جواب:
١.سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جو چیز تلوار یا ڈرا دھمکا کر اختیار کرایا جائے وہ ظاہراً تو لوگ اختیار کر لیتے ہیں لیکن وہ چیز کسی کے دل میں نہیں اترتی اگر اسلام تلوار کے زور سے زبردستی پھیلتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ سے زیادہ خلفائے راشدین (حضرت ابوبکر ،عمر، عثمان و علی رضی اللہ عنہم اجمعین )کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد ہی پھر دوبارہ لوگ اسلام سے واپس ہو جاتے اسلام چھوڑ دیتے ۔
٢.دوسری بات دنیا میں ہر انسان امن و امان قائم رکھنے کے حق میں نہیں ہوتا بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے فائدے کے لیے دنیا کے امن و امان کو خراب کرتے ہیں لہذا بعض اوقات امن قائم رکھنے کے لیے طاقت استعمال کرنا پڑتا ہے تاکہ جرم کے دروازے بند ہو جائیں اسی وجہ سے پولیس وغیرہ کا نظام ہے جو ایسے لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال کر کے امن و امان قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ٹھیک اسی طرح اسلام امن کو چاہتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اپنے ماننے والوں کو ظلم کے خلاف لڑنے کا حکم دیتا ہے بعض اوقات ظلم سے لڑنے اور اس کو ختم کرنے کے لیے طاقت کی ضرورت پڑتی ہے اسلام میں طاقت کا استعمال صرف ظلم کی خاتمے اور امن کے قائم کر نے کے لیے ہے اور اس کا منظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں بخوبی ملتا ہے۔
٣. اگر اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا جاتا تو بھارت میں مسلمانوں نے تقریباً 1000 سال حکومت کی اگر وہ چاہتے تو طاقت کے ذریعہ ہر غیر مسلم کو مسلمان کر لیتے آج بھارت کی 80 فیصد آبادی غیر مسلم کی ہے یہ تمام غیر مسلم اس بات کے زندہ گواہ ہیں کہ اسلام تلوار سے نہیں پھیلا۔
٤.اسی طرح سنہ 1986 عیسوی میں ریڈر ڈائجسٹ کے ایک مضمون میں 1936 عیسوی سے 1986 عیسوی تک نصف صدی میں دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کے پیروکاروں کی تعداد میں فیصد اضافے کے شمار دیے گئے تھے یہ مضمون صاف سچ نامی(The plain truth)اخبار میں بھی چھپا۔ ان میں جو فہرست میں سب سے اوپر تھا وہ اسلام تھا جس کے ماننے والوں کی تعداد میں 235 فیصد اضافہ ہوا اور عیسائیت میں صرف 47 فیصد رہا۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ اس صدی میں کون سی جنگ لڑی گئی کہ جس نے لاکھوں لوگوں کو مسلمان بنا دیا۔