سوال :  اسلام میں سند کا سلسلہ فرضی ہے کیونکہ پہلے انٹرنیٹ نہیں تھا؟

جواب :
دین اسلام کا امتیاز ہے کہ اس کے تمام شرعی علوم اپنے کہنے والے کے ساتھ سند کے ذریعے قائم اور مربوط ہیں اسی امتیازی خصوصیت کی بنیاد پر علوم اسلامیہ کی استنادی حیثیت نہایت مضبوط ہے اس کے برعکس دوسرے مذاہب اور ادیان کے بنیادی عقائد سے لے کر عام علوم تک کی حیثیت نہ صرف مشکوک بلکہ ناقابل اعتماد ہے اسناد دراصل کسی بھی علم کے قابل اعتماد ہونے یا نہ ہونے کا اہم ذریعہ ہے سند کی ابتدا صغار صحابہ کے زمانے میں اس وقت ہوئی جب اسلامی ریاست داخلی فتنوں کی آماجگاہ بن گئی مسلمانوں میں مختلف عقائد اور آراء رکھنے والی جماعت وجود میں آگئی جس کا اثر براہ راست حدیثی روایات پر پڑا تو ائمہ حدیث نے سند کا مطالبہ شروع کیا فتنوں کے نمودار ہونے سے پہلے سند کا مطالبہ نہیں کیا جاتا تھا جب فتنہ واقع ہو گیا تو ائمہ حدیث راویوں سے کہنے لگے اپنے اساتذہ کا نام بتاؤ چھان بین کے بعد اہل سنت رواۃکی روایت قبول کرتے اور غیروں کی رد کرتے تھے ائمہ حدیث کے ہاں سند کا مذکورہ التزام اسی طرح پانچویں صدی کے اول نصف تک رہا پھر سند زمانے کے ساتھ ساتھ لمبی ہوتی گئی جو زمانہ دور رسالت کے قریب ہے اس کی سند مختصر ہے اور جو زمانہ بعید ہے وہاں سلسلہ سند نسبتا لمبا ہے اس کے بعد سند کے علم کو مزید ترقی دینے کے لیے علم رجال کا فن وجود میں آیا محدثین نے ہزاروں راویان حدیث کے حالات زندگی حصول علم اور طلب علم کی تمام معلومات مرتب کر دی ثقہ اور ضعیف ہونے کے اعتبار سے ان کا فرق بتا دیا ان کے درجات بنا کر سند کی چھان بین آسان کر دی سند کی بنیاد پر حدیث کو پرکھنے اور قبول کرنے کے لیے اصول اور ضوابط مقرر کیے جو اصول حدیث کے نام سے معروف ہے اسناد یہ صرف اہل اسلام اور اہل سنت پر اللہ تعالی کا عظیم احسان ہے جس سے وہ صحیح غلط اور سیدھے ٹیڑھے کا فرق کرتے ہیں اس طرح سند کی حفاظت کا سلسلہ مسلمانوں میں نسل در نسل محفوظ ہوتا ہوا چلا آرہا ہے جس کی مثال دنیا کی کسی اور مذہب میں نہیں ہے۔