جواب:

آگ پاک نہیں کرتی بلکہ ختم کر دیتی ہے اور اس کے راکھ سے فضاء میں گندگی پیدا ہوتی ہے ۔
انسان جس کو اللہ تبارک و تعالی نے محترم بنایا ہے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے اس کو جلانے میں بڑی بے حرمتی ہوتی ہے ۔دیکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کے راگ کو لوگ روندتے ہیں۔ دیکھنے والوں کو عبرت کا موقع بھی نہیں ملتا نہ دفنانے کے بعد اس لاش سے روحانی تعلق باقی رہتا ہے اور بھی بہت سارے وجوہات ہیں جس کی بنا پر مردے کو دفنانا اس کی عزت و احترام میں اضافہ کرنا ہے چند وجہیں ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔
١.) اپنے شیخ یا دوست یا اعزاءوغیرہ کی لاش کو دہکتی ہوئی آگ میں جلانا یا لاٹھیوں سے اس کی ہڈی کو چورا چورا کرنا علاوہ بے ادبی کے انسانی رحم دلی اور محبت کے بھی خلاف ہے برخلاف اس کو عزت اور شان کے ساتھ ایک عمدہ طریقے پر زمین میں دفن کرنا گویا اس کو ایک مکان یا تہ کھانے میں پہنچانا ہے
٢.) یہ وجہ دنیا میں بھی مفید ہے کہ دفنانے میں بسا اوقات طبیبوں نے شبہ میں پڑ کر مردہ بتلا دیا اس کے بعد وہ قبر سے زندہ نکلا اس کے بعد برسوں تک وہ زندہ رہا اگر جلا دیا جاتا تو اب دوبارہ زندگی گزارنا ممکن نہیں تھا اسی طرح بسا اوقات کسی کو ظالموں نے زہر دے کر یا گلہ گھونٹ کر یا قتل کر کے دفن کر دیا اگر موقع پر مطلع ہو جائے تو اس لاش سے جرم اور مجرم کی پہچان ممکن ہوتی ہے مگر جلا دینے سے دوبارہ اس جرم تک رسائی جسم کے ذریعے سے ممکن نہیں ہے۔
لہذا سب سے پہلے احترام انسانیت پر نظر کرتے ہوئے دفنانا ہی ایک انسان کے ساتھ ادب ،محبت اور رحم دلی کا تقاضہ ہے۔