جواب :

چونکہ لوگوں کی زندگی، گھریلو انتظامات اور ملکی سیاست بغیر عقل کے مکمل نہیں ہو سکتے۔ شراب خوری کی عادت سے تمام انسانی نظام بگڑ جاتا ہے ۔لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ حقوق والوں کی حق تلفی ہوتی ہے ۔بےہودہ خواہشات پیدا ہوتے ہیں ۔بہن ،بیوی میں فرق مشکل ہوتا ہے۔ ایک عظیم فساد برپا ہوتا ہے جو دنیوی نظام میں عظیم خلل کا باعث ہوتا ہے۔ اس بنا پر شراب کو حرام قرار دیا گیا
اور جوا اس لیے حرام قرار دیا گیا کہ اس سے مال ضائع ہوتا ہے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں ۔اگرچہ ایک کا ظاہری اعتبار سے فائدہ ہوتا ہے لیکن باقی لوگوں کا نقصان ہوتا ہے اور جس کو فائدہ ہوتا ہے وہ سامنے والے کی رضامندی سے حاصل نہیں کرتا بلکہ اس میں ہارنے والا اپنی مال کے نقصان کا صدمہ لیے بیٹھا ہوتا ہے اور انسان کی جو فطرت ہے ایک دوسرے کی مدد کرنا اس فعل کی وجہ سے انسان اس صفت سے محروم ہو جاتا ہے۔
اور جو نقصان اٹھایا ہے یا تو وہ بدلہ لینے کے چکر میں رہتا ہے یا پھر دوبارہ جوش میں شرط لگاتا ہے تو پھر اگر اس کو نقصان اٹھانا پڑا تو اس کے دل میں ایک عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ بعض تو اس کھیل میں اپنے گھر و جائداد کو بیچ دیتے ہیں اس بنا پر جوا کو حرام قرار دیا گیا۔