جواب :
اگر کسی قابل احترام شخصیت پر اعتراض ہو تو پوچھ کر حل کیے جاتے ہیں لیکن اگر سوالات گستاخیاں کرنے اور مذاق اڑانے کے لیے ہو تو کوئی اس کا حل نہیں کرے گا جواب نہیں دے گا بلکہ اسے سزا دے گا جیسے بیٹے کو اپنے حقیقی باپ ہونے پر شک ہو تو پہلے باپ اسے ڈانٹے گا، سزا دیگا، شک کیوں کیا؟ اتنے دنوں سے میرا کھا کر بڑا ہوا ہے اور اب شک کر رہا ہے؟ اور جب بیٹے کے سارے رشتہ دار بول رہے ہیں حقیقی باپ یہی ہے پھر بھی بیٹا نہیں مانتا اور بیٹا اعتراضات کھڑے کرتا ہے اور اپنے حقیقی باپ کو بدنام کرتا ہے یعنی کہ بغاوت پر اتر آتا ہے تو اب باپ بیٹے کو مارے گا بلکہ ساری دنیا والے بیٹے کو ماریں گے بغاوت کی وجہ سے، اسی طرح نبی کی گستاخی کر کے بغاوت کرنے والوں کی سزا سرتن سے جدا ہے جب دنیا کے سزا والے قانون پر اعتراض نہیں تو پھر اسلام کے قانون پر اعتراض کیوں؟گناہ جب سنگین ہوتا ہے تو اس کی سزا بھی سنگین ہی ہونی چاہئے تاکہ دوسری مرتبہ یہ گناہ کرنے کی کوئی ہمت نہ کرسکے۔