جواب :

 اگر اسلام تلوار کے زور سے پھیلتا تو یہ اسلام لوگوں کے دل میں کیسے اثر کرتا ؟بہت سارے واقعات بھرے پڑے ہیں۔ وہ لوگ جب اسلام نہیں لائے تھے جو اسلام دشمنی میں سب سے آگے تھے اور جب اسلام لے ائے اب اسلام کے لیے مر مٹنے کو تیار ہیں جیسے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے یہ دلیل ہے کہ ان کے اخلاق و عادات نہایت پاکیزہ اسی اسلام کی تعلیم کی بنا پر ہو گۓ تھے۔
ایک مثال سے سمجھیے جس سے بات سمجھ میں آجائے گی عام طور پر لوگ یہی تصور کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا دلیل میں وہ بادشاہوں کی جنگی واقعات پیش کرتے ہیں۔ مجھے بتائیے کیا کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ جنگ مطلقاً تمدن (civilization) کے خلاف ہے ؟ آج متمدن قومیں, (civilized nations) ضرورت کے موقع پر جنگ کرتی ہیں لیکن اس سے ظالم بادشاہ کی طرفداری ہرگز نہیں ہے۔ البتہ یقین کے ساتھ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خلفائے راشدین نے کسی کمزور بنیاد پر جنگ نہیں کی وہ کسی نہ کسی قوی سبب کی بنا پر جنگ کرتے تھے۔
اگر معترض کو جنگ کے متعلق اسلامی قانون معلوم ہوتا تو کبھی یہ اپنے زبان سے نہ نکالتا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے
جنگ کے قوانین (Laws)بہت سارے ہیں مگر اس وقت ایک مختصر سا قانون بیان کیا جاتا ہے اگر کوئی شخص تمہارے باپ بیٹے غرض تمام متعلقین کو قتل کر ڈالے پھر کبھی تمہارے قابو میں آجائے آتے ہی فوراََ اپنے زبان سے کلمہ طیبہ پڑھ لے تو حکم ہے کہ اس کو فوراََ چھوڑ دو اگرچہ تم کو یقین ہو کہ اس نے جان کے خوف سے کلمہ پڑھا ہے پھر بھی تمہیں اختیار نہیں کہ اسے قتل کرو اگرچہ اس کے بعد وہ تمہیں قتل کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہو۔
لہذا جس مذہب نے اتنی بڑی سہولت دوسروں کے ہاتھوں میں دے دی ہو اس کے باوجود اس کے بارے میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