جواب :
اسلام امن پسند مذہب ہے شانتی، سکون، الفت، انصاف و مودت اور عبادت میں یکجہتی چاہتا ہے اور جب کوئی اصلاح کی ان باتوں کو ختم کرنا چاہے جو کہ کافروں کا کام ہے تو ایسے کافروں کو پہلے دعوتِ اخلاق ،نرمی اور محبت وغیرہ سے سمجھایا جاتا ہے پھر ہٹ دھرمی اور ظلم و جور اور فساد پھیلانے کی وجہ سے ان کو ختم (قتل) کرنے کی اسلام تعلیم دیتا ہے اگر ان مفسد کافر کو قتل نہ کیا جائے تو زمین میں کوئی سکون سے نہ رہے گا انسان میں سکون چین ختم ہو جائے گا اور کوئی عبادت نہ کر سکے گا اور جی نہیں سکے گا یعنی کافر فتنہ و فساد ،قتل و غارت گری کریں گے لہذاان کی یہ سزا ہے نہ ماننے پر قتل ۔
دوسری بات کافر کے قتل ،کی وجہ کفر و شرک، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بغاوت ہے جس کی سزا تو قتل ہے مگر اللہ تعالی نے ان کی سزا میں تخفیف کر دی کہ پہلے اسلام قبول کرو ورنہ جزیہ ٹیکس ادا کرو (اسلامی حکومت ہو تو) ورنہ جنگ کرو (جنگ کا موقع ہو تو) اور جنگ میں بھی بچے بوڑھے عورتوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے ان کو قتل کیا جائے گا جو لڑنے آوے اگر ہر کافر کو قتل کرنے کی اسلام تعلیم دیتا تو دنیا میں ایک بھی کافر نہ بچتا سب مسلمان ہی ہوتے تو یہ اعتراض بالکل بیکار ہے کالعدم ہے۔
دراصل ملحدین جان بوجھ کر قرآن کریم کی آیات کا غلط مفہوم اخذ کر کے دنیا والوں کے سامنے اسلام کو پرتشدد مذہب بنانے کی کوشش کرتے ہیں ورنہ دیگر مذاہب کی کتابوں میں بھی اس بات کا ذکر موجود ہے کہ جب دھرم ادھرم کی لڑائی ہو تو تم اپنے مخالفین کو مارو اسی طرح جب آپ قرآن کریم کی آیات کو سیاق و سباق کے ساتھ پڑھیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ قرآن کبھی بھی نفرت یا تشدد کو فروغ نہیں دیتا جیسے قرآن میں ہے سورت ۲/ آیت191/ میں ہے کہ “جہاں بھی آپ ان سے ملے انہیں مار ڈالو” ۔
اب اس آیت کے سیا ق و سباق پر نظر ڈالیے اس میں عام بے گناہ کافروں کو مارنے کا حکم نہیں ہے آیت 190/ میں ہے کہ اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں لیکن حد سے تجاوز نہ کرو ،خدا حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا آیت 191/ میں ہے کہ جہاں تم ان سے ملو انہیں قتل کر دو اور جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا انہیں وہاں سے نکالو آیت 192/ میں ہے کہ لیکن اگر وہ باز آجائے تو خدا بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے خلاصہ یہ ہے کہ ملحدین کا یہ اشکال بھی بغض و عناد پر مبنی ہے۔