ہیں ان میں سے چار عورتیں ہیں۔

            ثلث پانے والے مستحقین ہیں: ماں، اخیافی بہن، اخیافی بھائی جبکہ کم از کم دو ہوں، ان میں بھی دو مستحق عورت ہی ہیں۔

            ربع کا مستحق یا تو شوہر ہے یا بیوی، سدس کے مستحقین کی تعداد آٹھ ہیں: ماں، دادی، پوتی، علاتی بہن، اخیافی بہن، اخیافی بھائی، باپ، دادا، ان میں بھی پانچ مستحقین عورتیں ہیں۔

            ثمن صرف بیوی کاحصہ ہے۔ ان حالتوں پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ عورتیں سترہ حالتوں میں اصحاب الفروض ہونے کی حیثیت سے میراث پاتی ہیں؛ جبکہ مرد صرف چھ حالتوں میں بحیثیت صاحب فرض میراث پاتے ہیں۔

            بہرحال اس تفصیل سے متجددین وملحدین کے شبہات دور ہوجانے چاہئیں کہ عورتوں کو مردوں کے مقابلہ کم میراث کیوں ملتی ہے، یہ تو صرف بعض حالات کا ہی قضیہ ہے نیز ان حالات میں بھی بہت سی مصلحتیں وحکمتیں پنہاں ہیں جن کو اوّل وہلہ میں عامی ذہن ادراک نہیں کرپاتا ہے، تعصب واعتراض کا چشمہ اتار کر اگر دیکھا جائے گا تو عین حکمت اور عین عقل کے موافق ہوںگے۔

مسئلہ عول ورد

            ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات حصص زیادہ ہوجاتے ہیں تو عدد مسئلہ یعنی مال کی تقسیم کے جو عدد متعین ہوتا ہے اس میں اضافہ کرنا پڑتا ہے جس کو عول کہا جاتا ہے، مثلاً ایک خاتون کا انتقال ہوتا ہے، اس کے ورثہ میں شوہر، حقیقی بہن وعلاتی بہن ہیں، شوہر نصف کا مستحق ہے، حقیقی بہن بھی نصف کی مستحق ہے؛ جبکہ علاتی بہن اس حالت میں سدس پائے گی، اب مال کو اولاً ۶ حصوں میں تقسیم کرکے تین تین حصے شوہر و حقیقی بہن کو دے دیے جائیںگے، نیز علاتی بہن کو سدس دیا جائے گا، اور مال کو چھ جگہ تقسیم کرنے کے بجائے سات جگہ تقسیم کیا جائے گا۔ اسی کو عول کہتے ہیں۔

