جواب :
جن لوگوں کا خیال ہے کہ جنت و دوزخ کوئی چیز نہیں ان کے حساب سے گویا کہ قرآن میں جتنی بھی وعیدیں (چوری ،زنا ،ظلم و ستم، کفر و معصیت وغیرہ) پر آئی ہیں وہ ایسی ہیں جیسا کہ بچوں کو ڈرایا جاتا ہے ۔ایسے ہی جتنے انعامات کے تذکرے ہیں وہ محض پھسلانے کے لیے ہوتا ہے جواباً عرض ہے کہ یہ چیزیں یعنی ظاہری کلام سے حقیقت کا کچھ تعلق نہ ہونا ایک چھوٹے سے حاکم کے کلام میں بھی سخت عیب کی بات ہے اب احکم الحاکمین کے کلام میں یہ بات ہونا یہ بالکل مناسب نہیں ۔کیونکہ اس کو جھوٹ موٹ بہکانا بولتے ہیں اور اللہ اس سے بری ہے۔
جیسا کہ قرآن کریم کی آیت میں ہے تعالی الله ذلك علوا كبيرا
ومن اصدق من الله حديثا
لیکن اگر مان بھی لیا جائے حقیقت میں جنت و دوزخ نہیں ہیں یہ محض ترغیب و ترہیب کے لیے ہے۔ ترغیب و ترہیب اسی وقت ہو سکتا ہے جب تک ان لوگوں سے یہ راز چھپی ہوئی ہو اگر راز ظاہر ہو جائے تو ترغیب و ترہیب بالکل باقی نہیں رہ سکتی ۔
پھر معترض صاحب کا دعوی کرنا کہ ہمیں معلوم ہے کہ جنت اور دوزخ کوئی چیز نہیں ہے یہ سراپا غلط ہے ۔
اور یہ بھی واضح رہے مسلمانوں کو چند احکام کا پابند بنایا گیا ہے اس میں سے یہ بھی ہے کہ جنت اور جہنم کے متعلق ترغیب و ترہیب کرتے رہو تو یہ حکم اگر جنت اور دوزخ حقیقت میں نہ ہو تو بےجا ہوگا
لہذا جب دنیا میں مزدور مزدوری کرتا ہے تو اس کو اس کا بدلہ ضرور ملتا ہے ٹھیک اسی طرح دنیا میں جو اطاعت کے ساتھ زندگی گزارے گا اللہ اس کا بدلہ جنت میں دے گا اور جو نافرمانی کرے گا اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا لہذا جس کے لیے جو جگہ مناسب تھی اسی کو وہاں تک پہنچایا گیا ہے اور اسی کا نام جنت اور جہنم ہے ۔یہی تو عدل کا تقاضا ہے۔