جواب:
سکیولرزم یعنی ایک ایسا معاشرہ جس کی بنیاد لادینیت پر ہو ایسا سماج جہاں الحاد کا دور دورہ ہو جہاں مذہبی پابندی اور معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہو اور کوئی مذہب کسی دوسرے مذہب پر فوقیت کا حق نہ رکھتا ہو اسی سیکولر سوچ کے پیش نظر ملحدین کا یہ اعتراض مسلمانوں کے خلاف ہے کہ ان کے عقائد سب سے الگ ہے اور مسلمان مذہبی سوچ میں کسی سے کمپرومائز کیوں نہیں کرتے صرف اپنے رب کو ہی سب سے بڑا جانتے ہیں حالانکہ اسلام میں تمام مذاہب والوں کے ساتھ رواداری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے کسی بھی انسان سے نفرت کا حکم اسلام نہیں دیتا جبکہ سیکیولرزم کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ہر مذہب کے اپنے خاص نظریات ہے اور ہر شخص کو اپنے مذہبی نظریات کی پابندی کے ساتھ دوسرے مذہب والوں کا احترام ملحوظ رکھنا ہے لہذا مسلمانوں کا اپنے رب کو سب سے بڑا ماننا یہ سیکیولرازم کے خلاف نہیں ہے کیونکہ مسلمان دوسرے مذہب والوں سے نفرت نہیں کرتا ہے اور انسانوں کو آپسی رواداری ہمدردی کا سبق مذہب دیتا ہے مذہب سے بیزاری کی صورت میں قومی یکجہتی کا نعرہ فضول ہے کیونکہ ملحدین تمام مذاہب سے بیزار ہیں پھر مذہب کو ماننے والوں کے ساتھ آپس کی رواداری کی ان لوگوں سے امید رکھنا بیکار ہے۔