            اسی کے بالمقابل رد ہوتا ہے۔ جب کچھ سہام بچ جاتے ہیں تو ان کو اصحاب الفروض پر رد کیا جاتا ہے، اس کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جبکہ کوئی عصبہ نہ ہو،اگر عصبہ ہو تو کوئی حصہ باقی نہیں رہتا ہے، اصحاب الفروض کی تعداد تو بارہ ہیں ان میں سے زوجین کو چھوڑ کر صرف دس ورثہ پر رد کیا جاتا ہے، زوجین میں دو حیثیتیں پائی جاتی ہیں، ایک حیثیت تو اقرباء کی ہوتی ہے، نکاح کی بنیاد پر رشتہ مصاہرت کا وجود ہوتا ہے، یہ بھی ایک مضبوط وقوی رشتہ ہوتا ہے جو زندگی بھر کا ساتھ نبھانے کے لیے ہوتا ہے اور آخری سانس تک اس رشتہ کو باقی سمجھا جاتا ہے، سانس رک جانے کے بعد بھی کچھ دنوں تک بعض مظاہر نکاح باقی رہتے ہیں پھر رفتہ رفتہ وہ بھی ختم ہوجاتے ہیں، اسی وجہ سے قرآن نے ’’رشتہ مصاہرت‘‘ کو نسبی قرابت کا قرین بناکر پیش کیا ہے، بنا بریں بہت سے احکام عائد ہوتے ہیں انہی احکام میں سے زوجین کے لیے میراث کا ثبوت بھی ہے؛ لیکن فرض کے بقدر لے لینے کے بعد پھر زوجیت کا یہ پہلو معدوم ہوجاتا ہے اب وہ اجانب کے ساتھ لاحق ہوجاتے ہیں، میراث چوںکہ اقارب کا حق ہے؛ اس لیے اصل میراث سے زوجین کو دیا جاتا ہے؛ مگر جب رد کا وقت ہوتا ہے تو ان کو مستثنیٰ رکھا جاتا ہے تاکہ دونوں جہتوں کے تقاضے پورے ہوسکیں، زوجین میں یہ قرابت بھی حکمی قرابت ہوتی ہے، ہاں زوجین میں اس حکمی قرابت کے علاوہ کوئی دوسری جہت قرابت موجود ہوتو اس جہت کا لحاظ بھی رکھا جاتا ہے؛ البتہ ایک صورت اور ہے جس میں زوجین پر رد بھی ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں، بیت المال کا نظام بھی ختم ہوچکا ہے تو اسی قرابت حکمی کو ترجیح دیتے ہوئے فقہاء نے زوجین پر رد کرنے کا فتویٰ دیا ہے؛ کیوںکہ کسی اجنبی کو دینے کے مقابلہ قرابت حکمیہ بہرحال اعلیٰ اقویٰ ہے۔ علامہ شامی لکھتے ہیں:

          لان سبب الرد ہو القرابۃ الباقیۃ بعد أخذ الفرض وقرابۃ الزوجیۃ حکمیۃ لا تبقی بعد أخذ الفرض فلا رد لانتفاء سببہ۔۔۔۔ وتقدم في الولاء أنہ یرد علیہما في زماننا۔ (ردالمحتار: ۵/۵۳۹ کتاب الفرائض، ط: رشیدیہ پاکستان)

            (اس لیے کہ رد کا سبب اسی قرابت ہے جو باقی رہے بقدر فرض لینے کے بعد، زوجیت حکمی قرابت ہے جو فرض لے لینے کے بعد باقی نہیں رہتی پس سبب کے نہ ہونے کی وجہ سے رد نہیں ہوگا۔ ولاء میں گذرچکا ہے کہ ہمارے زمانے میں زوجین پر رد ہوگا)

            متعدد صحابہؓ سے رد کا مسئلہ منقول ہے ان میں سے حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عثمان ابن عفان، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت علی نمایاں اسماء ہیں۔ حضرت زید بن ثابت انکار کرتے تھے، امام ابوحنیفہ وامام احمد کا مسلک بھی رد کے جواز کا ہے۔ شافعیہ کے یہاں اصلاً رد نہیں ہے مالکیہ سے بھی یہی منقول ہے؛ مگر امام مزنی کی رائے رد کی ہے، علامہ شامی نے تصریح کی ہے کہ متاخرین شافعیہ کے یہاں رد پر فتویٰ ہے، اسی طرح متاخرین مالکیہ نے بھی رد کا قول اختیار کیا ہے۔ (احکام الترکات والتراث شیخ ابوزہرہ، ص۱۶۸)

            حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کی ایک مرفوع حدیث سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے:

            بینا أنا جالس عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰ علیہ وسلم إذ أتتہ امرأۃ فقالت: إني تصدقت علی أمي بجاریۃ وإنہا ماتت، فقال: وجب أجرک، وردہا علیک المیراث۔ (مسلم شریف: ۱/۳۶۲، کتاب الصیام، باب فضل الصوم عن المیت)

            (حضرت بریدہ فرماتے ہیں: میں اللہ کے رسول کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی اور کہنے لگی: میں ایک باندی اپنی امی کو دیا تھا، میری امی کا انتقال ہوگیا ہے، تو اللہ کے رسول نے فرمایا: تمہارے اجر ثابت ہوچکا ہے اور میراث نے تمہاری جانب باندی کو پھیردیا ہے)

            اگر رد کا ضابطہ نہ ہوتا تو اس خاتون کو ماں کی جاریہ سے نصف ہی ملتا، یہاں مکمل کا دیا جائے بطور رَد ہی ہوسکتا ہے۔

            ظاہر ہے کہ میراث کی اصل قرابت ہے، پھر قوت قرابت اور قرابت کا لحاظ کیا جاتا ہے، جب عصبات موجود نہیں ہیں تو اصحاب الفروض سے زیادہ قوی قرابت کس میںہوگی؛ اس لیے رد کا قول اختیار کرنا نقل وعقل کی رو سے عین منشائے شریعت کے مطابق ہے۔

عول کی بابت خلجان اور اس کا جواب

            مریض اذہان عول کی بابت کش مکش کے شکار ہوجاتے ہیں؛ کیوںکہ عول میں ہر وارث کومقررہ مقدار سے کم مل پاتا ہے جو عقل کے خلاف بھی ہے اور شریعت کے حکم سے روگردانی بھی۔

            لیکن اس امت کا طبقۂ اولیٰ جن کی تربیت اللہ کی نگرانی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہوئی ہے۔ اس طبقہ سے زیادہ شریعت کو سمجھنے والا اور اسرار وحکم کا ادراک کرنے والا کوئی نہیں ہوسکتا، اگر ہم ان کو اس امت کی سب سے زیادہ عقلمندوں کی جماعت سے تعبیر کریں تو بجا ہوگا، اس طبقہ نے بڑی بڑی طاقتوں کو اپنی دانش مندی سے زیر کیا، بڑے بڑے حکمرانوں اور سیاست کے میدان کے شہ سواروں کو چنے چبوائے ہیں۔ یہ جماعت عول کے مسئلہ میں متفق نظر آتی ہے، سب سے پہلے یہ مسئلہ خلافت فاروقی میں زیربحث آیا، حضرت عمر فاروقؓ نے تمام اصحاب فقہ وفتاویٰ، نیز ارباب حل وعقد کے سامنے اس مسئلہ کو رکھا، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عول کا مشورہ دیا جس کو فاروق اعظم نے قبول کرتے ہوئے حکم نافذ کردیا۔ مجلس میں موجود کسی صحابی نے بلکہ آپ کی حیات تک کسی فرد نے اختلاف نہیں کیا علامہ شامی لکھتے ہیں:

          أول من حکم بالعول عمر رضي اللّٰہ عنہ، فشاور الصحابۃ فأشار العباس إلی العول، فقال أعیلوا الفرائض فتابعوہ علی ذلک ولم ینکرہ أحد إلا ابنہ بعد موتہ۔ (ردالمحتار: ۵/۵۵۵ باب العول، رشیدیہ، پاکستان)

            (سب سے پہلے عول کا فیصلہ کرنے والے حضرت عمرؓ ہیں؛ چنانچہ انھوں نے صحابہؓ سے مشورہ کیا تو عباس رضی اللہ عنہ نے عول کا مشورہ دیا، پس حضرت عمرؓ نے فرمایا: مسئلہ کو عائلہ بنادو، اس پر سب نے اتفاق کیا، کسی نے انکار نہیں کیا، صرف آپ کے صاحبزادے کا آپ کی وفات کے بعداختلاف ہوا ہے)

            طبقۂ صحابہؓ کے بعد تابعین نیز بعد کے ادوار میں اس بابت اختلاف نہیں ملتا، اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ چاروں ائمۂ مجتہدین عول پرمتفق ہیں، نیز یہ عقل کے بالکل موافق بھی ہے؛ کیوںکہ جو حضرات عول سے چڑھ رہے ہیں وہ حضرات اس وقت کیا کہیں گے جب کہ سارے ورثہ مستحق میراث ہیں؛ لیکن سہام کی تعداد ان کے استحقاق کے موافق نہیں ہے مثلاً شوہر، حقیقی بہن، ماں اور ایک اخیافی بہن ورثہ میں ہیں، شوہر کے لیے نصف، اسی طرح حقیقی بہن کے لیے نصف مقرر ہے۔ ماں و اخیافی بہن کے لیے سدس سدس ہیں۔ اولاً مسئلہ ۶ سے بنایا جائے گا اور شوہر وحقیقی بہن کو نصف نصف یعنی تین تین دے دیا جائے گا، ماں اور اخیافی بہن کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا تو مجموعہ سہام ۸ ہوجاتے ہیں، جمہور کے نزدیک تو مسئلہ کو عائلہ بناکر ۸ میں سے شوہر کو تین، حقیقی بہن کو تین، ماں واخیافی بہن کو ایک ایک حصہ کا مستحق قرار دیا جائے گا۔ ٹھیک ہے اس صورت میں تمام ورثہ کے حصص شریعت کے مقرر کردہ حصے سے کم ہورہے ہیں؛ لیکن جو حضرات عول کو تسلیم کرنے کے روادار نہیں ہیں وہ مذکورہ بالا مسئلہ میں کس وارث کو حذف کریںگے، اگر شوہر وحقیقی بہن کو دیتے ہیں اور ماں واخیافی بہن کو محروم کردیتے ہیں، یا ماں وشوہر کو دے کر حقیقی بہن کو کم کردیتے ہیں اور اخیافی کو مکمل ہی طور پر محروم کردیتے ہیں تو کہاں کا انصاف ہوگا؟ ماں کو محروم کرنے کی صورت میں تو بے انصافی کچھ زیادہ واضح ہوکر سامنے آئے گی؛ کیوکہ والدین، زوجین اور اولاد ایسے ورثہ ہیں جو کبھی بھی مکمل طور پر محروم نہیں ہوسکتے ہیں۔ ہاں کبھی کچھ کم کسی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ شریعت نے ماں واخیافی بہن کو زیرنظر مسئلہ میں وارث گردانا تھا، اس کے لیے حاجب کون آیا جس نے ان دونوں کو محجوب کردیا۔

            اگر ماں کو حصہ دیا جائے تو کتنا دیا جائے گا جو بھی مقدار دی جائے گی کسی نہ کسی وارث کا حصہ کم کرکے ہی دینی ہوگی، یہ تو عجیب بات ہے کہ حاجب بھی نہیں ہے پھر بھی آپ اس وارث کے حصہ کو کم کررہے ہیں۔ اس کو ہم ’’قسمۃ ضیزی‘‘ یعنی ٹیڑھی تقسیم سے تعبیر کریں تو زیادہ اچھا ہوگا۔ اس کے بالمقابل جس صورت کو علمائے امت اختیار کرتے ہیں کہ سب کے حصے سے تھوڑا تھوڑا کم کردیا جائے اور تمام ورثہ کو میراث کا حق دار بنادیا جائے، اس صورت میں کوئی بھی وارث محروم ہوتا ہوا نظر نہیں آئے گا، ہاں اتنا ہوگا کہ تھوڑا حصہ کم ہوجائے گا اور حصہ کا کم ہونا حصہ کے ختم ہونے سے تو اچھا ہی ہے۔ نیز حصے کا کم ہونا عول پر منحصر نہیں ہے۔ یہ تو بہت سی صورتوں میں ہوتا ہے، اگر کوئی حاجب آجائے تو بھی حصہ کم ہوجاتا ہے مثلاً دوبہن کی وجہ سے ماں کا حصہ ثلث سے سدس ہوگیا، اگر دو یا زائد حقیقی بہنیں ہوتیں تو ان بہنوں کا حصہ دوثلث ہوتا جو ان کے مابین تقسیم کرنے کی صورت میں یقینا نصف سے کم ہوتا ہے۔ اسی طرح بہن کی جگہ بیٹی رہتی تو شوہر کا حصہ نصف سے گھٹ کر ربع ہوجاتا، معلوم ہوا حصوں کا کم ہونا برا نہیں ہے؛ مگر کسی وارث کو استحقاق کے باوجود میراث نہ دی جائے تو یہ سراسر ظلم ہے اور تقاضائے عقل ونقل کے خلاف ہے۔